پی ایس ایل کی انشورنس پالیسی بھی کرونا کے سامنے بے بس

Loading...

کراچی: پی ایس ایل کی انشورنس میں عالمی وبا شامل نہیں، اگر پی سی بی کسی وجہ سے بقیہ میچز کا انعقاد نہ کر سکا تو اسے کوئی رقم نہیں مل سکے گی،

یوں پالیسی کی بھاری رقم ضائع جائے گی، بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگ، دہشت گردی اور ایئراسپیس بند ہونے کے خطرات پالیسی میں شامل کیے گئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اسپورٹس ایونٹس ملتوی یا منسوخ کر دیے گئے ہیں، انگلینڈ میں رواں برس ومبلڈن ٹینس کا انعقاد بھی نہیں ہو سکے گا، البتہ اس کے باوجود منتظمین کو زیادہ مالی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، انھیں انشورنس کی مد میں 141 ملین ڈالر ملیں گے، 2003 میں سارس وائرس پھیلنے کے بعد ومبلڈن کی انشورنس پالیسی میں عالمی وبا کو بھی شامل کرا دیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ پی ایس ایل 5 کے پلے آف میچز کو بھی کرونا کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا، گوکہ بورڈ رواں برس کے اواخر میں انعقاد کرنا چاہتا ہے مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی ہیں،اگر میچز نہ ہو سکے تو اسے بھاری مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑے گا۔

Loading...

آئی سی سی نے 30 جون تک تمام کوالیفائنگ ایونٹس ملتوی کردیئے….

ذرائع کے مطابق انشورنس پالیسی کی مد میں بھاری رقم ادا کی جاتی ہے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس میں عالمی وبا شامل ہی نہیں ہے، اس حوالے سے استفسار پر پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن برنی نے کہا کہ حالیہ رحجانات اور چیلنجز کو دیکھتے ہوئے پی ایس ایل کی انشورنس پالیسی میں جنگ، دہشت گردی اور ایئراسپیس بند ہونے کے خطرات کو شامل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ میڈیا سے بات چیت میں چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے کہا تھا کہ پی ایس ایل کے التوا سے پی سی بی کوکم از کم 20 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

(Visited 23 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں