حضرت سیدنا عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی پاکدامنی کا واقعہ ….

ایک مرتبہ رحمتِ عالم، نورِ مجسم ،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے والد محترم حضرت سیدنا عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں سفر پرجارہے تھے کہ راستے میں ایک یہودی عورت ملی جو اپنے مذہب کی کتابوں کو خوب جانتی تھی اور وہ کاہنہ بھی تھی،

اس کا نام ’’فاطمہ بنت مُرّ ‘‘تھا، بہت زیادہ حسین وجمیل اور پارسا تھی، لوگ اس سے شادی کی خواہش کرتے تھے، حسن و خوبصورتی میں اس کابہت چرچا تھا، جب اس کی نظر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پڑی تو اسے حضرت سیدنا عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیشانی میں نورِ نبوت چمکتا ہوا نظر آیا،

شبِ معراج اسلامی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے …!

وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریب آکر کہنے لگی: ’’اے نوجوان! اگر تو مجھ سے ابھی مباشرت کرلے تو میں تجھے سو اونٹ دوں گی۔‘‘ یہ سن کر عفت وحیاکے پیکر حضرت سیدنا عبداللہرضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے فرمایا:’’ مجھے حرام کام میں پڑنے سے موت زیادہ عزیز ہے اور حلال کام تیرے پاس نہیں یعنی تو میرے لئے حلال نہیں پھر میں تیری خواہش کیسے پوری کر سکتا ہوں۔‘

loading...

‘ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس گھر تشریف لائے اور حضرت سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے صحبت فرمائی۔ چند دنوں کے بعد ایک مرتبہ پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکی ملاقات اس عورت سے ہوئی، اس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرہ انور پر نور نبوت نہ پا کر پوچھا:’’ تم نے مجھ سے جدا ہونے کے بعد کیا کیا؟

‘‘آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’میں اپنی زوجہ کے پاس گیااور اس سے مباشرت کی۔‘‘یہ سن کر وہ بولی:’’خدا عزوجل کی قسم ! میں بدکارہ نہیں لیکن میں نے تمہارے چہرے پر نورِ نبوت دیکھا تو میں نے چاہا کہ وہ نور مجھے مل جائے مگر اللہ عزوجل کو کچھ اور ہی منظور تھا اس نے جہاں چاہا اس نور کو رکھا۔

جب یہ بات لوگوں کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اس عورت سے پوچھا: ’’ کیا واقعی عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تجھے قبول نہ کیا ،کیا تو نے اسے اپنی طرف دعو ت دی

(Visited 328 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں