سوشل میڈیا استعمال کرنے کے بہشتی نسخے…!

وہ زمانے گئے جب آپ کی یہ بہن آدھے دن تک بستر پر پڑی بدن توڑا کرتی تھی۔ ویسے یہاں آدھے دن سے مراد صبح کے آٹھ بجے ہیں۔

ادارہ برائے تحفظ سسرالیات کے ازل سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بہو کے جاگنے کا معیاری وقت منہ اندھیرے ہوتا ہے۔ خیر چھوڑیں اس بد مزہ اعلامیے کے قصے کو۔ ہم تو یہ بتا رہے تھے کہ وہ زمانے تو اب خواب ہوئے۔ اب تو آپ کی یہ بہن خیر سے  سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے اور پر واٹس ایپ اور فیس  بک کے دو گروپس کی ایڈمن ہے، جس دن سے اپنے کندھوں پر  اس سوشل میڈیا کی ذمہ داری کا بھاری بوجھ اٹھایا ہے، بس تب سے سونے جاگنے تو کیا آن لائن سٹاکنگ، غلط پتے پر آن لائن شاپنگ اور تو اور خاندان کی جاسوسی کے لیے بھی چین کی دو گھڑی نصیب نہیں رہی۔

صبح آنکھ بعد میں کھلتی ہے، پہلے ہمارا ان باکس کھلتا ہے۔ اس میں موجود تمام ’انونی مس پوسٹس‘ جنہیں بیچاری ممبرز نام کے بغیر شائع کرنے کی درخواست کرتی ہیں، وہ سوشل میڈیا پر کسی گروپ میں پوسٹ کرتی ہوں، ساتھ ہی ان کے سکرین شاٹس بھی لے لیتی ہوں تاکہ اپنی سہیلیوں کے پرائیوٹ گروپ میں ان کے مسئلوں پر ہم سب حسب توفیق، فی سبیل اللہ تبصرے کرسکیں۔

بھئی! سیدھی سی بات ہے سوشل میڈیا پر گروپس بنانے کا سب سے بڑا فائدہ جو مجھے ہوا وہ یہ کہ انسانیت کی خدمت کا گھر بیٹھے بلکہ بستر میں ہی بیٹھے بٹھائے موقع مل گیا۔ اب کسی نسخے اور ٹوٹکے کی یہ مجال کہ وہ میری نیو فیڈ کی حدود میں گھسے اور میرے ہاتھوں شیئر ہونے سے بچ پائے۔

بھئی دیکھیں نا، اگر کسی کا سوشل میڈیا کے ذریعے گھر بیٹھے دس کلو وزن کم ہوجائے تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ اگر یہ وزن میرے شیئر کردہ نسخے سے کم ہوا ہے تو میرے لیے اعزاز ہے اور اگر خدانخواستہ اس نسخے کے الٹا نقصان کی وجہ سے آپ بیمار ہوئے، تو بھی کیا ہوا، وزن تو پھر بھی کم ہو ہی جائے گا نا۔

بس سوچ لیجیے کہ مقدر میں آپ کا وزن یوں ہی کم ہونا لکھا تھا۔ اب بھلا قوم کی یہ مفت خدمت بے دریغ شیئرنگ کے بنا کہاں ممکن ہے؟ کسی گمشدہ بچے کی تلاش ہو تو بھی آپ کی یہ بہن حاضر ہے۔ بچے کی گمشدگی کی تاریخ وغیرہ کی جھنجھٹ میں پڑے بغیر میں فوری طور پر ایسی پوسٹس اپنے سوشل میڈیا میں شیئر کر دیتی ہوں۔

اور تو اور اگر دل زیادہ ہی پسیج جائے تو ساتھ یہ پیغام بھی لکھ چھوڑتی ہوں ’پلیز اپنی فرینڈز لسٹ میں موجود سب لوگوں تک اس پوسٹ کو ضرور پہنچائیں، خدا کرے کہ جلد اپنے بچھڑے والدین سے مل جائے۔‘

ایک بار تو میری دعا اتنی جلدی قبول ہوئی کہ پوسٹ کرنے کے پانچ منٹ بعد میرے دروازے پر بچہ اپنے والدین کے ساتھ کھڑا تھا۔ ویسے اللہ جانے کیوں اس کے والد ہاتھ جوڑے کھڑے پوسٹ فوراً ڈیلیٹ کرنے کی درخواست کررہے تھے۔

2050 میں دنیا کی پانچ عالمی طاقتیں کون سی ہوں گی ….؟

ہم نے تو اس عجیب وغریب معجزے پر مارے ڈر کے دروازہ ہی بند کردیا جھٹ سے۔ پہلے پہل تو ہم وہ والی پوسٹس بھی ضرور شیئر کرتے تھے جن پر لکھا ہوتا تھا کہ مارک زکربرگ ہر ایک لائیک کے عوض اس بیمار بچے کے علاج کے لیے ایک ڈالر عطیہ کرے گا۔

پھر کسی نے بتایا کہ دراصل لوگ اس طرح زکربرگ کو لوٹتے ہیں۔ بس اس دن کے بعد سے کبھی ایسی پوسٹ شیئر نہیں کی۔ البتہ تب زکربرگ کو معافی کی ایک میل سینڈ کی تھی اور اسے بتایا تھا کہ لوگ کیسے اسے دھوکا دے رہے ہیں۔ کیا پتہ بیچارے کو معلوم ہی نہ ہو، مفت میں لٹ رہا ہو۔

اب بات نکلی ہی ہے تو چلیں آپ کو ایک راز کی بات بھی بتائے دیتے ہیں۔ میری ایک دوسری آئی ڈی بھی ہے۔ ارے وہی جس سے اپنی ڈی پی اور پوسٹس وغیرہ پر تعریفی کمنٹ کرتی ہوں، سوہنی مٹھی کھیر والی آئی ڈی! اب میں ایسے کاموں کے لیے وہی والی آئی ڈی استعمال کرتی ہوں۔

وہ جو پوسٹس ہوتی ہیں نا کہ کمنٹس میں فائیو لکھیں اور لڑکی کی حرکت دیکھیں، یہ آئی ڈی ایسی پوسٹس پر کمنٹس کے لیے ہی تو بنائی ہے میں نے۔

توبہ ہے جذباتی ہو کے میں بھی کتنا بولتی ہوں۔ آپ کو اپنے گروپس کے بارے میں بتانے بیٹھی تھی اور کیا کیا اُگل بیٹھی۔

یاد آیا پچھلے دنوں ایک ممبر نے ایک پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ مرغی جو محترمہ اپنی نظروں کے سامنے کٹوا کے لائی تھیں، پکانے پر اس میں کیڑے تیر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مرغی کو کیڑا لگا ہوا تھا اور وہ بیمار مرغی قصائی نے ان کو ذبح کرکے تھما دی تھی۔

ویسے تو حیرت ہوئی کہ مرغی نہ ہوئی دشمن کی توپ ہوگئی جس میں کیڑے پڑ گئے لیکن خیر ہمیں کیا، جھٹ سے پوسٹ اپروو کردی، لیکن ہائے ہماری قسمت میں چین لینا کہاں لکھا ہے، پوسٹ پر وہ فساد مچا کہ الامان۔

ایک ممبر کا کہنا تھا کہ برائیلر مرغی ہے کوئی فلمی ہیروئن تو نہیں جو اتنے روگ سہہ لے، کسی مصالحے میں کیڑا رہا ہوگا۔

ویسے ایک لمحے کوتو ہم نے بھی یہ سوچا تھا کہ بھلا وہ مرغی جو کسی کے چھینک مارنے پر اس خوف سے دم دے بیٹھتی ہے کہ اب اسے پانی میں غوطے دیے جانے کا وقت قریب ہے، وہ بھلا اتنے پرانے زخم کہاں سہار سکتی ہے، لیکن خیر اتنا غور کرنے کی فرصت کسے ہے۔

اب اگر گروپ ممبرز گھبرا کے مرغی کھانا چھوڑ دیں تو اس میں ہمارا کیا قصور۔ ہماری تو نیت صاف تھی نا جی! بلکہ الٹا گائے بکرے بیچنے والے قصائی تو ہم کو دعا ہی دیں گے نا۔

بس، یہی دعا کا لالچ آپ کی بہن کو نجانے کیا کچھ شیئر کرنے پر مجبور کر ڈالتا ہے۔

بھئی سمجھانے والوں نے تو ہم کو یہ سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ کسی بھی پوسٹ کو شیئر کرنے سے قبل اس کی سچائی کو جانچ پرکھ لیں۔

گوگل سے دیکھ لیں کہ خبروں وغیرہ کی مستند ویب سائٹ پر ایسی کوئی اطلاع موجود ہے یا نہیں۔

لیکن اب دیکھیں نہ جی۔ ہم نے تعلیم نسواں کا ٹھیکہ تو نہیں اٹھا رکھا کہ ہر چیز کی تصدیق کرتے پھریں۔ ہم کو تو جو پوسٹ نظر آئے گی ہم وہ اصلاح معاشرہ کے خیال سے پوسٹ کرکے ہی دم لیں گے، آپ کو اعتراض ہے تو آپ گروپ چھوڑ دیجیے۔ اللہ اللہ خیر صلا!

(Visited 17 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں