ریلوے سے زیادہ کرپٹ پاکستان میں کوئی ادارہ نہیں، چیف جسٹس

سانحہ اے پی ایس
Loading...

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ ریلوے سے زیادہ کرپٹ ادارہ پورے پاکستان میں نہیں ہے۔

سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

سپریم کورٹ نے ریلوے کی آڈٹ رپورٹ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا سارا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بجائے مینول ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آڈٹ رپورٹ نے واضح کر دیا کہ ریلوے کو اربوں روپے کا خسارہ ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مسافر گاڑیوں کا حال دیکھیں، ریلوے میں جو آگ لگی تھی اس معاملے کا کیا ہوا جس پر ریلوے کے وکیل نے کہا کہ معاملے پر انکوائری کر کے 2 افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔

Loading...

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ چولہے میں پھینکیں اپنی کارروائی، ریلوے کے سی ای او عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے؟

وکیل ریلوے نے کہا کہ سابق سی ای او کو نوٹس گیا ہے موجودہ کو نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سابق سی ای او کو نوٹس گیا ہے، اہم کیس تھا موجودہ سی ای او کو پیش ہونا چاہیے تھا، بلوالیں اپنے سی ای او کو، وہ کہاں ہیں؟ ریلوے کے وکیل نے کہا کہ سی ای او اس وقت لاہور میں ہیں۔

سپریم کورٹ نے وزیر ریلوے شیخ رشید، سیکریٹری ریلوے اور سی ای او ریلوے کو طلب کر کے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

(Visited 27 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں