May 9, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

سحری و افطاری میں کن غذاؤں کا استعمال کرنا چاہئیے

اگر آپ روزے کے دوران زیادہ بھوک محسوس کرتے ہیں یا افطاری کے بعد آپ حد سے زیادہ کھا لیتے ہیں صرف یہ سوچ کر کہ دن بھر نہیں کھایا اور جو انرجی کم ہوئی ہے اسے پورا کر لیں تو ایسا کرنے سے آپ کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ سحری اور افطاری میں کونسی غذاوں کا استعمال کر کے آپ صحت مند رہ سکتے ہیں۔

سحری و افطاری میں کن غذاؤں کا استعمال کرنا چاہئیے


سحری میں ایسی غذا استعمال کرنی چاہئیں جس میں کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوں۔مثال کے طور پر ایک پیلالہ دلیہ دودھ کے ساتھ ہی ایک مٹھی میوے کا استعمال بھی فائدے مند ہے ۔
سحری میں چکی کے آٹے کی روٹی کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔ دلیہ یا دوسرے کسی غلے اور اسپغول کے چھلکے کا استعمال ہمیں دیر تک بھرے پیٹ کا احساس دلاتا ہے اور صحت کے لئے بھی اچھا ہے۔
پروٹین صحت کے معاملے میں ایک ایسا جزو ہے جو زیادہ دیر تک آپ کو سیر رکھتا ہے اور بھوک نہیں لگنے دیتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پروٹین میں چربی کے مقابلے میں کیلوریز کم ہوتی ہیں اس لیے دوسری غذاوں کے مقابلے میں ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے سو یہ ایک بہترین راستہ ہے جو آپ کو زیادہ دیر تک سیر رکھتا ہے۔حقیقی پروٹین حاصل کرنے کے لیے انڈے، مچھلی، مرغی کا گوشت، دہی، سویابین استعمال کریں یا اگر سحری کے وقت آپ زیادہ ٹھوس غذا نہیں لے سکتے تو پھر پروٹین کا شیک بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

سحری کے وقت سخت غذا، بھنے ہوئے گوشت اور مصالحہ دار غذا وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں ایسے کرنے سے دن میں پیاس لگنے کا امکان ہوتا ہے۔


سحری میں تیز یا سٹرونگ چائے، کافی، کوک ، سیون اپ یا اس جیسی دیگر مشروبات،مصالحہ جات، تیز مرچ، نمکین غذا کھانے سے بھی پیاس زیادہ لگنے کا خطرہ ہے۔


پانی کا زیادہ استعمال مفید ہے تاہم کھانے کی ایسی چیزیں جو اپنے اندر صحت مند پانی رکھتی ہیں جیسے کھیرا، ٹماٹر، پالک اور سنگترے وغیرہ اپنی خوراک میں شامل کریں۔

افطاری کے بارے میں ماہرین کا کہنا کہ روزہ کھولنے کے لیے کھجور اور دہی، پانی اور تازہ پھلوں کا رس استعمال کرنا چاہئیے۔ اس کے بعد دس منٹ تک انتظار کرنے کے بعد ایسی خوراک لینی چاہیئے جس میں معدنیات زیادہ ہوں۔


افطار میں مرغی کا گوشت اور ابلے ہوئے چاول ، جبکہ سبزیوں اور پھلوں والے کریم سلاد کا بھی استعمال کریں۔افطار اور سحری کے درمیان سبزی جات اور فروٹ جسیے تربوز،آڑو وغیرہ دن کے بھوک اور پیاس سے بچانے میں موثر ہیں۔


افطار پر پھل کا پیالہ یا بغیر پاپڑی کی چنا چاٹ کھا کر افطار کیا جاسکتا ہے لیکن ان چیزوں میں چینی، نمک اور تیل کا استعمال نہ کریں۔کوشش کرنی چاہیئے کہ چینی اور چربی سے بنی چیزوں سے پرہیز کیا جائے، کیونکہ یہ کھانے نہ صرف انسانی میٹابولیزم پر منفی اثرات ڈالتے ہیں، بلکہ اس سے سر میں درد ہو سکتا ہے اور انسان تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔


ہمارے ہاں سموسوں، پکوڑوں کے بغیر افطار نامکمل سمجھی جاتی ہے اگر اس کے بغیر افطاری ممکن نہیں ہے تو ان سموسوں یا رول کو بجائے تیل میں فرائی کرنے کے ان پر تیل برش کر کے بیک کر لیں۔


ایسے کھانے جن میں تیل گھی وغیرہ کا استعمال بالکل نہیں ہوتا یا بہت کم مقدار میں ہوتا ہے، جیسے آلو چنے کی چاٹ اور دہی بڑے وغیرہ کا استعمال کریں، تیل و گھی والے سموسے، پکوڑے، کچوریوں کے بجائے سینڈوچ بہتر متبادل ثابت ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نرم اور زود ہضم غذا جیسے یخنی،شوربہ ، مرغی کا گوشت،کھیر اور دیگر نرم غذا کھائیں اسکے علاوہ سبزی جات، فروٹ،سوپ وغیرہ بھی افطاری اور سحری دونوں میں بہت مفید ہے جو نہ صرف بدہضمی سے بچاتا ہے بلکہ آرام دہ نیند کے لئے بھی مفید ہے۔