چئیرمین سینٹ انتخابات: اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

اس وقت پاکستان کی سیاست میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ سینٹ کا نیا چئیرمین کون ہوگا؟ اس وقت نئے چیئرمین کے انتخاب کے حوالے سے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر ہے۔
سینیٹ چیئرمین کے لیے پارٹی پوزیشن پر نظر دوڑانے سے قبل یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ ایوان بالا کے ان انتخابات میں سوچ سے بالاتر نتائج آنے کا امکان موجود ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال خود اس وقت چیئرمین سینیٹ کے امیدوار یوسف رضا گیلانی اور صادق سنجرانی ہی ہیں، جو اس قدر پیچیدہ انتخابی مقابلے میں اپ سیٹ دینے کے حوالے سے اب ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔

این اے 249 کراچی کے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری

اپوزیشن اراکین کی کم تعداد کے باوجود یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کو شکست دے کر سینیٹر بننے میں کامیاب ہوئے اور اب وہ چیئرمین سینیٹ کی دوڑ میں بھی بہتر پوزیشن میں نظر آرہے ہیں۔ اس وقت اپوزیشن کو چیئرمین سینیٹ منتخب کروانے کے لیے بظاہر 51 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے لیکن یہ ووٹنگ خفیہ رائے شماری سے ہونے کی وجہ سے اس کا نتیجہ الٹ بھی سکتا ہے۔یعنی یوسف رضا گیلانی 51 سے زیادہ بھی ووٹ لے سکتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خفیہ رائے شماری کے دوران ان ظاہری اکثریت بھی سمٹ جائے۔

یوسف رضا گیلانی کے موابلے میں صادق سنجرانی بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ صادق سنجرانی پہلی بار آزاد حیثیت سے سینیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے جس کے بعد وہ اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومت دونوں کی حمایت حاصل کر کے تین سال کے لیے چیئرمین سینیٹ منتخب ہو ئے۔اپنی تین برس کی مدت پوری کرنے کے بعد وہ اب دوسری مدت کے لیے حکومتی اتحاد کی جانب سے سینیٹ چیئرمین کے امیدوار ہیں۔لیکن اس بار فرق یہ ہے کہ ان کے مد مقابل پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار سیاستدان میدان میں موجود ہیں، جن کی وزارت عظمیٰ کے دوران حفیظ شیخ کی طرح صادق سنجرانی نے بھی ان کے ماتحت کام کیا ہے۔

حکومتی ترجمان یہ دعویٰ کرتے نظر رہے ہیں کہ انھیں اکثریت کی حمایت حاصل ہو چکی ہے لیکن ان دعوؤں سے قبل اس وقت سینیٹ میں چھوٹی جماعتوں کی غیر معمولی اہمیت کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس وقت 100 کے ایوان میں چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے لیے 51 ووٹ درکار ہیں۔ بظاہر اس وقت حکومتی اتحاد اپوزیشن سے پیچھے ہے مگر اپوزیشن اتحاد کے لیے جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔اپوزیشن کے پاس اس وقت سینیٹ میں 52 ووٹ ہیں جن میں سے 20 سینیٹرز کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ 18 پاکستان مسلم لیگ ن کے اراکین ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ سینیٹرز کا تعلق جے یو آئی (ف) سے ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کے پاس دو، دو جبکہ جماعت اسلامی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور ایک آزاد امیدوار کے پاس ایک، ایک ووٹ موجود ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر شمیم آفریدی آزاد حیثیت سے فاٹا سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ فاٹا کی خصوصی حیثیت ختم ہونے اور پر یہ علاقہ خیبر پختونخوا میں ضم ہو گیا اور اس سے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قریب ہو گئے۔ لیکن اس بار فاٹا سے کوئی منتخب نہیں ہوا مگر اس علاقے کی خصوصی حیثیت ختم ہونے سے پہلے شمیم آفریدی سمیت چار سینیٹرز قبائلی علاقوں سے سینیٹ میں پہنچے تھے، جو مزید تین سال بھی ایوان بالا کا حصہ رہیں گے۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر اسحاق ڈار لندن میں مقیم ہیں۔ اگر ان کا ووٹ نہ گنا جائے تو اپوزیشن کے پاس کل نشستیں 51 رہ جاتی ہیں اور ابھی تک جماعت اسلامی نے اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ سینیٹ میں حکومت کا ساتھ دے گی یا اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے گی۔اگر جماعت اسلامی ووٹنگ کے عمل سے اجتناب کرے تو اپوزیشن کی تعداد 50 بنتی ہے اور یوں یوسف رضا گیلانی اس وقت تک چیئرمین سینیٹ نہیں بن سکتے جب تک جماعت اسلامی یا حکومتی اتحاد میں سے کوئی انھیں ووٹ نہیں ڈالتا۔

یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں وفاق اور سندھ سے حصہ نہیں لیا۔اس سے قبل بھی جب اپوزیشن اتحاد نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی تو جماعت اسلامی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

Leave a Reply