April 12, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

پاکستانی فری لانسرز کیلئے بری خبر

فری لانسنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو پیسے کمانے کے لیے کہیں جانا نہیں پڑتا، بلکہ آپ گھر بیٹھ کر کام کریں، تو بھی پیسے خود چل کر آپ کے پاس آ جاتے ہیں۔دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہزاروں افراد ملک و بیرونِ ملک اپنے کلائنٹس کو مختلف خدمات فراہم کر کے پیسے کماتے ہیں جو ملکی خزانے کا حصہ بنتے ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے حوالے سے خبریں شائع ہوئیں کہ ایف بی آر نے تقریباً 60 ارب روپے کی بیرونِ ملک سے پاکستان منتقلی کا پتا لگایا ہے جو کہ گذشتہ ڈھائی سال کے دوران بیرونِ ملک کلائنٹس کو فری لانسنگ خدمات فراہم کرنے اور اُنھیں چیزیں فروخت کرنے کے عوض حاصل ہوئے۔

ہفتے میں 2 لاکھ روپے کیسے کمائے جا سکتے ہیں؟

اطلاعات کے مطابق ایف بی آر نے جس رقم کا پتا لگایا ہے وہ ’پیئونیئر‘ نامی کمپنی کی جانب سے پاکستان میں مختلف افراد کو بھیجی گئی۔پیئونیئر ایک ڈیجیٹل ادائیگیوں کا پلیٹ فارم ہے جس کا کام ایک شخص کی ادائیگی کو صرف دوسرے تک پہنچانا ہے اور یہ کمپنی بذاتِ خود ادائیگی نہیں کرتی۔
جہاں دنیا کے کئی ممالک میں فری لانسر ’پے پال‘ کا استعمال کرتے ہیں، وہیں پیئونیئر پاکستان میں پے پال کی خدمات دستیاب نہ ہونے کے باعث، پاکستانی فری لانسرز کا پسندیدہ پلیٹ فارم ہے۔

مشہور فری لانسنگ ویب سائٹس فائیور یا اپ ورک وغیرہ پر کام کے بدلے میں کلائنٹ کی جانب سے رقم پیئونیئر اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے جسے بعد میں صارفین اپنے پاکستانی بینک اکاؤنٹ یا ’جیز کیش‘ میں منتقل کروا سکتے ہیں۔

خبروں میں ایف بی آر کے حوالے سے کہا گیا کہ اس آمدنی سے ملکی خزانے کو اربوں روپے ٹیکس کی مد میں حاصل ہو سکتے ہیں۔چنانچہ اس حوالے سے کئی افراد اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے کہ کیا اب انھیں ایف بی آر کے نوٹسز کا سامنا کرنا پڑے گا اور اپنی اس کمائی پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا کہ نہیں؟تاہم یہ فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے اور ایف بی آر صرف احکامات پر عمل کرے گا۔

%d bloggers like this: