وٹامن D کی کمی پوری کرنے کے طریقے ….!

وٹامن D ایک ایسا غذائی جزو ہے، جو جسمانی افعال کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ جسمانی عضلات مثلاً پٹھوں، ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی جبکہ اہم اعضاء دل، گردے، پھیپھڑے اور جگر کے تحفظ کے لیے وٹامن ڈی جسم کو درکار ضروری وٹامنز میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسا وٹامن ہے جس کی کمی بہت سی بیماریوں کو دعوت دیتی ہے۔

وٹامن ڈی کی کمی اور طبی مسائل

دنیا بھر کی آبادی کا تقریباً 13 فیصد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد کی اتنی بڑی تعداد قابل غور ہونے کے ساتھ ساتھ تشویش ناک بھی ہے کیونکہ وٹامن ڈی کی کمی انسانی جسم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے ۔مثلاً

٭وٹامن D کی کمی ہڈیوں کے بھربھرے پن ، ہڈیوں کے سوکھنے اور ٹیڑھے ہو جانا، جسم میں درد اور تکلیف کا سبب بنتی ہے ۔

٭وٹامن D کی کمی کے شکار افراد کو مستقل تھکاوٹ ، جسم میں درد اور سستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

٭ اس کی کمی کی وجہ سے کیلشیم ہڈیوں میں جذب نہیں ہوتا اور پیشانی پر بہت زیادہ پسینہ آنے لگتا ہے۔

٭وٹامن D ہڈیوں میں کیلشیم کو جذب کرنے کی صلاحیت دگنی کردیتا ہے، اس طرح ہڈیوں اور مسلز کی صحت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

٭ جن افراد میں وٹامن D کی کمی پائی جاتی ہے، وہ جوڑوں کے درد کا شکار ہو جاتے ہیں۔

وٹامن ڈی کی کمی اور علامات

ماہرین کے مطابق وٹامن D کی کمی کی تشخیص کا عمل آسان نہیں کیونکہ اس کے اثرات طبیعت کی خرابی کا سبب نہیں بنتے۔ تاہم ذیل میں درج علامات کے ذریعے وٹامن D کی کمی کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔

٭کمزور مدافعتی نظام :مثلاً کسی انفیکشن یا وائرس کے ہوجانے کے بعد صحت یابی میں کافی وقت لگنا،یا پھر چوٹ لگنے کے بعددیر سے ٹھیک ہونا ۔

٭کمر اور جوڑوں میں درد

٭مستقل تھکاوٹ، جسم میں درد اور سستی کا غالب رہنا۔

٭ڈپریشن ،اکتاہٹ اور چڑچڑاپن۔

٭پسینے کی زیادتی۔

٭کمزور مسلز یا تکلیف ہونا وغیرہ۔

چربی والی مچھلی اور سمندری غذائیں

فیٹی فش اور سمندری غذاؤں میں وٹامن ڈی جیسا قدرتی اجزا کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے۔مثلاً 100 گرام سامن مچھلی 386IU وٹامن کی مقدار فراہم کرتی ہے۔ وٹامن D کی مقدار سمندری غذاؤں کی انواع و اقسام میں مختلف پائی جاتی ہے۔ جن سمندری غذاؤں میں وٹامن D کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے ان میں ٹونا ،سرمئی مچھلی،کستورا مچھلی،جھینگے،سارڈین مچھلی، اور ین کووے (سبنا مورہ مچھلی )شامل ہیں۔

کمی کیسے پوری کی جائے؟

نیشنل اکیڈمی آف میڈیسن کے مطابق نوجوانوں کے لیے وٹامن D کے یومیہ 600 سے 800 انٹرنیشنل یونٹس مختص کیے گئے ہیں۔ اس تناسب کو مکمل کرنے کے لیے درج ذیل طریقہ کار پر غور کیا جاسکتا ہے۔

مشروم کا زیادہ استعمال

وٹامن D کے حصول کے لیے مشروم کو ایک مکمل نباتاتی ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ انسانوں کی طرح مشروم بھی سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں کے ذریعے وٹامن ڈی بنانے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔

Photo: File

سمندری نوع کی طرح مشروم کی بھی مختلف اقسام کی وٹامن کی مختلف مقدار فراہم کرتی ہیں مثلاً 100 گرام جنگلی مشروم وٹامن ڈی کے 2,384IU فراہم کرتے ہیں۔

ہیٹ اسٹروک سے کیسے محفوظ رہا جائے ….؟

انڈے کی زردی

انڈے کی زردی بھی ایک ایسی غذا ہے جسے اپنی روزمرہ روٹین میں شامل کرکے وٹامن D حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وٹامن کے حصول کے لیےفارمی کے بجائے دیسی انڈوں کا استعمال زیادہ فائدہ مند تصور کیا جاتا ہے۔

فوٹو فائل

طبی ماہرین کی رائے کے مطابق دیسی انڈوں میں فارمی انڈوںکے مقابلے وٹامن D کی مقدار 3 سے 4 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

سورج کی روشنی میں وقت گزاریں

وٹامن ڈی کیلئے انگریزی میں ’’Sunshine Vitamin‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہےکیونکہ سورج کی روشنی وٹامن D کے حصول کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی پوری کرنے کے لیے روزانہ کم ازکم نصف گھنٹہ دھوپ میں گزارا جائے انسانی جِلد پر پایا جانے والا کولیسٹرول وٹامن ڈی کے پیش رو کے طور پر کام کرتا ہے اور جب یہ کولیسٹرول سورج کی UVB شعاعوں سے گزرتا ہے تو وٹامن ڈی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

فورٹیفائیڈ فوڈ

کچھ غذاؤں میں قدرتی طور پر وٹامن ڈی کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے لیکن اکثر غذائیں ایسی ہیں جن میں فورٹیفیکیشن پروسیس کے دوران وٹامن ڈی کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے فورٹیفائیڈ فوڈ خریدتے وقت ڈبے پر اجزا میں وٹامن D کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ کچھ فورٹیفائیڈ غذائیں بھی وٹامن ڈی کا اچھا ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔

مثلاً گائے کا دودھ ، سویا، بادام کا دودھ، اورنج جوس، سیریل، کچھ قسم کے دہی اور ٹوفو وغیرہ ۔

(Visited 46 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں