ہماری حکومت آنے سے پہلے پاکستان گرے لسٹ میں تھا، شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی
Loading...

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون میں اپوزیشن کی مجوزہ ترامیم  تحریک انصاف کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔

نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادی گئی

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایوان جانتا ہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کی گرے لسٹ میں آ چکا ہے، ہماری حکومت آنے سے پہلے پاکستان گرے لسٹ میں تھا، یہ ناکامیوں کی ایک طویل داستان ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کو گرے سے بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا تھا لیکن عمران خان کی حکومت نے اپنی سفارت کاری سے بھارت کا راستہ بند کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوششوں کو ایف اے ٹی ایف نے سراہا ہے، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ہمیں 4 بلوں پر فوری قانون سازی کرنی ہے جس کے بعد قانون سازی سے متعلق رپورٹ ایف اے ٹی ایف کمیٹی کو بھیجی جائے گی اور ایف اے ٹی ایف یہ سفارشات اپنے اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں پیش کرے گا جس  میں  پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ ہوگا۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی امور کے چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے اپوزیشن سے کہا کہ ایف اے ٹی ایف قوانین بنانے کی مقررہ مدت ہے لیکن اپوزیشن نے کہا پیکج ڈیل ہوگی، نیب قوانین پر بھی ساتھ ہی بات کریں، بات نیب قانون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔

Loading...

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومتیں آتی جاتی ہیں لیکن پاکستان کے مفادات مقدم ہیں ،ہماری کوشش یہی ہےکہ ہم گرے لسٹ سےآزادی حاصل کریں، ہم نے اپوزیشن کی طرف دست تعاون بڑھایا کیوں کہ ہمیں پاکستان کا مفاد مقدم ہے۔

نیب قانون میں ترامیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نےنیب قانون میں 35 ترامیم کی تجویز پیش کیں،ہم نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مشترکہ تجاویز  پر نکتہ نکتہ غور کیا، تجاویز وزیراعظم کی خدمت میں بھی پیش کیں اور تبادلہ خیال کیا گیا۔

‘ اپوزیشن کی ترامیم سے احتساب کا ادارہ بے معنی ہو کر رہ جائےگا’

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپوزیشن کو بتادیا ہے کہ ان کی دی گئی ترامیم تحریک انصاف کے لیے قابل قبول نہیں، نیب قانون میں ترامیم عوام کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کرنی ہیں، اپوزیشن کی ترامیم سے تو نیب قانون میں منی لانڈرنگ کا معاملہ ختم ہی ہوجائےگا اور احتساب کا ادارہ بے معنی ہوکر رہ جائے گا اور اس ترمیم سے ایف اےٹی ایف میں پھنسنے کاخدشہ ہے کیوں کہ ایف اےٹی ایف میں تو منی لانڈرنگ  اور ٹیررفنانسنگ اہم جزو ہیں۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں