پاکستان کی آزادی اظہار رائے کے نام پر منظم اسلامو فوبیا مہم کی شدید مذمت

اسلامو فوبیا
Loading...

اسلام آباد: پاکستان نے آزادی اظہار رائے کے نام پر منظم اسلامو فوبیا مہم کی شدید مذمت کی ہے۔

دفتر خارجہ نے اتوار کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کچھ ترقی یافتہ ممالک میں حضور اکرمۖ خاتم النبیین کی عظمت کے خلاف توہین آمیز کارروائی اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی سخت مذمت کرتا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم کچھ سیاست دانوں کی جانب سے پریشان کن بیانات پر مزید خوفزدہ ہیں کہ وہ آزادی اظہار کی آڑ میں ایسی گھناؤنی کارروائیوں کا جواز پیش کرتے ہیں اور صرف سیاسی فوائد کیلئے دہشت گردی کو اسلام سے منسلک کرتے ہیں۔

ملک اس وقت چیلنجز کا شکار ہے، چوہدری سرور

خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بدقسمتی سے فرانسیسی صدر نے دہشتگردوں کی بجائے اسلام پر حملہ کرکے اسلامو فوبیا کی حوصلہ افزائی کرنے کا انتخاب کیا ہے۔

آج ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ قائد کی پہچان انسانوں کو متحد کرنا ہے جیسا کہ نیلسن منڈیلا نے تقسیم کرنے کی بجائے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ وقت ہے جب صدر میکرون دوریاں بڑھانے اور ایک خاص گروہ کو دیوار سے لگانے جس سے بنیاد پرستی کو سازگار ماحول میسر آتا ہے کی بجائے ان کے زخموں پر مرہم رکھتے اور شدت پسندوں کو جگہ دینے سے انکار کرے۔

Loading...

وزیراعظم نے کہاکہ بدقسمتی سے میکرون نے دہشت گردوں کی بجائے اسلام پر تنقید کرکے اسلام فوبیا کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ صدر میکرون بلا سوچے سمجھے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات پرحملہ آور ہوئے ہیں اورانہیں مجروح کرنے کا سبب بنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گرد ہیں جو معاشرے میں تشدد پیدا کرتے ہیں چاہے وہ مسلمان ہوں گورے انتہاپسند یا نازی نظریہ رکھنے والے انہوںنے کہاکہ لاعلمی پر مبنی عوامی بیانات مزید نفرت اسلام فوبیا اور شدت پسندی کو ہوا دینے کی وجہ بنیں گے۔

ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مذہب اور اعتقاد کی بنیاد پر غذائی قلت، عدم رواداری، بدنامی اور تشدد پر اکسانے کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار کریں۔

ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے نسل پرستی، الٹر نیشنل ازم اور پاپولزم کے وقت ہمیں پرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا۔

(Visited 29 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں