ایرانی سائنسدان نے بھی کرونا کی دوا بنانے کا دعویٰ کردیا

تہران: حال ہی میں امریکی جیل سے آزاد ہونے والے ایرانی سائنسدان ڈاکٹر مسعود سلیمانی نے دعوی کیا ہے کہ وہ خلیاتِ ساق (اسٹیم سیلز) استعمال کرتے ہوئے کرونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری ’’کووِڈ 19‘‘ کی دوا ایجاد کرچکے ہیں۔

ایرانی اخبار ’’ایران فرنٹ پوسٹ‘‘ کے مطابق، ایرانی سائنسدان سلیمانی کا کہنا ہے کہ اب تک کئی ڈاکٹر ان کی بنائی ہوئی دوا کرونا وائرس کے کئی مریضوں کے علاج میں استعمال کرچکے ہیں اور انہوں نے اسے بہت مؤثر پایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دوا کرونا وائرس کے مریضوں کو تین مرحلوں میں، تین سے چھ دن تک دی جاتی ہے۔ فی الحال یہ دوا طبّی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) کے مرحلے پر ہے۔ ڈاکٹر سلیمانی نے مزید کہا کہ اس دوا کی حتمی منظوری بھی بہت جلد مل جائے گی۔

کرونا وائرس: جرمن وزیر تھوماس شیفر کی عوام کی مالی امداد میں ناکامی پر خودکشی

ان سے پہلے روس بھی کورونا وائرس کی دوا بنانے کا دعویٰ کرچکا ہے جبکہ امریکا میں ملیریا کی ایک دوا، کووِڈ 19 کے علاج کےلیے منظور کی جاچکی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت ایران کرونا وائرس سے شدید متاثر ہے جہاں اس وبا سے بیمار ہونے والوں کی تعداد 41,495 پر پہنچ چکی ہے جبکہ اب تک کووِڈ 19 سے وہاں 2,757 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

(Visited 24 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں