April 11, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

وہ عام عادت جو موٹاپے اور توند کا باعث بن سکتی ہے

کیا آپ موٹاپے سے پریشان ہیں، مگر ورزش یا صحت بخش غذا کے استعمال کے باوجود جسمانی وزن میں کمی نہیں آرہی؟

صحت مند طرز زندگی گزارنے کے اہم طریقے

تو ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ آپ کی اپنی ایک عادت ہو۔

اگر آپ میں بھی یہ عادت موجود ہے تو اس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں اضافہ ہوتا ہے اور بتدریج انسان موٹاپے کا شکار ہوجاتا ہے۔

جی ہاں ایک عادت ایسی ہے جو بیشتر افراد میں پائی جاتی ہے اور وہ ہے اپنا کھانا بہت تیزی سے ختم کرنا یا اچھی طرح چبائے بغیر نگل لینا جو کہ صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہو نے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برسٹل یونیورسٹی اور روہیمپٹن یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانا بہت تیز رفتاری سے جزوبدن بنانا صحت کے لیے نقصان دہ عادت ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ تیزرفتاری سے کھانے کے نتیجے میں لوگ ضرورت سے زیادہ مقدار میں کھالیتے ہیں کیونکہ جسم کو یہ احساس کرنے میں وقت لگتا ہے کہ پیٹ بھر گیا ہے۔

اسی طرح ایک وجہ کھیل کود کی خواہش بھی خوراک کو تیزرفتاری سے ختم کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ وجہ جو بھی ہو جن افراد میں یہ عادت موجود ہوتی ہیں ان میں موٹاپے اور توند نکلنے کا امکان بھی دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل کلینیکل اوبیسٹی کے آن لائن ایڈیشن میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جب آپ سست روی سے کھانا کھاتے ہیں یعنی کم از کم 20 منٹ اس کام کے لیے لگاتے ہیں تو اس سے غذائی نالی کو خوراک ہضم کرنے کا عمل شروع کرنے کا موقع ملتا ہے۔

زیادہ تیزی سے کھانے سے ہوا بھی معدے میں چلی جاتی ہے اور پیٹ پھول جاتا ہے جس سے معدے میں تیزابیت کی شکایت بھی پیدا ہوتی ہے جبکہ گیس بھی ہوجاتی ہے۔

خوراک کو مناسب طریقے سے چبا کر نگلنا جسمانی وزن میں کمی کا آسان ترین نسخہ بھی ہے۔ ٹیکساس کرسٹین یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق آہستگی سے کھانے اور چھوٹے لقمے لینے سے لوگوں کو کھانے کے کچھ دیر بعد بھوک کا احساس کم ہوتا ہے۔

اسی طرح جو لوگ سست روی سے کھاتے ہیں وہ زیادہ پانی بھی پیتے ہیں جس سے انہیں طبیعت سیر ہونے کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے دوران کھانے کی رفتار اور کیلیوریز لینے کے عمل کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ آہستہ کھانے والے افراد اوسطاً تیزی سے کھانے والوں کے مقابلے میں 88 کیلیوریز کم استعمال کرتے ہیں۔

%d bloggers like this: