میرا شریف اور اس کا پس منظر

میرا شریف
Loading...

میرا شریف ضلع اٹک کی تحصیل پنڈیگھیب کا ایک قصبہ ہے۔ یہ پنڈی گھیب سے سولہ میل یعنی 27 کلومیٹر جنوب مغربی جانب اور توت آئل فیلڈ سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ قصبہ صوبہ پنجاب کے شما ل مغرب میں واقع ہے۔ یہ ضلع اٹک کی پانچ تحصیلوں میں سے ایک تحصیل پنڈی گھیب کے 134 قصبہ جات میں سے ایک قصبہ ہے اس قصبے کی ابتدا خواجہ احمد میروی کی تشریف آوری سے ہوئی جنہیں تونسہ شریف سے ہی میرانامی ٹیلے پر قیام کا حکم ہوا ۔

میرا ایک بنجر زمین کو کہتے ہیں اور اسی بنجر زمین ریتلے علاقے اور پہاڑیوں میں گھرے ایک بنجر زمین کے ٹکڑے کو میرا شریف کا شرف حاصل ہوا۔ خواجہ صاحب نے خلافت سے مشرف ہونے کے بعد میرا شریف کو اپنا روحانی مرکز بنایا خواجہ صاحب کا روضہ مبارک بھی یہیں قائم ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ آج سے تقریبًا ڈیڈھ سو سال پہلے میاں محمد مالک نامی شخص نے اپنی موروثی زمین کی کاشت اور مویشی چرانے کے لیئے یہاں اپنا گھر بسایا ۔ ایک دن میاں محمد مال کے پیر و مرشد حضرت مولانا علی مکھڈوی اس گھر میں تشریف لائے تو مرید نے عرض کی کہ اس ویرانے میں گھر بنا بیٹھا ہوں ۔ 24 گھنٹے خطرہ لگا رہتا ہے کبھی چوروں کا ڈر تو کبھی خطرناک جانوروں کا ۔ آپ سے گزارش ہے کہ دعا فرمائیں کہ ہمارے مالی حالات بہتر ہو جائیں۔

انہوں نے فرمایا ڈر اور خوف دل و دماغ سے نکال دو اور آنے والے وقت کا انتظار کرو ایک وقت آئے گا کہ یہاں کا نظارہ قابل دید ہو گا ۔ مرشد نے مزید فرمایا کہ مجھے ان پہاڑوں پر نور کی بارش برستی دکھائی دے رہی ہے ۔ حضرت تونسوی رحمتہ علیہ نے بھی اس جگہ کے بارے میں فرمایا کہ اس جگہ کا نام ” میِرا ” نہیں بلکہ ” ِمیرا ” ہے اور یہ قیامت تک شاداب رہے گا ۔

خواجہ احمد میروی انیسویں صدی کے میرا شریف تحصیل پنڈیگھیب ضلع اٹک کے چشتی بزرگ ہیں۔
خواجہ احمد میروی 1826 ء بمطابق 1242ہجری ڈیرہ غازی خان میں محمد برخوردار کھوکھر کے ہاں پیدا ہوئے۔

ان کے بزرگ دو آبہ رچنا دریائے چناب کے کنارے آباد تھے سکھا شاہی کے ظلم کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان سکونت اختیار کی ان کے والد محمد برخوردار کھوکھر بڑے پارسا اور عابد انسان تھے خواجہ محمد سلیمان تونسوی کے مرید تھے ابھی خواجہ احمد میروی 10 سال کے تھے اور اکثر و بیشتر آستانہ مرشد پر حاضری دینے جایا کرتے تھے۔ ایک بار حسب معمول تونسہ شریف سے واپس جا رہے تھے کہ منگروٹھا کے مقام پر انتقال ہو گیا اور وہیں سپرد خاک ہوئے۔ مسجد بلوچ خان میں ان کا مزار ہے۔

Loading...

کیا واقعی احساس کے رشتے خون کے رشتوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں ؟

ان کے حالات زندگی کی اگر بات کی جائے تو والد کی وفات کے بعد ان کے ماموں علی خان نے ان کی تربیت اور پرورش کا ذمہ لیا،علی خان بھی خواجہ سلیمان تونسوی کے مرید تھے اس لیے خواجہ میروی کو ان کے آستانہ میں داخل کرا دیا۔ آپ 9 سال تک علوم متداولہ کی تحصیل میں مصروف رہے۔ وہاں سے فارغ ہو کر ملتان تشریف لے گئے لیکن پھر جلد ہی کلور کوٹ تحصیل عیسیٰ خیل میں مولوی مملوک علی کے سامنے آئے ۔

میرا شریف
Photo: File

تکمیل علم کے بعد آپ سیروسیاحت کے لیے نکل گئے اور سات سال تک کشمیر اجمیر ،پاکپتن شریف ،لاہور ،ملتان،دہلی اور کلیر شریف سے ہوتے ہوئے تونسہ شریف آ گئے اور بیعت ہوتے ہی خلافت عالیہ سے مشرف ہوئے۔ ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ خواجہ تونسوی کا انتقال ہو گیا ان کی وفات کے بعد آپ وہیں مقیم رہے ۔

1882 کے قریب میرا ڈھوک میں ایک چھوٹی سی مسجد میں آئے میرا جو پنڈیگھیب سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر سکونت اختیار کی ان کی آمد سے یہ بستی ڈھوک میرا سے میرا شریف بن گئی کچھ ہی مدت بعد مکھڈ شریف میں مولانا محمد علی مکھڈوی کے سالانہ عرس کے موقع پر مولانا محمد فاضل شاہ نے آپ کو خلافت عطا فرمائی ۔

اجازت و خلافت کے بعد آپ میرا شریف تشریف لے گئے اور وہاں مسجدومدرسہ کی بنیاد رکھی۔ آپ حق پرست انسان تھے صاف اور سیدھا بولنے والے سچے انسان ۔ اور حکومت کے زبردست دشمن تھے۔ سادگی آپ کا شعار تھا۔ اللہ تبارک و تعالی پر خاص توکل تھا ،بے نیازی، قناعت اور صبر ورضا مرشد سے ورثے میں ملی تھیں۔ آپ کے دروازے ہر مانگنے والے کے لیے کھلے تھے۔

کچھ عرصہ بعد آپ کی انگلی پر پھوڑا نکلا بالآخر یہ مرض جان لیوا ثابت ہوا۔ 27 دسمبر 1911 بمطابق 5 محرم الحرام 1330 ہجری کو آپ نے انتقال فرمایا۔ اور میرا شریف میں ہی آپ کا مزار ہے۔ لوگ وہاں روزانہ جاتے ہیں اور دعا مانگتے ہیں ۔ لوگوں کا ہجوم ہمیشہ لگا رہتا ہے بلکہ پرانے زمانے میں لوگ وہاں پیدل جایا کرتے تھے اور رات وہاں قیام کے بعد اگلے دن گھر واپسی لوٹتے تھے تو رش کی وجہ سے گزرنے کی جگہ نہیں تھی ۔ لیکن اب یہ آسانی ہو گئی ہے کہ لوگ گاڑیوں موٹر بائیکس پر سفر کرتے ہیں اور شام کو گھروں کو لوٹ جاتے ہیں ۔

زونیرہ شبیر

(Visited 51 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں