April 12, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

دوپہر کے کھانے

دوپہر کے کھانے کے بعد انسان سست کیوں ہوتا ہے۔۔۔۔؟

کیا آپ نے کبھی یہ بات سوچی ہے کہ اگر آپ کی نیند رات کو آٹھ گھنٹے بھی پوری ہوجائے اور کسی وجہ سے تھکاوٹ بھی نہ ہو تو پھر بھی دوپہر کے وقت کھانا کھانے کے بعد آپ کی طبیعت سست ہونے لگتی ہیں اور آپ کی آنکھیں بند ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

دنیا بھر کے مختلف ممالک میں لوگ دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ کرتے ہیں لیکن جاننا یہ ہے کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کپھ ماہرین کا کہنا ہے کہ قیلولہ کرنے کی عادت انسان کی جینز میں شامل ہوتی ہے اور اس کا تعلق انسان کے رویوں سے نہیں ہوتا۔

یہ بات امریکی ماہرین نے پیش کی تھی لیکن آپ ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے اپنی تحقیق میں 5 لاکھ سے زائد افراد کے جینومز کا مطالعہ کیا اور دریافت کیا کہ دوپہر کے وقت سونے کی وجہ حیاتیاتی ہوتی ہے۔

ماہرین نے انسان کے جینوم کے 123 حصوں کا بغور مطالعہ کیا ان جینوم کا تعلق دوپہر کی نیند سے تھا۔ ماہرین نے مزید گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا تو انہوں نے قیلولہ کی وجہ تین جینوم ہوتے ہیں۔

پاکستان میں کیا زیادہ سرچ کیا جارہا ہے ….؟

ان میں سے ایک میکنزم کو ڈس رپٹڈ سلیپ دوسرے کو ارلی مارننگ ایکیننگ کا نام دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ایسے افراد میں نظر آیا جو رات کے وقت پوری نہیں کرتے تھے یا کسی وجہ سے صبح جلدی اٹھ جاتے ہیں۔ ان میں سے تیسرے میکنزم کو سلیپ پروپینسٹی کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو 24 گھنٹے میں کتنی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریسرچ کے نتائج سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دوپہر کے وقت سونے کی عادت جیز میں ہوتی ہے اور اس کا ماحول اور انسانوں کے رویے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ماہرین نے تحقیق میں کچھ جینیاتی عادات کی بھی شناخت کی ہے جس سے کئی طبی مسائل جیسے کہ بلڈپریشر اور موٹاپے کو منسلک کیا ہے۔

تحقیق کرنے والے ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ کچھ لوگ دوپہر کو سونے کے عادی ہوتے ہیں اس سے پہلے آسٹریلیا کے ماہرین نے ایک ریسرچ کی تھی اور انہوں نے یہ بات بیان کی تھی کہ دوپہر کے کھانے کے بعد طبیعت سست ہونے اور غنودگی چھانے کا عمل فطری ہوتا ہے کیوں کہ انسان کی فطرت میں ہی دن میں دو بار نیند لینا شامل ہوتا ہے۔

%d bloggers like this: