April 11, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

امن و سلامتی

اسلامی احکامات : امن و سلامتی کے ضامن

ایک کامل مسلمان سے کسی بھی بے گناہ شخص کو تکلیف نہیں پہنچتی، کیوں کہ کامل مسلمان کے لیے تمام اسلامی احکامات پر عمل ضروری ہے۔ اسلام کے اوامر تمام انسانیت کے لیے راحت و آرام کا سبب ہیں، جب کہ تمام تکلیف دہ امور سے اسلام نے منع کردیا ہے۔ اس لیے جب ایک شخص اسلام کے اوامر و نواہی پر پوری طرح عمل پیرا ہوگا، تو لازمی طور پر اُس سے لوگوں کو راحت پہنچے گی، تکلیف نہیں۔

اسلامی احکامات دو قسم کے ہیں: حقوق اﷲ اور حقوق العباد۔ حقوق العباد کی ادائی بعض کاموں کے کرنے اور بعض کاموں سے رُک جانے سے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر والدین کی خدمت، ادب و احترام، اولاد کی تربیت، شوہر بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا، رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی، پڑوسیوں سے حسن سلوک، مظلوم کی مدد و نصرت، اہلِ اسلام کی نمازِ جنازہ میں شرکت، مریض کی تیمارداری، سلام کا جواب دینا، چھینک پر دعا دینا، پُرخلوص دعوت کا قبول کرنا ایسے کام ہیں جن کے کرنے سے حقوق العباد ادا ہوتے ہیں۔

دیگر حقوق کی ادائی دوسروں کی جان، مال، عزت آبرو سے تعرض اور چھیڑ چھاڑ نہ کرنے سے ہوتی ہے، جسے حضور نبی کریمؐ نے اِس طرح ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح محترم ہیں، جیسے یہ دن (یومِ عرفہ) محترم ہے۔‘‘
انہی تین بنیادی چیزوں کی سلامتی چاہنا، سلامتی کے اقدامات کرنا، ان کی حق تلفی نہ کرنا ہی انسان کے کامل مسلمان ہونے کے لیے لازمی ہے، رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’مسلمان وہ ہے، جس کے ہاتھ، زبان سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔‘‘

اِس حدیث مبارک میں صِرف مسلمانوں کی حفاظت کا ذکر عمومی ہے، بغیر کسی جرم کے کسی کافر کو بھی تکلیف دینا، اُن کے حقوق تلف کرنا جائز نہیں ہے۔ جناب رسول اﷲ ﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ جس (مسلمان) نے حلال کھایا، سنّت کے مطابق عمل کیے، اس کے خطرات سے لوگ محفوظ رہے، وہ شخص جنّت میں داخل ہوگا۔ اِس لیے کسی بھی انسان کی حقوق تلفی نہ تو زبان سے کی جائے، نہ ہی ہاتھ پاؤں سے۔ حدیث مبارک کے اِس حکم سے معاشرے کے ہر انسان پر، چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہے، درج ذیل امور کا ناجائز و حرام ہونا معلوم ہوا:

٭ کسی کو قتل کرنا، جسمانی نقصان پہنچانا، مارنا پیٹنا، یا زبان و قلم سے کسی بے گناہ انسان کے قتل، جسمانی نقصان پہنچانے کا حکم کرنا۔

٭ کسی کا مالی نقصان کرنا، مال چھیننا، چوری کرنا، ڈاکا مارنا، قرض لے کر مُکر جانا، یا کسی دوسرے کو ان حرام کاموں کی تلقین کرنا یا حکم دینا۔

٭ کسی انسان کی عزّت آبرو پر زنا یا بُری نگاہ کے ذریعے حملہ کرنا، زبان و قلم سے عزت مجروح کرنا، طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا، غیبت کرنا، چغلی کھانا، اس کی پوشیدہ نامناسب باتوں کی تشہیر کرنا، غرض کوئی بھی ایسا کام جس سے دوسرے کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہو، حرام ہے۔

اسلام دیگر انسانوں کی صِرف بڑے مظالم و تکالیف ہی سے حفاظت نہیں کرتا، بل کہ انہیں چھوٹی چھوٹی کلفت، ناگواری، رنجش سے بھی محفوظ بناتا ہے، اسی لیے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ایک بہترین صدقہ قرار دیا گیا۔ صفائی کو نصفِ ایمان قرار دیا گیا کیوں کہ صفائی نہ ہونے سے دوسروں کو، خود اپنے کو تکلیف و ناگواری ہوتی ہے۔

ماہ رجب المرجب کے فضائل ….!

لوگوں کو کلفت سے محفوظ رکھنے کے لیے دوسروں کے پاس جانے سے پہلے اجازت لینے کے تفصیلی مسائل قرآن حکیم میں بیان فرمائے گئے ہیں، چناں چہ تعلیم ہے کہ کسی کے پاس ایسے وقت جانا یا رابطہ کرنا چاہیے جب اُن کے آرام یا ضروری مصروفیت کا وقت نہ ہو۔ ملاقات کے لیے مختص اوقات میں بھی بلااجازت کسی کی نجی محفل میں نہیں گھسنا چاہیے، بل کہ اولاً اجازت طلب کرنی چاہیے، اجازت نہ ملنے یا تین بار مناسب آواز سے اطلاع دینے کے باوجود جواب نہ آنے کی صورت میں ناک بھوں چڑھائے بغیر واپس چلے جانا چاہیے۔ ان احکام کو اﷲ تعالیٰ نے معاشرے کے لیے بہترین قرار دیا کیوں کہ اِس میں تمام لوگوں کی راحت ہے۔

جناب نبی کریمؐ نے اپنے اسوۂ مبارکہ سے یہ بھی تعلیم دی کہ اپنے عمل سے اپنے اہل خانہ اور کسی کو بھی ہلکی سی تکلیف بھی نہیں دینی چاہیے۔ جناب نبی اکرمؐ جب تشریف لاتے تو آہستہ سے سلام کرتے، تاکہ جاگ رہے ہیں تو سن لیں، نیند میں ہیں تو آنکھ نہ کھلے۔ حضرت عائشہؓ ارشاد فرماتی ہیں کہ ایک بار نبی کریم ﷺ نے رات کے وقت اٹھ کر آہستہ سے دروازہ کھولا، آہستہ سے باہر تشریف لے گئے اور آہستہ سے دروازہ بند کیا، تاکہ زوجہ مطہرہ کی نیند میں خلل نہ ہو۔

شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ آپ کے عمل سے دوسروں کے دل میں کدورت بھی نہ آنے پائے، اسی وجہ سے محض تین آدمیوں کی موجودی میں دو کو آپس میں سرگوشی سے منع کردیا گیا تاکہ تیسرے کے دل میں شکوک و شبہات اور کدورت پیدا نہ ہو۔ شریعت اُس طرزِ عبادت سے منع کردیتی ہے جس سے دوسروں کو تکلیف ہو، جیسے کسی شخص کے سوتے ہونے کی حالت میں دوسرے کا اونچی آواز سے تلاوت کرنا، اونچی آواز سے ذکر کرنا، یا نماز پڑھنے کی حالت میں کسی دوسرے کا اونچی آواز سے ذکر کرنا، جس سے نماز میں خلل واقع ہو، ممنوع ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسلام ہر ایک شخص کی ہر معاملے میں خیرخواہی کرنے کی ترغیب دیتا ہے، سطورِ بالا میں بہ طورِ نمونہ چند تعلیمات ذکر کی گئی ہیں، ورنہ اسلام کے ہر حکم کا اِس نظر سے مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ہر حکم میں آسانی و راحت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ لہذا جب ایک مسلمان اسلام کی تمام تعلیمات پر عمل کرے گا تو نتیجتاً دوسرے لوگوں کی جان، مال، عزت آبرو غرض ہر چیز اس کے شر سے محفوظ رہے گی۔ جب ہر مسلمان کے عمل سے دوسروں کو راحت پہنچے گی، تو وہ بھی اِس کو راحت و اطمینان دینے کی کوشش کریں گے، ایک دوسرے سے محبّت پیدا ہوگی جو باہمی اتّفاق و اتحاد کا موجب بنے گا۔

%d bloggers like this: