ویکسین کے کلینیکل ٹرائل کے کیا کیا مراحل ہوتے ہیں…؟

کلینیکل ٹرائل
Loading...

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی مختلف ویکسینز کی تیاری پر کام جاری ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ویکسین کے کلینیکل ٹرائل کے آغاز سے لے کر اسے منظور کیے جانے تک کیا کیا مراحل ہوتے ہیں؟

امریکی فوج کا والٹر ریڈ کا تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کا کلنیکل آزمائشی تجربات کا مرکز، کوویڈ 19 کی ویکسینز کے کئی ٹرائلز کر رہا ہے۔ اس مرکز کی ڈائریکٹر، لیفٹننٹ کرنل میلنڈا ہیمر کہتی ہیں، ویکسین کے وسیع پیمانے پر کیے جانے والے کلینیکل آزمائشی تجربات انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ویکسین کی جانچ پڑتال کے عمل میں ہم انہیں انتہائی اہم قدم یا حتمی قدم کہتے ہیں۔

ان سے خوراک اور دواؤں کا ادارہ یہ جان سکتا ہے کہ آیا کوئی ویکسین اتنی زیادہ محفوظ اور مؤثر ہے کہ اسے وسیع پیمانے کے عوامی استعمال کی اجازت دی جائے۔

ماڈرینا کی کوویڈ 19 کے آزمائشی تجربات پر تحقیق کی سربراہ، میامی یونیورسٹی کی ڈاکٹر سوزین لوئس کہتی ہیں کہ حقیقی معنوں میں یہ بات بہت اہم ہے کہ یہ ویکسین ہر ایک کے لیے مؤثر ہو، یا اگر مؤثر نہیں ہے تو ہم سمجھ سکیں کہ کیوں نہیں ہے۔

امریکا میں اگر یہ نتائج اس کے متعلق کافی معلومات فراہم کریں کہ ویکسین کس طرح کام کرتی ہے، کیا یہ محفوظ ہوگی اور متعدی بیماری کے خلاف انسانوں میں اچھی طرح کام کرے گی، تو ویکسین تیار کرنے والے ویکسین کے کلینیکل آزمائشی تجربات کے لیے ایف ڈی اے سے اجازت کی درخواست کرتے ہیں۔

انسانوں پر کلینیکل آزمائشی تجربات اس لیے کیے جاتے ہیں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ ویکسین انسانوں کے لیے محفوظ اور مؤثر ہے یا نہیں۔ عام طور پر اس کے 3 مراحل ہوتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں رضا کاروں کے ایک چھوٹے گروپ کو ویکیسن لگائی جاتی ہے تاکہ محققین ویکسین کی مختلف خوراکوں سے اس کے محفوظ ہونے کا جائزہ لے سکیں۔

محققین یہ معلوم کرتے ہیں کہ آیا ویکسین کی خوراکوں کے بڑھانے سے منفی ردعمل پیدا ہوسکتے ہیں، اور اگر ممکن ہو تو ویکسین سے پیدا ہونے والے مدافعتی ردعمل کی حد کے بارے میں ابتدائی معلومات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔

دوسرے مرحلے میں بے ترتیب اور محدود جائزوں میں کئی سو رضا کاروں کو یا تو ویکسین یا پلیسبو (نقلی ویکسین) یا ایف ڈی اے کی منظور شدہ کوئی ویکسین لگائی جاتی ہے۔

اس مرحلے پر محققین سلامتی پر نظر رکھے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ مختصر مدت کے ذیلی اثرات یا خطرات اور ویکسین کے مؤثر پن کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تیسرے مرحلے میں عام طور پر ہزاروں افراد کو ویکسین لگائی جاتی ہے۔ ویکسین کے بعض کلینیکل تجربات میں کئی ہزار افراد شامل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال کوویڈ 19 ویکسین کے جاری تجربات ہیں جس میں لاکھوں کے حساب سے لوگ حصہ لے رہے ہیں۔

Loading...

اس مرحلے پر توجہ مؤثر پن یا بیماری کو روکنے کی استعداد پر مرکوز ہوتی ہے اور اس میں ویکسین لگوانے والے لوگوں کا موازنہ ان لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جن کو پلیسبو ( نقلی ویکسین) یا ایف ڈی اے کی منظور شدہ کوئی ویکسین لگائی گئی ہوتی ہے۔

کرونا کے خلاف کونسا فیس ماسک زیادہ پر اثر ہوتا ہے….؟

ماڈرینا کی تیارکردہ ایم آر این اے ویکسین کے ایلی نوائے یونیورسٹی کے تیسرے مرحلے کے تجربات کی سربراہی کرنے والے، رچرڈ ایم نواک کہتے ہیں، ان لوگوں کے مقابلے میں جنہوں نے پلیسبو لگوائی ہوتی ہے، ہمیں ایسے لوگوں میں کم سے کم تر تعداد میں قابل تشخیص بیماریوں کی توقع ہوتی ہے جن کو ویکسین لگائی گئی ہوتی ہے۔

نواک کہتے ہیں کہ متنوع قسم کے افراد کو کوویڈ 19 کی ویکسین کے آزمائشی تجربات میں شامل کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں امریکا میں رنگ دار لوگوں میں کرونا وائرس کے انفیکشن غیر متناسب طور پر زیادہ رونما ہو رہے ہیں، لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ویکسین کے آزمائشی تجربات لوگوں کے متنوع گروہوں پر کریں۔

جب ویکسین بنانے والی کمپنی ویکسین کی تیاری کا اپنا پروگرام کامیابی سے مکمل کر لیتی ہے اور سلامتی اور مؤثر پن کا معقول مقدار میں ڈیٹا جمع کر لیتی ہے تو کمپنی ویکسین کو امریکا میں تقسیم کرنے اور مارکیٹ میں لانے کے لیے ایف ڈی اے کو درخواست کر سکتی ہے۔

ایف ڈی اے یہ وضع کرنے کے لیے کہ ویکسین کا محفوظ اور مؤثر استعمال عملی طور پر ثابت ہو چکا ہے، مقررہ مدت میں ڈیٹا کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔

کوویڈ 19 کی ویکسینز کے معاملے میں محققین ہنگامی استعمال کے اجازت نامے کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔ مگر بعض حالات میں انہیں اس کی تائید میں عوامی صحت کی ہنگامی حالت جیسی دلیل پیش کرنا ہوتی ہے۔

ایسے حالات میں ایف ڈی اے کے ثابت شدہ فوائد کے مقابلے میں ویکسین کے ممکنہ نقصانات کا جائزہ لینے سے پہلے قانونی تقاضے ہر حال میں پورے کرنا ہوتے ہیں۔

ہیمر کا کہنا ہے کہ جس تیز رفتاری سے کوویڈ 19 کی ویکسینز تیار کی جا رہی ہیں اس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم کئی ایک ویکسینز کو ابتدائی آزمائشی تجربات سے، پہلے انسانی تجربات اور پھر تیسرے مرحلے کے بنیادی آزمائشی تجربات تک ایک سال سے بھی کم عرصے میں جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک حیران کن بات ہے۔ ایف ڈی اے نے ان ٹیموں کی کام کرنے میں حقیقی معنوں میں مدد کی ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ان کے آزمائشی تجربات کے طریقہ کار نہ صرف محفوظ ہوں اور ان سے مطلوبہ ڈیٹا جمع ہوتا ہو بلکہ وہ محفوظ ترین ممکنہ طریقوں سے کیے بھی جا سکتے ہوں۔

(Visited 38 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں