20 لڑکیوں کے ساتھ قرنطینہ میں جانے والا حکمران ….!

کرونا وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچائی ہوئی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزانہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں. کرونا وائرس سے بچنے کے لئے لوگ قرنطینہ میں کر رہے ہیں دنیا کا سپر پاور ملک امریکہ تک بھی اس وائرس سے محفوظ نہیں ہے.

ان حالات نہیں تھائی لینڈ کے بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن اس وقت سفارت جرمنی میں موجود ہیں اور انہوں نے خود کو جرمنی کے ایک بڑے ہوٹل میں قرنطینہ کر لیا ہے لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھ اپنی 20 کنیزوں کو بھی رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

تفصیلات کے مطابق اس وقت جرمنی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے لیکن تھائی لینڈ کے بادشاہ نے جرمنی میں ایک فائیو سٹار ہوٹل پورا بک کروالیا ہے اور صرف یہی ہوٹل ان کی وجہ سے کھلا ہوا ہے

بتایا جا رہا ہے کہ بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن سیر و تفریح کے لئے جرمنی گئے تھے اور دنیا کے حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے جرمنی میں رکنے کا ہی فیصلہ کیا اور اس لئے پورا ہوٹل بک کروالیا.

تھائی لینڈ میں پہلے بھی کی شدید مخالفت کی جاتی ہے لیکن جب جرمنی میں 20 کنیزوں کے ساتھ قرنطینہ میں جانے کی خبر پھیلی تو ان کے ملک کے لوگ شدید غصے میں آگئے ہیں اور ان سے بادشاہت چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں.

گھروں میں قرنطینہ کے دوران طلاق کی شرح میں اضافہ …

حالانکہ تھائی لینڈ ایک ایسا ملک ہے جہاں بادشاہت کے خلاف بولنے والے کے لئے سخت قوانین بنائے گئے ہیں اور جو شخص بھی بادشاہت کے خلاف کوئی بات کرتا ہے اس کے خلاف سخت کارووائی عمل میں لائی جاتی ہے لیکن وہاں کے لوگ ان کی بادشاہت سے اتنا تنگ آ چکے ہیں کہ وہ ان کے قوانین کی پروا کئے بغیر ان سے بادشاہت چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں

تھائی لینڈ میں سوشل میڈیا پر ’ہمیں بادشاہ کی ضرورت ہی کیا ہے‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے اور ہزاروں لوگ اس ٹرینڈ میں پوسٹس کر رہے ہیں۔

(Visited 235 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں