سی پیک کے تحت منصوبے روزگار،معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، عاصم سلیم باجوہ

سی پیک
Loading...

لاہور: چیئر مین پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات لیفٹیننٹ (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ مال بردار بحری جہاز 17 ہزار ٹن ڈی اے پی کھاد لےکر گوادر پہنچ گیا۔

5 اگست کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم استحصال منانے کا اعلان

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ گوادر پورٹ پر اقتصادی سرگرمیاں زوروشورسے جاری ہیں۔ مال بردار بحری جہاز 17 ہزار ٹن ڈی اے پی کھاد لےکر گوادر پہنچ گیا۔

چیئر مین سی پیک اتھارٹی نے لکھا کہ ڈی اے پی براستہ چمن 550 ٹرکوں سے افغانستان بھیجی جائےگی۔ پہلی بار کارگو کی پیکنگ مقامی سطح پر کی گئی۔ سی پیک کے تحت منصوبے روزگار،معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید لکھا کہ اس طرح ملازمتیں پیدا ہوں گی، ٹرانسپورٹ کے کاروبار کو بڑھاوا ملے گا۔

ایک اور بیان میں چیئر مین پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی نے لکھا کہ تھر انرجی لمیٹڈ حبکو کا تھر بلاک ٹو ھ330میگا واٹ پاور پلانٹ پرکام جاری ہے۔

ٹویٹر پر چیئر مین سی پیک اتھارٹی نے بتایا کہ تھربلاک ٹوپاور پلانٹ پرکام کورونا سےمتاثرنہیں ہوا۔ 200 ملین ڈالرکی سرمایہ کاری سےمنصوبےمیں بہترین پیشرفت ہورہی ہے۔

20 جولائی کو انہوں نے ٹویٹر پر عوام کو بتایا تھا کہ گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے پر تعمیراتی کام تیزی جاری ہے۔ یہ تصاویر اس کی مثال ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر تھر بلاک کے حوالے سے جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ تھر بلاک میں مائننگ اور 1320 میگاواٹ کے پاور پلانٹ پر کام تیزی سے جاری ہے۔

عاصم سلیم باجوہ نے لکھا کہ مائننگ کا عمل 20 فیصد اور پاور پلانٹ پر 15 فیصد تک کام مکمل ہو چکا ہے۔ ملازمت کے خواہشمند درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔

Loading...

خیال رہے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان خطے کے حالات سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اتھارٹی کے ذریعے تمام پروجیکٹ ہینڈل ہو سکیں گے۔ منصوبوں پر ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو بھاگنا نہیں پڑے گا۔ چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے پراجیکٹس پر دستخط ہو چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سی پیک پر کام مزید تیز کرنے کا مینڈیٹ دیا اور کسی کام میں رکاوٹ پر خود رہنمائی کی پیشکش کی۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر کہیں کام رکنا نہیں چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ کمیونی کیشن انفراسٹرکچر اور انرجی کے کئی منصوبے جاری ہیں۔ سی پیک انرجی کے 17 میں سے 9 پروجیکٹ مکمل ہو چکے جبکہ آٹھ پروجیکٹس پر کام تیزی سے مکمل ہو رہا ہے۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باوجود سی پیک کے تمام منصوبوں پر کام جاری ہے۔ چینی سٹڈی گروپ کیساتھ مل کر زرعی تحقیق پر کام کر رہے ہیں۔ چینی کمپنیاں کارپوریٹ فارمنگ میں بھی دلچسپی لے رہی ہیں۔ ہمارے بزنس ہاؤسز اور چائنیز کمپنیاں مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک پر سیاسی اور عسکری قیادت کی یکساں ترجیحات ہیں۔ انفراسٹرکچر انرجی سے بڑھ کر صنعتی ترقی پر جا رہے ہیں۔ سی پیک کے تحت اب زراعت کی جانب بھی بڑھیں گے۔ سی پیک سائنس ٹیکنالوجی جوائنٹ ورکنگ گروپ بن چکا ہے جبکہ ان منصوبوں میں سیاحت کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

منصوبے پر جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں بتاتے ہوئے چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا کہ ڈی آئی خان موٹروے پر کام جاری ہے جسے ژوب تک لے کر جائینگے جبکہ ہوشاب سے آواران کی سڑک پر کام شروع کرنے جا رہے ہیں۔ 9 میں سے 3 سپیشل اکنامک زونز ابتدائی ترجیحات میں ہیں۔ رشکئی کے اکنامک زون کیلئے ایک ہزار ایکڑ زمین لے چکے ہیں۔ رشکئی پر ترقیاتی معاہدے کی تمام رسمی کارروائی مکمل ہو گئی ہے۔ فیصل آباد میں سپیشل اکنامک زون کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے۔ کراچی کے نزدیک دھابیجی اکنامک زون کا ٹینڈر کل کھلے گا جس میں کمپنیاں دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں۔

پاکستان میں توانائی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ہم نے بتدریج سستی بجلی کی جانب بڑھنا ہے۔ ہائیڈل پاور سے ماحول دوست اور سستی انرجی حاصل کریں گے۔ درآمد شدہ کوئلے کے بجائے زیادہ سے زیادہ مقامی کوئلےکے ذریعے سستی بجلی بنائیں گے۔

(Visited 5 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں