May 18, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

ڈسکاؤنٹ

کیا ویکسین کے بعد بھی کرونا کا حملہ ہوسکتا ہے…؟

حکومتی ادارے قومی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف ویکسین لگوانے کے باوجود بھی وائرس کا کم شدت کا حملہ ہوسکتا ہے۔

یہ بات ادارے کی عوامی تجربہ گاہ کے سربراہ ڈاکٹر سلمان نے کہی۔ ڈاکٹر سلمان کے مطابق کورونِاوائرس ویکسین کی دو خوراکیں لینے کے چار ہفتے بعد جسم میں اینٹی باڈیز کی مقدار جاننے کے لیے اینٹی اسپائک پروٹین ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے جس میں ایک اعشاریہ پانچ سے زائد مقدار آنا مثبت اور تسلی بخش نشانی ہے، ویکسین کی خوراکیں مکمل ہونے کے بعد بھی کورونا وائرس کا حملہ ہوا تو کوئی دوسری کمپنی کی ویکسین ہرگز نہیں لگائی جاسکتی۔ دوسری جانب گلوبل ویکسین سینٹر نہ بھی تیسری خوراک کی تاحال اجازت نہیں دی۔

قومی ادارہ صحت کے چیف پبلک ہیلتھ لیبارٹریز ڈویژن ڈاکٹر سلمان کے مطابق جسم میں اینٹی باڈیز کی مقدار عمر کے حساب سے مختلف ہے، کورونا وائرس کا حملہ ویکسی نیشن کے بعد بھی ہوسکتا ہے اس کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ویکسین کے بعد وائرس کا حملہ بہت شدید نہیں ہوگا، ویکسی نیشن کرانے سے وبا کی شدت اور بیماریوں کے نقصانات سے محفوظ ہوا جاسکتا ہے، ویکسی نیشن مکمل ہونے کے چار ہفتے بعد کیے جانے والے ٹیسٹ میں جسم میں اینٹی باڈیز کی مقدار کٹ آف اور ایک اعشاریہ پانچ فیصد ہونا مثبت امر ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ جسم دوبارہ اینٹی باڈیز بنا رہا ہے، یہ ایک نارمل صحت مند انسان کے اینٹی باڈیز کی مقدار ہے۔

سعودی عرب نے عمرہ کی ادائیگی کیلئے کرونا ویکسین لازمی قرار دے دی

ذرائع کے مطابق ویکسین لگانے سے کورونا وائرس کے حملے سے جسمانی اعضاء کو پہنچنے والے نقصان سے محفوظ ہوا جاسکتا ہے۔ دوبارہ کورونا مثبت آنے کے امکانات اپنی جگہ موجود ہیں لیکن ویکسین کی تیسری خوراک لینا تاحال عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ابھی تجویز نہیں کی گئی ہے۔

حکومت پاکستان تیسری خوراک لگانے کے حوالے سے جلد ہی اپنی پالیسی کا اعلان کرے گی جبکہ لوگوں میں اس بات کا خوف پایا جا رہا ہے کہ ویکسین کی خوراکیں مکمل ہونے کے بعد بھی اگر وائرس کا حملہ ہوا تو ویکسین کی تیسری خوراک کہاں سے لی جا سکے گی؟ کیونکہ شناختی کارڈ پر ایک دفعہ رجسٹریشن ممکن ہے۔