کرونا وائرس کا پھیلاؤ اس طریقے سے بھی ممکن ہے….!

کرونا وائرس کا پھیلاؤ
Loading...

امریکہ میں کرونا وائرس سے متعلق کی جانے والی ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ آپس میں بات کرنے اور سانس لینے کے دوران بھی ممکن ہے.

کرونا وائرس کے متعلق ماہرین ابھی تک مکمل طور پر جان نہیں سکے آئے دن اس وائرس کے متعلق کوئی نہ کوئی نئی معلومات سامنے آتی رہتی ہے. اور یہ معلومات ماہرین کو حیران کر دیتی ہے.

گزشتہ دنوں ماہرین کے ایک گروپ نے یہ دعوی کیا تھا کہ کرونا وائرس ہوا سے پھیلنے والی بیماری ہے. عالمی ادارہ صحت کو اس وائرس کے متعلق اپنی تدبیر میں تبدیلی کرنی چاہیے.

جب سے کرونا وائرس پھیلا شروع ہوا ماہرین آغاز سے ہی یہ بات کہتے رہے ہیں کہ یہ وائرس کھانسنے چھینکنے اور اس کے علاوہ سانس کے ذریعے سے نکلنے والے ننھے ذرات بھی اس وائرس دوسرے لوگوں میں منتقل کرتے ہیں.

Loading...

حاملہ خاتون سے بچے میں کرونا وائرس کیسے منتقل ہوتا ہے…. ؟

لیکن امریکہ کی یونیورسٹی نے پہلی بار یہ بات ثابت کی ہے کہ کرونا وائرس کے 5 میکرون سے کم حجم کے چھوٹے ذرات بھی اس وائرس کو پھیلا سکتے ہیں. یعنی کھانسی کرنے اور چھینکنے کے علاوہ صرف بات کرنے اور سانس لینے سے بھی یہ وائرس منتقل ہوتا ہے.

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس دو فٹ پر موجود دوسرے انسان تک منتقل ہو جاتا ہے انہی ماہرین کے زور دینے پر 7 جولائی کو عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے متعلق اپنے موقف میں تبدیلی کی اور ان ماہرین کے نظریے کو کسی حد تک درست قرار دیا.

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 66 لاکھ سے زائد ہوگئی جبکہ کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 6 لاکھ 55 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ 60 لاکھ سے زائد مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو روانہ ہوچکے ہیں۔

(Visited 46 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں