محرم الحرام کی اہمیت و فضیلت…!

محرم الحرام
Loading...

اسلامی سال کی ابتداء محرم الحرام کے بابرکت مہینے سے ہوتی ہے. اس مہینے کو حرمت والا مہینہ بھی کہا جاتا ہے. محرم الحرام کے مہینے کی سب سے بڑی خوبی اس مہینے کا حرمت والے مہینوں میں شامل ہونا ہی ہے.

اسلامی کیلنڈر میں شامل 12 مہینوں میں سے چار مہینے حرمت والے مہینوں میں شمار کیے جاتے ہیں. ان چار حرمت والے مہینوں کے نام یہ ہیں.

محرم الحرم
ذوالقعدہ
رجب
ذوالحج

اسلام کے پھیلنے سے پہلے زمانہ جاہلیت کے دور میں بھی ان حرمت والے مہینوں کو بہت اہم سمجھا جاتا تھا اور ان مہینوں میں کسی کا قتل کرنے کو بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا تھا لیکن اسلام کا سورج طلوع ہونے کے بعد اور مہینوں کا احترام اور بھی زیادہ بڑھ گیا.

قرآن پاک میں بھی اللہ تعالی نے جہاں بارہ اسلامی مہینوں کا ذکر کیا ہے وہاں ان چار حرمت والے مہینوں کو خاص طور پر بیان کیا ہے. دنیا میں تشریف لانے والے تمام انبیاء علیہ اسلام اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ان چار حرمت والے مہینوں میں جو بھی عبادت کی جائے اس کا ثواب باقی مہینوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے.

اس کے ساتھ جہاں نیکیوں کا ثواب زیادہ ہوتا ہے وہاں اگر اس مہینے میں کوئی گناہ والا کام کیا جائے تو اس کا گناہ بھی زیادہ ہوتا ہے. امام ابوبکر قرآن پاک کی تفسیر میں یہ فرماتے ہیں کہ ان چار حرمت والے مہینوں کی خاصیت یہ ہے کہ جو شخص ان مہینوں میں عبادت کرتا ہے اللہ تعالی اس کو باقی مہینوں میں بھی عبادت کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرماتے ہیں یعنی جو شخص احتیاط کرے کہ وہ ان مہینوں میں گناہ اور برے کام نہیں کرے گا تو اللہ تعالی اس کو سال کے باقی مہینوں میں بھی گناہوں اور برائیوں سے دور رکھتے ہیں. جو شخص ان حرمت والے مہینوں کا فائدہ نہیں اٹھاتا وہ آئندہ مہینوں میں بھی نقصان اٹھاتا ہے

Loading...

عبادت کو دنیاوی تجارت مت بنائیے ….!

محرم الحرام کے مہینے میں روزے رکھنے کو افضل روزے قرار دیا گیا ہے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے رمضان کے روزوں کے بعد سب سے بہترین روز محرم کے مہینے کے ہیں.

ترمذی شریف میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ  سے پوچھا کہ رمضان کے علاوہ آپ مجھے کس مہینے میں روزے رکھنے کا حکم دیں گے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے ارشاد فرمایا میں نے ایک بار ایک شخص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا تھا میں اس وقت حضرت سلم کے پاس موجود تھا.

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ جواب دیا کہ میں رمضان کے علاوہ تمہیں محرم کے مہینے میں روزے رکھنے کا حکم دوں گا کیونکہ محرم الحرام ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ نے بنی اسرائیل کی قوم کی توبہ قبول فرمائی تھی اور اسی طرح اللہ اس مہینے میں دوسرے لوگوں کی بھی توبہ کو قبول کرتا ہے

اس کے علاوہ حدیث مبارکہ سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دسویں محرم کا روزہ مکہ مکرمہ میں رکھتے تھے اور اس کے بعد اب آپ نے مدینہ میں ہجرت کی تو آپ نے وہاں بھی ان روزوں کا اہتمام فرمایا

مسند احمد میں حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ جنابِ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ تم عاشوراء کو روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو، اور اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو۔‘‘

(Visited 46 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں