والد کا رتبہ …!

والد
Loading...

آپ کو اس دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ملیں گے جو خود سے بھی زیادہ آپ کو کام یاب دیکھنا چاہیں گے، لیکن والد اپنی اولاد کو خود سے زیادہ کام یاب دیکھنا چاہتا ہے۔

والدین، اﷲ کی عطا کردہ ایک ایسی انمول نعمت ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ باپ کی شفقت و سرپرستی اور ماں کا سایۂ عافیت انسان کو زندگی کی معراج تک لے جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ماں کی خدمت اور اطاعت پر زور دیا جاتا ہے جو کہ یقیناً درست بھی ہے، لیکن والد کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ قرآن مجید میں جا بہ جا لفظ ’’والدین‘‘ استعمال ہوا ہے، جس سے مراد ماں اور باپ دونوں ہیں۔ والد کا درجہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ماں کا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ماں اور باپ دونوں کی یک ساں طور پر خدمت کی جائے خصوصاً جب وہ بڑھاپے کی عمر میں پہنچیں تو ان کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

باپ کا دل اور سینہ بہت وسیع ہوتا ہے اس کے سینے میں اولاد کے لیے موج زن پدرانہ شفقت، اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے عمر بھر کی ریاضت، ان کی بہترین تربیت اور بہ حیثیت باپ اولاد کی تمام ذمے داریوں کو پورا کرنے کی سعی وہ عوامل ہیں جو ایک باپ کو بہترین اور مثالی انسان کے عہدے پر فائز کرتے ہیں۔ باپ جو صبح سے شام تک اولاد کی پرورش اور تربیت کے لیے بے چین رہتا ہے وہ اس خیال میں محو رہتا ہے کہ اخراجات کا انتظام کیسے ہو؟ والد کا مقام بیان کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ باپ جنّت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے، اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضایع کردے۔ ایک اور موقع پر ایک صحابیؓ نے آکر آپؐ کی خدمت میں شکایت کی کہ میرے والد میرے مال سے خرچ کرنا چاہتے ہیں، ایسے موقع پر میں کیا کروں؟ آپؐ نے جواب دیا کہ تُو اور تیرا مال تیرے والد ہی کے لیے ہے۔

انسان کی پیدائش کا مقصد ہی یہ ہے کہ اﷲ کو راضی کرے، اس کا آسان طریقہ آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ رب کی رضامندی والد کی رضا مندی میں ہے اور رب کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔ ہماری جتنی کام یابی ہے وہ سب باپ کی ہی بہ دولت ہوتی ہیں۔ اﷲ نے ماں اور باپ جیسا رشتہ محبت کا رشتہ بنایا ہے، یہ اخلاق سکھاتے ہیں، یہ جینا سکھاتے ہیں، یہ محبت اور محنت کرنا سکھاتے ہیں۔ بدترین ہیں وہ لوگ جو والدین جیسی نعمت ہوتے ہوئے بھی ان کی قدر نہیں کرتے ان کو خوش کرکے اپنے اﷲ کو راضی نہیں کرتے۔ ماں باپ سے رشتہ تو کسی لالچ کے بغیر ہونا چاہیے، ان سے انس ہوتا ہے، باپ رازداں ہوتا ہے، ان سے دل کی باتیں کرکے سکون محسوس ہوتا۔ جب ہم باہر سے گھر آتے ہیں تو ماں کا چہرہ دیکھنے کے لیے بے چین ہوتے ہیں اور جب والد صاحب گھر آتے ہیں تو ان کا چہرہ دیکھ کر سکون پاتے ہیں۔

Loading...

قربانی کے فضائل و مسائل ….!

ماں اور بیٹی آپس میں سہیلی جیسی ہوتی ہیں تو باپ اور بیٹا بھی ایک وقت ایسا آتا ہے کہ دوست بن جاتے ہیں۔ باپ کی زندگی اس کا فخر اپنے بیٹے کی کام یابی میں پنہاں ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ماں کی شان کے شایان شان ہزاروں صفحات دنیا کے ہر ادب میں موجود ہیں لیکن باپ کے آنسو، اس کی محنت، اس کی مشقت، اس کی تلخی ایام کو بیان کرتے وقت اکثر شعراء و ادیبوں کا قلم حق ادا کرنے سے محروم نظر آتا ہے۔ دفاتر کے جنگل میں سر جھکائے اولاد کے لیے رزق حلال کی جستجو میں محو انسان جس کو ہم والد کہتے ہیں وہ اپنی اولاد کے نوالوں کی خاطر کہاں کہاں جھک جاتا ہے، کہاں کہاں اپنی عزت نفس بھی پس پشت ڈال دیتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ یہ تب تک نہیں جان پاتے جب تک ہم خود والد کے عظیم درجہ پر فائز نہ ہو جائیں۔

والد سارا دن کرب سے گزر کر بچوں کے لیے رزق، تن ڈھانپنے کے لیے لباس اور تعلیم کی خاطر اپنی جوان ہڈیوں کو بوسیدہ کرتا ہے تو اس وقت اولاد نہیں جان پاتی کہ کہاں کہاں ایک باپ اپنے ضمیر کا سودا کر جاتا ہے۔ تمام مسائل جھیل کر باپ خود جل کر، مٹ کر بچوں کے چہروں پر خوشی لانے کی کوشش میں باپ کب بوڑھا ہو جاتا ہے اس کا اندازہ خود باپ کو کبھی ہو ہی نہیں پاتا۔ والد زمانے کی تند و تیز دھوپ میں ایسا شجر سایہ دار ہے جو دھوپ کی تمام تمازت سہہ کر اپنے بچوں کو چھاؤں عطا کرتا ہے۔

اس کے چہرے کے جُھریاں اس کے بچوں کو جوانی نصیب کرتی ہیں۔ اس کی جھکی کمر کی بہ دولت اولاد کا سینہ چوڑا اور سر بلند ہوتا ہے۔ یہ وہ سمندر ہے جس کی ہر بوند اس کی اولاد کے لیے ہوتی ہے، وہ خود پیاسا رہ کر اولاد کے حلق تر کرتا ہے، خود بھوک برداشت کر کے اولاد کے شکم کی آگ ٹھنڈی کرنے والے انسان کو دنیا باپ کہتی ہے۔ یہ ایسا سہارا ہے جو بیٹی ہو یا بیٹا ان کی پرسکون نیند کی خاطر اپنی بھرپور جوانی رت جگہوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ اسے خبر ہوتی ہے کہ وہ سودا نہیں فرض ادا کرتا ہے لیکن اسے کسی صلے کی تمنا ہوتی ہے نا ستائش کی آرزو۔ وہ تو بنا ہی قربانی ایثار کی مٹی سے ہوتا ہے جو خود اپنی قربانی دے کر اولاد کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

کاش! اولاد باپ کی زندگی میں اس کو سمجھ کر اس کو وہ مقام دے سکے، جس کا وہ حق دار ہوتا ہے۔ یہ واحد ہستی ہوتی ہے جو خود مٹ کر اولاد کو وجود عطا کرتی ہے۔ اپنے والدین کی قدر کریں اس کے سے قبل آپ کے پاس پچھتاوا اور آنکھوں میں بس آنسو رہ جائیں۔

(Visited 9 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں