کشمیری مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ بھارتی قبضے کے خلاف آج یوم سیاہ منا رہے ہیں

یوم سیاہ
Loading...

مظفرآباد: حکومت پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری ہر سال 27 اکتوبر کا دن ”یوم سیاہ “کے طور پر مناتے ہیں۔27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے رات کے اندھیرے میں اپنی فوجیں کشمیر میں اتارکر غیر قانونی قبضہ کرلیا جو تاحال قائم ہے۔

ہر سال کشمیری اقوام متحدہ کو جموں و کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ پورا کرنے کی یاد دلاتے ہیں۔ 27 اکتوبر تاریخ انسانی کا وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے اپنی فوجیں 85 فیصد مسلم آبادی والی ریاست جموں کشمیر میں داخل کرکے شب خون مارا۔مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کا ایک جھوٹا معاہدہ تراشا گیا۔

بعد ازاں اس معاہدے کو جواز بناتے ہوئے 27 اکتوبر1947 کو رات کی تاریکی میں بھارت نے اپنی فوج ریاست میں داخل کر دی۔اس کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایسا دور شروع ہوا کہ کشمیریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے ہی یکسر محروم کردیا گیا۔

یوم سیاہ کے موقع پر بھارت کے خلاف آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے، جلسے اور ریلیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جن کا مقصد کشمیر پر بھارتی قبضے اور کشمیریوں کے قتل عام کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرنا ہے۔علاوہ ازیں کنٹرول لائن کے دونوں طرف مقیم کشمیری بھارتی اقدام کے خلاف بھرپور احتجاج بھی کریں گے۔

loading...

اپوزیشن کا بیانیہ ان کے اپنے کارکن تسلیم نہیں کررہے، فواد چوہدری

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں1989سےاب تک ایک لاکھ سے زائد شہادتیں ہو چکی ہیں جب کہ 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی اور 22 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں، اس کے علاوہ بھارتی ریاستی دہشت گردی سے لاکھوں بچے یتیم بھی ہوئے۔

05 اگست2019 کو بھارت کی انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 35 اے اور 370ختم کرکے جموں و کشمیر اور لداخ کو زبردستی بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا تھا۔ اس کے بعد سے وادی میں اب تک کرفیو نافذ ہے، ٹیلیفون سروس اور انٹرنیٹ بند ہے جب کہ کھانے پینے اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

بھارت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے باوجود حریت رہنماؤں کی اپیل پر آج مقبوضہ وادی میں یوم سیاہ منانے کے لیے مکمل ہڑتال کی جارہی ہے۔کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر کرہ ارض کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوگیا ہے، وہاں ادویات اوراشیائے خورد نوش کی شدید قلت ہے،ہزاروں افراد جابرانہ حراست میں لیے گئے، ہزاروں نوجوانوں کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر قید کیا گیا جب کہ قید اور اغوا کیے گئے افراد کے ساتھ غیر انسانی اور تضحیک آمیز سلوک کیا جارہا ہے۔

(Visited 22 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں