April 12, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

عیبوں

عیبوں پر پردہ ڈالنا کیوں ضروری ہے … ؟

آجکل کے اس مصروف دور میں جب کہ ہر شخص مصروف ہے لیکن دوسروں کو تکلیف پہنچانے کے لئے وقت نکال ہی لیا جاتا ہے۔ اپنے عیب چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے جبکہ دوسروں سے ہوئی معمولی سی غلطی کو بھی رائی کا پہاڑ بنا دیا جاتا ہے۔

اس دنیائے فانی میں موجود کوئی بھی انسان عیبوں اور گناہوں سے پاک نہیں ہے ۔ ہاں ہر انسان مختلف سوچ رکھتا ہے ، مختلف خیالات کا مالک ہوتا ہے لیکن پھر بھی کوئی عام انسان بالکل گناہوں اور عیبوں سے پاک نہیں ہو سکتا۔

وہ اللہ تبارک و تعالی کی پاک ذات ہی ہے جو اپنے بندوں کے عیبوں پر پردے ڈالتی ہے ۔ ورنہ پرانے زمانے میں جو لوگ تھے وہ جب کوئی گناہ کرتے تھے تو ان کے گناہ ظاہر کر دیئے جاتے تھے ان کے چہروں پر ان کے گناہ عیاں کر دیئے جاتے تھے ۔ اللہ پاک کا یہ ہم پر خاص کرم ہے کہ اس نے ہمارے عیبوں کو چھپایا ہوا ہے اور دنیا والوں کی نظر میں ہمیں عزت دی ہوئی ہے ۔

حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور پاکؐ نے ارشاد فرمایا ؛
” جس نے کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکلیف دور کی اللہ تعالی اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی ایک تکلیف دور فرما دے گا ۔ جس نے کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی اللہ تعالہ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کرے گا ۔ اور جس نے دنیا میں کسی انسان کے عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالی دنیا و آخرت میں اس کے عیبوں کی پردہ پوشی کرے گا ۔ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالی اس کی مدد میں لگا رہتا ہے ” ( سنن ترمذی ، حدیث 1930 )

میرا شریف اور اس کا پس منظر

ہر کسی کی زندگی میں کچھ حالات و واقعات ایسے ضرور ہوتے ہیں جو وہ کبھی سامنے نہیں لانا چاہتا ۔ کوئی بھی انسان عیبوں اور گناہوں سے پاک نہیں ہوتا ۔ بات وہی ہے کہ ہم اپنے بارے میں تو چاہتے ہیں کہ ہمارے گناہ اور عیب دوسروں کے سامنے نہ آئیں لیکن ہم دوسروں کی باتیں کرنے سے بعض نہیں آتے ۔ سوچیں اگر خدانخواستہ اللہ بھی ہمارے عیبوں پر پردہ ڈالنا چھوڑ دے تو ہمارا کیا ہو گا۔

اس لیے دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنا سیکھیں ۔ تاکہ اللہ آپ کے عیبوں پر پردہ ڈالے ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا کے سامنے آپ کے گناہ نا آئیں تو کسی دوسرے کے راز بھی فاش کرنے سے گریز کریں ۔

سورة آل عمران میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے ؛
” وہ تو ( اللہ ) جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں اور تو ہر شے پر قادر ہے ”
پہلے وقتوں میں بنی اسرائیل کے لوگ جب ایک فاحشہ عورت کو پتھر مار رہے تھے تو حضرت موسیٰ نے آگے بڑھ کر ان لوگوں کو چیلنج دیا کہ اس عورت کو پہلا پتھر وہ شخص مارے گا جس نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی گناہ نہیں کیا ہو گا اور حضرت موسیٰ کی یہ کہنے کی دیر تھی کہ سب لوگ وہاں سے پیچھے ہو گئے۔

بحیثیت مسلمان ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اپنے اس رب سے ڈرنا چاہیے جس نے میرے اور آپ کے نا جانے کتنے عیبوں پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ خدانحواستہ اگر وہ اللہ ہمارے عیبوں سے پردہ ہٹا لے تو سوچیں کیا ہم دنیا کے منہ دکھانے کے قابل بھی رہیں گے ۔۔۔ اس کا آسان سا حل یہی ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہمارے چھوٹے بڑے گناہوں اور ہمارے تمام رازوں کو فاش نا کرے تو ہمیں اپنے اردگرد موجود تمام امت مسلمہ کے عیبوں پر پردہ ڈالنا چاہیے . اور یہ ہمارا فرض بھی ہے ۔

زونیرہ شبیر

%d bloggers like this: