کیلاش میں شادی کے لئے لڑکی کیوں بھگانی پڑتی ہے….!

کیلاش
Loading...

کافرستان کا نام تو آپ نے سنا ہی ہو گا ۔ یہ چترال شہر سے تقریبًا دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ کیلاش کے لوگ اللہ تعالی کو مانتے ہیں لیکن رسولؐ، پیغمبر اور کتاب کو نہیں مانتے۔

ان کے مذہب میں خوشی ہی سب کچھ ہے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ بہت خوشیاں مناتے ہیں لیکن جب کوئی فوت ہوتا ہے تو وہ اس وقت بھی افسردہ نہیں ہوتے بلکہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور میت کو ایک دن کے لیئے کمیونٹی ہال میں رکھتے ہیں۔

آنے والے مہمانوں کے لیئے ستر ، اسی بکرے اور آٹھ سے دس بیل ذبح کیئے جاتے ہیں۔ شراب کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور کھانا خالص دیسی بنایا جاتا ہے ۔ اور پھر مرحوم کی آخری رسومات کا جشن منایا جاتا ہے ان کا ماننا ہے کہ مرنے والے کو دنیا سے خوشی خوشی رخصت کرنا چاہیئے.

اس جشن میں شراب ، کباب ، ڈانس اور ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے ۔ اور مرنے والے کی ٹوپی میں سگریٹ اور کرنسی نوٹ بھی رکھا جاتا ہے ۔ پرانے وقتوں میں وہ لوگ مردے کو تابوت میں ڈال کر قبرستان میں چھوڑ آتے تھے لیکن آج کل مردے کو دفنایا جاتا ہے۔ یہ سن کر آپ یقینًا حیران ہوں گے کہ کیلاش میں ہونے والی فوتگی کا اوسطً خرچ 18 لاکھ ہوتا ہے جبکہ یہ کم سے کم سات لاکھ اور ذیادہ سے زیادہ 35 لاکھ میں پڑ جاتی ہے۔

loading...

جیسے وہاں فوتگی حیران کن ہے ویسے ہی وہاں شادی اور پیدائش بھی حیران کن ہے۔ اگر کوئی شادی کرنا چاہے تو لڑکے کو لڑکی بھگا کرلے جانی ہوتی ہے لڑکے کے والدین لڑکی کے والدین کو گاوں کے بڑے بزرگوں کو اس کی خبر کرتے ہیں اور پھر اس بات کی تصدیق کرنے کے بعد کہ لڑکی کے ساتھ زبردستی نہیں کی گئی اس کی شادی کر دی جاتے ہے پھر شادی کے چوتھے دن لڑکی کے ماموں آتے ہیں اور لڑکے والے انہیں تحفے میں ایک بیل اور ایک بندق دیتے ہیں ۔ اور کافی دنوں تک ایک دوسرے کو تحائف دینے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

اس علاقے کی سب سے حیران کن اور عجیب بات یہ ہے کہ اگر آپ کو کسی سے پیار ہو جاتا ہے تو آپ ایک شادی شدہ عورت کو بھی بھگا سکتے ہیں اگر وہ خاتون اپنی مرضی سے گھر سے بھاگی ہو تو اس کے سابقہ شوہر کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔

وہ مقام جہاں کوئی زندہ نہیں رہ سکتا….!

اس علاقے کی ایک خاص روایت یہ بھی ہے کہ پہلا بچہ پیدا ہونے پر خاص قسم کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں بکرے اور بیل ذبح کیئے جاتے ہیں یہ دعوت لڑکی والوں کے ہاں ہوتی ہے لیکن اس کے اخراجات لڑکے والوں کو اٹھانے ہوتے ہیں اور لڑکے والوں کو لڑکی کے تمام رشتے داروں کو دو دو ہزار روپے بھی دینے ہوتے ہیں ۔ اور اگر دوسرا بچہ بھی اسی جنس کا ہوا تو یہی روایت قائم رہے گی جب تک کہ دوسری جنس کا بچہ پیدا نا ہو جائے۔

کیلاش کی ایک خوش آئن بات یہ ہے کہ اگر کسی کیلاش کے شخص خواہ وہ مرد ہو یا عورت کو کسی مسلمان سے پیار ہو جاتا ہے تو پھر یہ لازم ہو گا کہ وہ اسلام قبول کرے یہی واحد صورت ہے کہ مسلمان مرد یا عورت سے شادی کرنی کی ۔ اب اسلام وہاں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔
زونیرہ شبیر

(Visited 1,155 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں