May 9, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

گلے میں درد ہو تو کیا نہیں کھانا چاہئیے

بدلتے موسم میں سب سے عام مسئلہ جو اس موسمی صورتحال میں پیدا ہوتا ہے وہ گلے کی خرابی اور سوزش کا ہے۔ یہ بیکٹیریا سے چلنے والی ایک عام بیماری ہے جو دو یا تین دن تک رہتی ہے اور کھانے ، پینے اور بات کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ اکثر آپ کو جلن کے ساتھ گلے میں درد بھی ہوتا ہے جس کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔


اگرچہ بہت سے گھریلو علاج ایسے ہیں جو درد اور جلن کو کم کرنے میں معاون ہیں ، لیکن یہ مشورہ ہے کہ طرز زندگی کے کچھ طریقوں اور ایسے کھانے سے بچیں جن سے گلے کی تکلیف ہوسکتی ہے تو آپ کو جلد صحت یابی ہو گی۔ یہاں ہم کھانے کی ان اشیا کے بارے میں بات کرنے جارہے ہیں جن سے آپ کو اس سیزن میں دور رہنا چاہئے۔

رمضان المبارک میں وزن کم کرنا آسان یا مشکل؟جانئیے


اگر آپ کو دہی بہت پسند ہے تو یہ آپ کیلئے بری خبر سے کم نہیں ہے، اگر گلے میں سوجن اور درد محسوس ہو رہا ہے تو ہر قیمت پر اس سے بچنے کی تجویز ہے۔ کیونکہ دہی بلغم کو گاڑھا کرکے کھانسی کو خراب کرتا ہے جس سے بلغم سینے پر جمع ہو جاتی ہے۔
پنیر کیلشیم ، وٹامنز اور معدنیات سے مالا مال ہوتا ہے ، گلے کی سوزش کے دوران اس کا استعمال کرنا اچھا نہیں ہے ، کیوں کہ گلے میں سوجن بڑھ سکتی ہے ، جو آپ کے لئے اچھی نہیں ہے۔


اس کے علاوہ گلے کی سوزش میں مبتلا ہونے کے دوران ، سنترہ ، لیموں اور کینو سے بھی مکمل پرہیز کرنی چاہئیے کیوں کہ ان کا پھلوں میں کھٹا ہونا آپ کے گلے کو مزید پریشان کردے گا اور اس سے الرجی اور خارش ہونے کا بھی خدشہ ہے ۔
گلے کی خرابی کے دوران تلے ہوئے کھانوں سے بھی اجتناب کرنا چاہئیے کیونکہ انہیں ہضم کرنے اور وائرس سے لڑنے کے لئے جسم کی صلاحیت مزید کم ہو جاتی ہے۔


مصنوعی پیک شدہ جوس جو مصنوعی رنگوں اور چینی سے لدے ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے گلے میں سوزش ہوسکتی ہے اور ایسے مواد سے پیٹ میں تیزابیت بھی ہوسکتی ہے۔
املی کا خام / پاؤڈر اکثر گلے میں الرجی کا سبب بنتا ہے ، لہذا گلے کی سوزش کے دوران اس کے استعمال سے بچنے کی تجویز کی جاتی ہے ، کیونکہ یہ درد اور جلن کو بڑھا سکتا ہے۔
امچور پاؤڈر یہ ذائقہ میں کھٹا اور پیچیدہ بھی ہے اور گلے کے درد کو بھی بڑھا سکتا ہے ، لہذا ہر قیمت پر ان چیزوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔