April 15, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

ٹھنڈا کھانے سے دانتوں میں درد کیوں ہوتا ہے؟

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس بات کا پتا چلا لیا ہے کہ برف کھانے یا ٹھنڈے مشروبات پینے سے کچھ لوگوں کے دانتوں کا درد کیوں بڑھ جاتا ہے۔

انھوں نے حساس دانتوں میں ایسے خلیوں اور سگنلز کا پتا چلایا ہے جن سے درجہ حرارت میں کمی واقع ہوتی ہے، دانتوں کا درد بڑھ جاتا ہے اور دماغ کو جھٹکے لگتے ہیں۔

ایسے افراد جن کے دانت خراب ہو رہے ہوتے ہیں انھیں اس سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

یہ تحقیق نئے علاج کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے، جن میں ٹوتھ پیسٹس کا استعمال کرنا، دانتوں میں بھرائی کرانا یا چوئنگم چبانا شامل ہے۔

سائنس ایڈوانسز جریدے میں شائع ہونے والے اس تحقیقی مضمون کی اہم محقق پروفیسر کیتھرینا زمرمن ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب مالیکیول کو ٹارگٹ کرنا ہو تو ایسے میں علاج ممکن ہو جاتا ہے۔

یہ خلیے ٹی آر پی سی 5 کہلاتے ہیں۔ جرمنی میں فریڈرک الیگزینڈر یونیورسٹی ارلینجن نورنبرگ میں پروفیسر زمرمن کی ٹیم نے اس کا سبب ایک مخصوص خلیے کی قسم یعنی اوڈونٹوبلاسٹ کو قرار دیا ہے، جو نرم اندرونی گودے اور ڈینٹین پر مشتمل دانتوں کی سخت بیرونی سطح کے درمیان رہتا ہے، جس کے بعد انیمل ہوتا ہے۔

اگلی تہہ یعنی ڈیٹین کے مقابلے میں انیمل میں کوئی احساس نہیں ہوتا۔ ڈینٹین اندرونی گودے سے جوڑتی ہے، جہاں اعصابی خلیات رہتے ہیں۔ اگر دانتوں کے خراب ہونے کی وجہ سے ڈینٹین سامنے آ جائے تو یہ بہت درد ناک ہوتا ہے جیسا کہ بخار یا بعض لِکویڈز میں درد پیدا ہوتا ہے۔

محققین نے چوہوں اور انسانوں پر یہ جاننے کے لیے مطالعہ کیا کہ آخر یہ درد کیسے جنم لیتا ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ خلیوں اور اعصاب میں کیا ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر زمرمن کا کہنا ہے کہ ’انسانی دانتوں میں ہمیں ٹی آر پی سی 5 چینلز کی بہت زیادہ بے قاعدہ تعداد ملی ہے۔‘

‘اور اسی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ ٹی آر پی سی 5 بلاکر کی انجنئیرنگ کرنے سے جو مقامی طور پر سٹرپس یا چیونگم کے ذریعے دانتوں پر لگایا جاسکتا ہے ممکنہ طور پر دانت میں درد یا دانتوں کی حساسیت کے علاج میں بڑا معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اس درد سے نجات کا ایک بہت عام علاج لونگ کا تیل ہے، جس میں ایسا کیمیکل (یوجینول) ہوتا ہے جو ٹی آر پی سی 5 کے راستے کو بلاک کر دیتا ہے۔

سائنسدان اگرچہ اس طریقہ علاج کے حامی نہیں ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کسی بھی قسم کے دانت درد کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔

%d bloggers like this: