کرونا سے متاثرہ شخص کب زیادہ تیزی سے دوسروں کو متاثر کرسکتا ہے۔۔۔؟

متاثرہ شخص
Loading...

کرونا وائرس کے متعلق روز بروز کوئی نہ کوئی نیا انکشاف سامنے آرہا ہے۔ ماہرین نے کرونا وائرس کے متعلق ایک اور نیا انکشاف کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ شخص علامات ظاہر ہونے کے شروع کے پانچ دنوں میں وائرس کو سب سے زیادہ آگے منتقل کر سکتا ہے۔

متاثرہ شخص کو چاہئے کہ وہ علامات ظاہر ہونے کے بعد ابتدائی پانچ دنوں میں انتہائی احتیاط کرے۔ یہ تحقیق میں شائع کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایسے مریض جن میں کرونا وائرس کی کوئی علامات نہیں ہوتی لیکن یہ لوگ دوسروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں.

ماہرین میں ریسرچ کے دوران بیماری کے مختلف مراحل کا اور انسان کے جسم میں وائرس کی مقدار کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ ماہرین نے گزشتہ تحقیقات کے ساتھ بھی نتائج کا حصہ تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ وائرس اتنی تیزی سے کیسے پھیل رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم نے دریافت کیا ہے کہ کرونا وائرس شروع کے دنوں میں انسان کے نظام تنفس کی اوپر والی نالی میں علامات ظاہر کرتا ہے اور یہ شروع کے پانچ دنوں میں عروج پر ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نظام تنفس کی اوپر والی نالی کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا بنیادی ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔

loading...

کرونا کے خلاف کونسا فیس ماسک زیادہ پر اثر ہوتا ہے….؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا کی سب سے عام علامات بخار، خشک کھانسی اور تھکاوٹ ہیں جبکہ گلے میں سوجن، ہیضہ، سردرد، سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی اور جلد پر خارش یا انگلیوں کی رنگت ختم ہونا کم نمایاں علامات ہیں۔

ماہرین نے دریافت کیا کہ علامات اور بغیر علامات والے مریضوں میں وائرل لوڈ کی مقدار لگ بھگ یکساں ہوتی ہے مگر بغیر علامات والے لوگوں کے جسموں میں وارل مواد تیزی سے صاف ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بغیر علامات والے مریض بھی ابتداء سے ہی بیماری کو دوسروں تک منتقل کرسکتے ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بات جانے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کرونا وائرس کے وہ مریض جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں وہ اپنے جسم سے کب تک وائرس کو خارج کرتے ہیں۔

(Visited 52 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں