نظر بد کی علامات اور اس سے بچنے کا طریقہ …!

نظر بد
Loading...

بعض اوقات نظر اس وقت لگتی ہے جب کوئی سامنے آئے یا بعض اوقات نظر تصاویر وغیرہ کے ذریعے سے بھی لگ جاتی ہے ۔ جیسا کہ آجکل یہ عام ہو چکا ہے کہ ادھر شادی ہوئی ادھر سوشل میڈیا پہ تمام تصاویر ڈال دی گئیں ادھر بچہ پیدا ہوا ادھر فورًا اس کی تصاویر اپلوڈ کر دی گئیں۔

کوئی یہ نہیں جانتا کہ کون کس نظر سے دیکھ رہا ہے کوئی نہیں جانتا کہ کون حسد کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے تو کون خوش ہو کر دیکھ رہا ہے. لیکن ایسا ضروری نہیں ہے کہ نظر ہمیشہ حاسد یا دشمن کی ہی لگے بلکہ بعض اوقات محبت کرنے والوں کی بھی نظر لگ جاتی ہے جیسے انسان کسی چیز کو دیکھ کر کہتا ہے
واوو کتنی خوبصورت جیولری ہے
واہ کتنا پیارا ڈریس ہے
واہ کیا قسمت ہے
واہ کتنا خوبصورت گھر ہے
واہ تم تو بہت جلدی کامیاب ہوئی
واہ کیا عزت پائی ہے
واہ اتنی دولت جمع کر لی وغیرہ وغیرہ
اس لیئے کہتے ہیں کہ جب بھی کچھ اچھا لگے تو تعریف سے پہلے ” ماشاءاللہ ” کہنا چاہیئے ۔
یہ بات تو طے ہے کہ نظر لگتی ہے ۔ کیونکہ حضور پاکؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ
” نظر برحق ہے ”
پھر ارشاد فرمایا
بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ۔۔۔

نظر بد بھی حسد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لیئے نظر بد کو تیر کہا گیا ہے ۔ حاسد کے دل میں جو بغض اور شر ہوتا ہے اس کی نگاہوں سے کچھ شعاعیں نکلتی ہیں جو سیدھا اگلے شخص پر اٹیک کرتی ہیں جس سے وہ حسد کر رہا ہوتا ہے۔

اگر محسود ( جس سے حسد کیا جا رہا ہوتا ہے ) کی پروٹیکشن ہو چکی ہو نماز ، معوذتین ، دعاوں اور ذکر و ازکار کے ذریعے سے تو پھر نظر بد اثر نہیں کرتی لیکن اگر وہ نعمتیں پا کر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا تو پھر وہ مختلف طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے جس کا نا کوئی علاج ہوتا ہے نا کوئی ریزن ۔۔
حضور پاکؐ نے فرمایا
” ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے ”
اس لیئے اسلام نے ہمیں ہمیشہ دکھاوے سے منع فرمایا ہے ۔
نظر بد کی درج ذیل علامات ہیں ۔

Loading...

1۔درد کا آنکھوں سے شروع ہو کر سر کی جانب پھیلنا ۔
2۔جسم پر عموما چہرے پر سرخ نیلے دانوں کا بکثرت نکلنا ۔
3۔۔بکثرت پیشاب کا آنا ۔
4۔بہت زیادہ پسینہ آنا خصوصا ماتھے اور کمر میں
5۔دل کی دھڑکن کا کم یا زیادہ ہونا ۔۔ گھبراہٹ ہونا
6۔چہرے پر پیلاہٹ نمایاں ہو جانا ۔
7۔تلاوت ، نماز اور عبادات کے درمیان بکثرت جمائیاں آنا اور آنسووں کا بہنا۔
8۔پڑھائی اور کام سے دل کا اچاٹ ہو جانا حافظے کا کمزور ہونا ۔
9۔مسلسل تھوک بہنا جھاگ کی مانند یا سفید بلغم
10۔جسم میں خارش اور چیونٹیاں رینگتی محسوس کرنا۔
11_جسم کا بہت زیادہ گرم رہنا۔
12۔انسان کا اپنے آپ سے لاپرواہ ہو جانا ۔
وغیرہ وغیرہ

نظر بد کا علاج

نظر بد کے خاتمے کے لیئے مختلف طریقے ہیں ۔
1 جب کسی کے مال میں سے کچھ پسند آ جائے تو ” ماشاءاللہ لاقوة الا باللہ ” بولا جائے ۔
2 مال کء علاوہ اگر کچھ پسند آئے تو ” بارک اللہ فیہ ” پڑھیں ۔
3 گھر سے باہر نکلیں تو ” آیت الکرسی ” پڑھ کر نکلیں ۔
4 دنیا کی اگر کوئی چیز یا نعمت کسی کے پاس دیکھیں تو سوچیں یہ بس کچھ ہی ٹائم کے لیئے اس کے پاس ہے ۔ اس سے آپ کے دل کو سکون ملے گا ۔
5 نظر اُتارنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے کہ چاروں قُل اول آخر درود پاک پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک مار کر ہاتھ پورے جسم پر پھیر لو اور اللہ سے حاسدین کے شر سے پناہ مانگ لو ۔

حضور پاکؐ سے صحابہ کرام کی بے مثال محبت کا سنہرا واقعہ …!

نظر بد سے بچنے کے طریقے

انسان بعض اوقات نظر بد کو خود ہی دعوت دیتا ہے ۔۔ بھلا کیسے ؟
دکھاوا کر کے ۔
1 اچھے کپڑے
2 اچھا کھانا پینا رہن سہن
3 فرمانبرداری
4 ترقی
5 شہرت
6 کامیابی
7 خوبصورتی
8 اخلاق
9 دولت
10 عزت
یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جن میں ایک بھی اگر آپ میں پائی جاتی ہے یا آپ کے پاس ہے تو اگلا آپ سے حسد کرنے لگے گا اور اس سے بچنے کے لیئے ہمیں جو پہلا قدم اٹھانا پڑے گا وہ ہو گا دکھاوے سے بچنا۔

ذرا سا کچھ ہوتا نہیں بس فورًا سوشل میڈیا پر ڈال دینا ہر طرف چرچے کر دینا . . یہ سب نظر بد کا باعث بنتے ہیں ۔
حضور پاکؐ نے بھی دکھاوے سے منع فرمایا ہے ۔ اور ڈھنڈورا پیٹنے سے منع فرمایا ہے ۔

(Visited 54 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں