آج کل

تبدیلیوں

کرونا وائرس کی نئی تبدیلیوں سے ماہرین نے لوگوں کو خبردار کر دیا…!

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز سے ہی ماہرین اب تک مختلف تحقیقات کر رہے ہیں اور آئے دن کوئی نہ کوئی نئی بات سامنے آتی رہتی ہے۔ جو ماہرین کو خود حیران کر دیتی ہے۔ کرونا وائرس کے آغاز سے اب تک اس کی نوعیت اور علامات تبدیل ہوتی رہی ہیں۔

اسی لیے ماہرین کی کوئی بھی تحقیق حتمی نہیں کہلائی جا سکتی کیونکہ وائرس اپنی نوعیت تبدیل کرتا رہا ہے اور اب بھی ماہرین نے اپنی حالیہ ریسرچ میں کرونا وائرس کی نئی تبدیلیوں کے متعلق انکشافات کیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب کرونا وائرس کی ویکسین بھی آچکی ہے لیکن وائرس تیزی سے اپنی نوعیت بدل لیتا ہے جس کی وجہ سے آنے والی ویکسین کی اضر انگیزی کم ہو جاتی ہے۔ حالیہ تحقیق میں ماہرین نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس میں تبدیلی اس کی ویکسین کے اثرات کو کم کرسکتی ہیں اور بہتر یہی ہے وائرس کی ہوئی بدلتی نوعیت پر مسلسل نظر رکھی جائے۔

دوپہر کے کھانے کے بعد انسان سست کیوں ہوتا ہے۔۔۔۔؟

برطانیہ میں کی جانے والی ریسرچ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں دریافت ہونے والے کرونا وائرس کی ایک نئی قسم موجودہ ویکسین کی افادیت کو کم کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جو مونوکلونل اینٹی باڈیز کا طریقہ علاج کے لیے استعمال ہو رہا ہے اس کی افادیت بھی ضائع ہو سکتی ہے۔ ان طریقوں سے وائرس کو شکست دینے والا شخص دوبارہ سے اس وائرس میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ نئے کلینکل ڈیٹا سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وائرس کی نوعیت اس حد تک تبدیل ہوچکی ہے کہ موجودہ ویکسین اس کے سامنے بیکار جائے گی۔ اگر وائرس اسی رفتار سے مسلسل بڑھتا رہا تو ہم میں کرونا وائرس کی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھنا پڑے گی۔

جیسا کہ انفلوئنزا وائرس کے حالات میں کیا جا رہا ہے ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وائرس کے جلد از جلد پھیلاؤ کو روکا جائے تاکہ وائرس وہ اپنے اندر مزید تبدیلیاں نہ لاسکے اور ہر بڑے نقصانات سے بچا جاسکے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *