April 11, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

شبِ برات کی فضیلت

شعبان المعظم کا مہینہ دراصل رمضان المبارک کے استقبال کا مہینہ ہے اس مہینے کی فضیلت متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ثابت ہے سید الکونین جناب محمد رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم شعبان المعظم میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں عبادات و اذکار میں کچھ اضافہ کردیتے تھے تاکہ آنے والے مہینے کے لیے پہلے سے کمربستہ ہو جائیں البتہ شعبان المعظم کی پندرہویں شب میں بھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کوئی مخصوص طریقہ کار ثابث نہیں، ہاں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہر ماہ کی۱۳ ۱۴ ۱۵ تاریخ کو روزہ رکھتے تھے اس لیے اگر کوئی اس نیت سے رکھ لے تو موجب اجر ہوگا، اس رات کوجتنا زیادہ سے زیادہ ہوسکے عبادت وریاضت میں ذکر و اذکار میں اوراد و وظائف میں انفرادی طور پر گذارا جائے اجتماعی عبادات کا ثبوت نہ قرآن وسنت سے اور نہ ہی آثار صحابہ سے ہے اس کسی عمل اجتماعیت کی شکل دینا شرعاً ناجائز ہےاور ایسی متبرک رات لہو ولعب سے کھیل کود سے سیرو سیاحت سے مٹرگشتی سے شورو غوغا سے میلے اور ٹھیلے سے حتی الامکان اپنے آپ کو دور رکھنےکی کوشش کرنا چاہئے

دوسری بات جہاں تک مسئلہ ہے اس رات قبرستان جانے کا تو اس سلسلے میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوری زندگی میں صرف ایک مرتبہ جنت البقیع جانا ثابت ہے اس لئے اگر کسی کا عمل ایک آک بار ایسا ہوگیا تو حب رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دامن بھرنے کے لیے یہ کافی ہے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں کہ والد صاحب ایک بڑی کام کی بات بیان فرمایا کرتے تھے، جو ہمیشہ یاد رکھنی چاہیئے فرماتے تھے جو چیز رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جس درجہ میں ثابت ہو اسے اسی درجہ میں رکھنا چاہیے.

لہٰذا ساری حیات طیبہ میں رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ جنت البقیع جانا مروی ہے کہ آپ ص شبِ برات میں جنت البقیع تشریف لے گئے چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے اس لئے تم بھی اگر زندگی میں ایک مرتبہ چلے جاؤ تو ٹھیک ہے لیکن ہر شب رات میں اہتمام کرنا ضروری سمجھنا اور اس کو شب برات کے ارکان میں داخل کرنا اور اسکو شب برات کا لازمی حصہ سمجھنا اور اس کے بغیر یہ سمجھنا کہ شبِ برات نہیں ہوئ یہ اس کو اسکے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے لہذا اگر کوئج شخص اس نقطہ نظر سے گورستان چلاجائے کہ رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے میں بھی آپ کی اتباع میں جارہا ہوں تو اسے اجر اور ثواب ملے گا،

تیسری بات شبِ برات کے دن اکثر جگہوں پر حلوہ یا شیرینی بنانے کا عام رواج ہے بلکہ احقر کے زادبوم اور محلے میں تو خوب واہ واہ ہی کا سما اور ماحول ہوتا ہے خاص طور سے عورتیں اس کا خوب خوب اہتمام کرتی ہیں رنگ برنگ کے حلوے اور شیرینی بناتیں ہیں ایک دوسرے کو دعوت دیتی ہیں یہ سب اغلاط العوام میں سے ہے بلکہ کہنا یہ چائے کہ سراسر بدعت ہے کیونکہ اس کا ثبوت قرآن سے نہ سنت سے اور نہ آثار صحابہ وتابعین سے اصل یہ کہ یہ مغفرت کی رات ہوتی ہے اور شیطان بھی ہر جگہ اپنا حصہ لگا لیتا ہے.

ایک حدیث میں آیا ہے کہ اس رات میں اللّٰہ تعالیٰ اتنے لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں جتنے قبیلہ کلب کی بکریوں کے جسم پر بال ہیں اس لیے شیطان نے اس میں اپنا بھی حصہ لگا لیتا ہے کہ اگر سب کی مغفرت ہوگئی تو میں تو لٹ گیا تو لوگوں کو کھانے پکانے میں مشغول کردیتا ہے اب نہ عبادت کا اہتمام رہا اور نہ کسی اور عمل کا، دین اپنا شوق پورا کر ڈالنے کا نام نہیں اور نہ ہی عقل کی پیروی کا نام دین ہے بلکہ دین نام ہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی اتباع کا ہے.

ماہ رجب المرجب کے فضائل ….!

فرزندانِ ملت اسلامیہ سے اپیل ہے کہ اپنے اپنے گھروں میں رہکر ہی عبادات کا اذکار کا دعاؤں کا اور استغفار کی کثرت کا اہتمام کریں خاص طور پر اس وقت جو وبائی امراض کا طوفان چہاردانگ کو اپنے چپیٹ میں لئے ہوا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اس سے تمام فرزندانِ توحید کو نجات دے اور مسلمانوں پر ہورہے ظلم و ستم سے (جو ہمیں اپنے گناہوں کی پاداش میں مل رہا ہے) نجات عطاء فرمائے آمین

%d bloggers like this: