ورلڈکپ 1992 : بورڈ نے ٹرافی قذافی اسٹیڈیم میں سجا دی

لاہور: پاکستان کی ورلڈ کپ فتح کو 28 سال مکمل ہوگئے جب کہ کرونا وائرس کی وجہ سے سالگرہ نہ منائی جا سکی۔

25 مارچ 1992 کو میلبورن میں کھیلے جانے والے فائنل میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر تاریخ میں پہلی اور آخری بار ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا، گروپ مرحلے میں بڑی مشکل سے سفر جاری رکھنے والے گرین شرٹس فارم میں آئے تو پھر کسی حریف کو خاطر میں نہیں لائے اور فیورٹ نہ ہونے کے باوجود مشن مکمل کرتے ہوئے دنیا کو حیران کردیا،

ٹیم کی قیادت کرنے والے عمران خان نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور اس وقت ملک کے وزیراعظم ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں پی سی بی سالگرہ کی تقریب کا اہتمام نہیں کر سکا، البتہ کرسٹل ٹرافی کو قذافی اسٹیڈیم میں رکھ کر تصویر اور یادگار سفر کی ویڈیو جاری کر دی۔

loading...

پی ایس ایل کے بقیہ میچز کب ہوسکتے ہیں ….؟

1992 کو میلبورن میں کھیلے جانے وال ےفاتح ٹیم کے 2 ارکان رمیز راجہ اور وسیم اکرم نے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ فتح کے بعد قوم نے ہمیں ہیرو کا درجہ دیا، ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے تو نصف گھنٹے کا سفر 6 گھنٹے میں طے ہوا۔

وسیم اکرم نے کہا کہ اس فتح سے دنیا میں پاکستان کی پہچان ہوئی، ہم سب کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی، بعد ازاں ہم میں سے کئی، کوچ، کپتان بنے، عمران خان کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا کہ ایک تو سیاستدان اور وزیر اعظم بھی بن گیا۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں