May 9, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

رمضان میں ورزش کرنے کا بہترین وقت کیا ہے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں رمضان المبارک کے روزے جاری ہیں۔ہمیں اکثر اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ رمضان المبارک میں زیادہ کھانے سے حالات ایک جیسے نہیں رہتے اور ورزش کرنا اور صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔کیونکہ ہم ٹھیک سے ورزش نہیں کر پاتے۔تو آئیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں رمضان المبارک میں کون سی ورزش کرنی چاہئیے اور کس وقت کرنی چاہئیے؟

خانہ کعبہ کو کس جگہ کے عرق گلاب سے غسل دیا جاتا ہے…؟

رمضان المبارک میں صرف رات میں چھ یا سات گھنٹے کھانے پینے کے لیے ملتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے تو اس بات پر غور کریں کہ آپ سحری میں کیا کھاتے ہیں تاکہ آپ اس بات کی یقین دہانی ہو سکے کہ دن بھر آپ میں کتنی توانائی رہتی ہے۔


پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی غذا میں تمام اہم اجزا شامل کریں جن میں کاربو ہائیڈریٹ، پروٹین اور چکنائی کے ساتھ بہت زیادہ پھل اور سبزیاں شامل ہوں۔دوسرا ایسی چیزیں کھائیں جو آہستہ آہستہ توانائی دیتی ہیں تاکہ آپ صبح سے شام تک کم بھوک محسوس کریں اور آپ دن بھر کام کر سکیں۔


آپ اپنے بدن میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور خوب پانی پیئيں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ کھانے کے اوقات میں آپ خوب سیر ہو جائیں تاکہ آپ ٹھیک رہیں۔ کیونکہ بدن میں پانی کی سطح ہی دن بھر آپ کو چست رکھے گی اور یہ بہت اہم ہے۔

رمضان المبارک میں جسمانی سرگرمیوں میں کمی ہونے کی وجہ سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے لگتے ہیں ۔ اگر ورزش کو اپنی روٹین کا حصہ بنایا جائے تو پورا مہینہ تازہ دم رہ کر گزارا جا سکتا ہے ۔


ورزش کرنے کا سہی وقت وہی ہے جسکے بعد آپ اپنے جسم کو غذا مہیا کر سکیں۔ اسی لئے رمضان میں سحری سے پہلے یا افطار کے دو گھنٹے بعد ورزش کرنی چاہئیے۔سحری کرنے سے ایک گھنٹے پہلے ورزش کرنا بہترین عمل ہے کیوں کہ سحری سے پہلے معدے میں غذا کی بہت کم مقدار ہی رہ جاتی ہے۔ ورزش کرنے کے بعد سحری کر لیں۔


رمضان المبارک میں روزے کے دوران ایسا کرنا ایک مشکل عمل ہے لیکن اگر آپ وزن کم کرنا چاھتے ہیں تو افطار سے پینتالیس منٹ پہلے ورزش آپکو بہترین نتائج فراہم کر سکتی ہے۔ ورزش کے بعد افطاری میں ہلکی غذاؤں کا استعمال کریں اور پھلوں کو ترجیح دیں ۔


اگر آپ افطار سے پہلے ورزش کر رہے ہیں تو ہلکی ورزش کی عادت ڈالیں جن میں جاگنگ، بائیکنگ یا یوگا شامل ہو۔اور اگر آپ کم وقت میں سخت ورزش کرنا چاہتے ہیں تو آپ 10 سے 20 منٹ باڈی ویٹ ورک آؤٹ کر سکتے ہیں۔


اگر رمضان المبارک میں ورزش کو معمول نہ بنایا جائے تو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جوڑوں کا درد، وزن کا بڑھ جانا، کولیسٹرول کا بڑھ جانا، موڈ میں چڑچڑا پن، دماغی کمزوری، نظام انہضام کی خرابی وغیرہ جیسے مسائل ورزش نہ کرنے سے جنم لے سکتے ہیں اس لئے ورزش کو معمول بنائیں۔