کعبہ کا نام کعبہ کیسے پڑا ….؟

جلوہ افروز ہے کعبہ کے اجالوں کی طرح
دل کی تعمیر کہ کل تک تھی شوالوں کی طرح
’یزدانی جالندھری‘ کے اس شعر کی معنویت سے زیادہ ہماری دلچسپی لفظ ’کعبہ‘ کے معنی میں ہے۔ ’کعبہ‘ بیت اللہ کا صفاتی نام ہے اور اس کے لفظی معنی بلندی یا بلند مقام کے ہیں۔

’کعبہ‘ صفاتی نام کیوں ہے اس کے لیے روایت ملاحظہ کریں جس کے مطابق آغازِ دنیا میں ہر طرف پانی تھا۔ ایسے میں خشکی کا جو ٹکڑا سب سے پہلے پانی سے نمودار ہوا وہ بلند ہونے کی رعایت سے ’کعبہ‘ کہلایا۔ بعد میں اسی مقام پر ’بیت اللہ‘ تعمیر ہوا اور اس بلندی کی نسبت سے ’کعبہ‘ پکارا گیا۔

ایک دوسری روایت کے مطابق زمانہ قدیم ہی سے ’کعبہ‘ کو تقدس حاصل تھا، ایسے میں اس کے گرد کوئی دوسری عمارت تعمیر نہیں کی جاتی تھی اور یوں یہ عمارت متعلقہ مقام پر نسبتاً بلند ہونے کی وجہ سے’کعبہ‘ کہلائی۔

اس باب میں ایک تیسرا نقطہ نظر بھی ہے اور یہ کہ ’بیت اللہ‘ کو ’بلند مرتبہ‘ہونے کی وجہ سے ’کعبہ‘ پکارا گیا۔ غور کیا جائے تو ان تینوں روایات کا مشترک نکتہ ’بلندی‘ ہے جو کعبہ کے معنی میں داخل ہے۔

جہاں تک ’کعبہ‘ کے مجازی معنی کی بات ہے تو کعبہ کی چہار گوشہ (مربع) طرزِ تعمیر کی رعایت سے عربی میں ہر وہ مکان اور کمرا ’کعبہ‘ کی تعریف میں داخل ہے جو مربع یا چوکور صورت ہو۔
لغوی اعتبار سے ’کعبہ‘ کی اصل لفظ ’کعب‘ ہے۔ ’کعب‘ عربی میں ’ٹخنے‘ کو کہتے ہیں۔ چوں کہ ’ٹخنہ‘ قدرے اُبھرا ہوا ہوتا ہے، لہٰذا اس سے’بلندی‘ کا مفہوم پیدا ہوا، پھر اس ’بلندی‘ کی نسبت سے ’بزرگی‘ کے معنی پیدا ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ عربوں میں ’کعب‘ نام رکھنے کا رواج رہا ہے۔

اسلامی احکامات : امن و سلامتی کے ضامن

انگریزی میں عمارت اور کمرے سمیت ہر وہ چیز جو مربع نما ہو کیوب (Cube)، کیوبک (Cubic) اور کیوبیکل (Cubicle) کہلاتی ہے۔ یورپی ماہرین لسانیات کے مطابق Cube ابتدائی یونانی زبان میں kúbos تھا جو لاطینی میں cubus ہوا اور قدیم فرانسیسی میں Cube پکارا گیا، پھر وہاں سے بنا کسی تبدیلی کے انگریزی زبان میں داخل ہوگیا۔

ہمارے خیال میں کیوب (Cube) کی اصل عربی کا ’کعب‘ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لغات میں Cubicle کا ترجمہ ’کعبیہ‘ (کعبہ جیسا) کیا گیا ہے۔ پھر لفظ کعب ہی سے مکعب بھی ہے جس کا انگریزی مترادف ’Cube‘ ہے۔ آسان لفظوں میں کہیں تو کان اُدھر سے پکڑیں یا اِدھر سے ’Cube‘ کی اصل یونانی کے بجائے عربی قرار پاتی ہے۔

’کعبہ‘ کو بیت اللہ اور خانۂ خدا بھی کہتے ہیں۔ ان دونو ں لفظوں کے معنی ’اللہ کا گھر‘ ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مقدس مقام ’بیت عتیق‘ بھی کہلاتا ہے۔ ’عتیق‘ کے معنی قدیم اور پرانا ہیں۔ کیوں کہ کعبہ روئے زمین پر سب سے پہلی اور سب سے قدیم عبادت گاہ ہے اس لیے اسے بیت عتیق یعنی قدیم گھر بھی کہا جاتا ہے.

’کعبہ‘ کو ’قِبلہ‘ بھی کہتے ہیں۔ ’قَبلہ‘ کی اصل ’قبل‘ ہے جس کے معنی میں ’پہل، روبرو اور متوجہ ہونا‘ شامل ہے۔ جب ہم دنیا کے کسی بھی مقام سے نماز کے لیے کعبہ کی جانب رُخ کرتے ہیں تو ایک طرح سے کعبہ کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور کعبہ ہمارے روبرو ہوتا ہے اور اس رعایت سے ’قبلہ‘ کہلاتا ہے۔

چوں کہ بیت اللہ ایک مقدس اور متبرک مقام ہے اس لیے قبلہ و کعبہ کے معنی میں عزت و عظمت بھی شامل ہوگئے، یوں والد بزرگوار سمیت ہر اُس شخص کو ’قبلہ و کعبہ‘ کہا جانے لگا جس سے محبت و عقیدت کا رشتہ ہو۔ دیکھیں میر تقی میر کیا کہہ رہے ہیں:

عشق خوباں کو میر میں اپنا
قبلہ و کعبہ و امام کیا

شعر میں لفظ ’امام‘ آیا ہے۔ برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ ’امام‘ دو طرح کا ہوتا ہے۔ پہلا الف کے زیر کے ساتھ ’إمَامُ‘ ہے، اس کے معنی قائد، پیشوا، سربراہ، فوج کا کمانڈر وسیع اور سیدھا راستہ، مثال اور نمونہ شامل ہے، جب کہ دوسرا الف کے زبر کے ساتھ ’أمامَ ‘ ہے اور اس کے معنی فقط ’سامنے‘ اور ’موجود‘ کے ہیں۔ اب ’إمَامُ‘ اور ’أمامَ ‘ کے فرق کو علامہ اقبال کے شعر سے سمجھیں: قوم کیا چیز ہے، قوموں کی اِمامت کیا ہے

اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے اَمام
اب واپس کعبہ پر آتے ہیں۔ کعبہ کے گرد بنی عمارت کو ’مسجد الحرام‘ کہتے ہیں جس کے معنی ’عزت والی مسجد‘ ہیں۔ اس کے علاوہ کعبہ کے اطراف میں کئی کلو میٹر کے علاقے کو محترم اور مکرم قرار دیتے ہوئے ’حدود حرم‘ سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قرار دی گئی حدود ہیں جن کا احترام واجب ہے۔

’حدود حرم‘ مکہ سے مدینے کی جانب مقام تنعیم کے قریب ذات الحنظل نامی پہاڑی سے پہلے تک تین میل، مکہ سے یمن کی جانب سات میل، مکہ سے عراق کی جانب سات میل، مکہ سے طائف کی جانب سات میل، مکہ سے جعرانہ کی جانب نو میل اور مکہ سے جدہ کی جانب 10 میل تک ہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ حدود حرم اور مقامِ میقات دو الگ چیزیں ہیں۔ میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حج یا عمرہ پر جانے والے لوگ احرام باندھتے ہیں یا جہاں سے احرام باندھنا ضروری ہوتا ہے۔

پانچ مقامِ میقات ابتداء ہی میں متعین کر دیے گئے تھے جبکہ چھٹا میقات برصغیر اور مشرق بعید سے آنے والے زائرین کے لیے بعد میں متعین کیا گیا۔ یہ چھ میقات درج ذیل ہیں:

(1) ذوالحلیفہ: مدینہ سے آنے والے حاجیوں اور زائرین کی میقات (2) جحفہ: شام سے آنے والوں کے لیے (3) قرن المنازل: نجد سے آنے والوں کے لیے (4) یلملم: یمن سے آنے والوں کے لیے (5) ذات عرق: عراق سے آنے والوں کے لیے اور (6) ابراہیم مرسیا: برصغیر اور مشرق بعید سے براستہ سمندر آنے والوں کے لیے۔ جب کہ اہل مکہ کی میقات ان کا اپنا گھر یا مسجد الحرام ہے۔

اب آخری بات اور وہ یہ کہ حرمین یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، حجاز کے علاقے میں واقع ہیں۔

’حجاز‘ کے لفظی معنی ’روک، آڑ اور حد فاصل‘ کے ہیں۔ حجاز کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ علاقہ ’نجد‘ کے بلند اور ’تہامہ‘ کے نشیبی علاقوں کے درمیان حاجز (آڑ) کا کام کرتا ہے اس لیے ’حجاز‘ کہلاتا ہے۔

واضح رہے کہ ’نجد‘ کے معنی ’بلند‘ اور ’تہامہ‘ کے معنی ’نشیب‘ کے ہیں۔ ان علاقوں کے یہ نام ان کی جغرافیائی ہیئت کی وجہ سے دیے گئے ہیں۔

Leave a Reply