May 18, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

رمضان المبارک کیسے گزاریں ؟

رمضان المبارک کا مہینہ ہے، اور کون مسلمان ایسا ہو گا جو اس مہینے کی عظمت اور برکت سے واقف نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ اپنی عبادت کے لئے بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نامعلوم کیا کیا رحمتیں اس مہینہ میں اپنے بندوں کی طرف مبذول فرماتے ہیں۔ ہم ان رحمتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

اس مہینے کے اندر بعض اعمال ایسے ہیں۔ جن کو ہر مسلمان جانتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے ۔ مثلاً اس ماہ میں روزے فرض ہیں۔ الحمد للہ۔ مسلمانوں کو روزہ رکھنے کی توفیق ہو جاتی ہے۔ تراویحکے بارے میں معلوم ہے کہ یہ سنت ہے، مسلمانوں کو اس میں شرکت کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔لیکن اس وقت کورونا وباء کی وجہ سے احتیاط لازم ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ رمضان المبارک کی خصوصیت صرف یہ ہے کہ اس میں روزے رکھے جاتے ہیں اور تر اویح پڑھی جاتی ہے۔ اور بس، اس کے علاوہ اور کوئی خصوصیت نہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دونوں عبادتیں اس مہینے کی بڑی اہم عبادات میں سے ہیں۔ لیکن بات صرف یہاں تک ختم نہیں ہوتی، بلکہ در حقیقت رمضان المبارک ہم سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فر مایا ہے کہ:’’ میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اور صرف ایک کام کیلئے پیدا کیا، وہ یہ کہ میری عبادت کریں‘‘۔ (سورۃ الذاریات:56)

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد یہ بتایا کہ وہ اللہ کی عبادت کرے۔کیا اس کے لئے فرشتے کافی نہیں تھے؟یہاں بعض لوگ کہتے ہیں اگر انسان کی تخلیق کا مقصد صرف عبادت تھا، تو انسان کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ کام تو فرشتے پہلے سے بہت اچھی طرح انجام دے رہے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت تسبیح اور تقدیس میں لگے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمانے کا ارادہ کیا اور فرشتوں کو بتایا کہ میں اس طرح کا ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں تو فرشتوں نے یہ کہا کہ آپ ایک ایسے انسان کو پیدا کر رہے ہیں جو زمین میں فساد مچائے گا اور خون ریزی کرے گا، اور عبادت ،تسبیح وتقد یس ہم انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح آج بھی اعتراض کرنے والے اعتراض کر رہے ہیں کہ اگر انسان کی تخلیق کا مقصد صرف عبادت ہوتا تو اس کے لئے انسان کو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ کام تو فرشتے پہلے ہی انجام دے رہے ہیں۔

بیشک فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے تھے لیکن ان کی عبادت بالکل مختلف نوعیت کی ہے ۔ انسان کے سپرد جو عبادت کی گئی ہے وہ الگ نوعیت کی ہے ،فرشتے جو عبادت کر رہے تھے ان کے مزاج میں اس کے خلاف کرنے کا امکان ہی نہیں ہے۔ وہ اگر چاہیں کہ عبادت نہ کریں تو ان کے اندر عبادت چھوڑنے کی صلاحیت نہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر سے گناہ کرنے کا امکان ہی ختم فرما دیاہے ۔ انہیں بھوک لگتی ہے نہ پیاس ۔حتیٰ کہ ان کے دل میں گناہ کا وسوسہ کبھی نہیں گزرتا ، گناہ کی خواہش اور گناہ پر اقدام تو دور کی بات ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت پر کوئی اجر و ثواب بھی نہیں رکھا۔ کیونکہ اگر فرشتے گناہ نہیں کر رہے ہیں تو اس میں ان کا کوئی کمال نہیں اور جب کوئی کمال نہیں تو پھر جنت والا اجر و ثواب بھی مرتب نہیں ہوگا۔

مثلاً ایک شخص بینائی سے محروم ہے، جس کی وجہ سے ساری عمر اس نے نہ کبھی فلم دیکھی، نہ کبھی ٹی وی دیکھا۔ نہ کبھی غیر محرم پر نگاہ ڈالی۔ بتایئے کہ ان گناہوں کے نہ کرنے میں اس کا کیا کمال ظاہر ہوا؟ اس لئے کہ اس کے اندر ان گناہوں کے کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ لیکن ایک دوسرا شخص جس کی بینائی بالکل ٹھیک ہے۔ جو چیز چاہے دیکھ سکتا ہے۔ لیکن دیکھنے کی صلاحیت موجود ہونے کے باوجود جب کسی غیر محرم کی طرف دیکھنے کاتقاضاء دل میں پیدا ہوتا ہے تو فوراً صرف اللہ تعالیٰ کے خوف سے نگاہ نیچی کر لیتا ہے۔ اب بظاہر دونوں گناہوں سے بچ رہے ہیں لیکن دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پہلا شخص بھی گناہ سے بچ رہا ہے۔ اور دوسرا شخص بھی گناہ سے بچ رہا ہے۔ لیکن پہلے شخص کا گناہ سے بچنا کوئی کمال نہیں اور دوسرے شخص کا گناہ سے بچنا کمال ہے۔لہٰذا اگر ملائکہ صبح سے شام تک کھانا نہ کھائیں تو یہ کوئی کمال نہیں اس لئے کہ انہیں بھوک ہی نہیں لگتی۔ انہیں کھانے کی حاجت ہی نہیں۔ لہٰذا ان کے نہ کھانے پر کوئی اجر و ثواب بھی نہیں۔ لیکن انسان ان تمام حاجتوں کو لے کر پیدا ہوا ہے لہٰذا کوئی انسان کتنے ہی بڑے سے بڑے مقام پر پہنچ جائے تب بھی وہ کھانے پینے سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ کفار نے انبیاء پر یہی اعتراض کیا ۔

اسلامی احکامات : امن و سلامتی کے ضامن

تو کھانے کا تقاضاء انبیاء کے ساتھ بھی ہے۔ اب اگر انسان کو بھوک لگ رہی ہے۔ لیکن اللہ کے حکم کی وجہ سے کھانا نہیں کھا رہا ہے تو یہ کمال کی بات ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک ایسی مخلوق پیدا کر رہا ہوں، جس کو بھوک بھی لگے گی ، پیاس بھی لگے گی، اور اس کے اندر گناہ کرنے کے داعے کبھی ان کے اندر پیدا ہوں گے، لیکن جب گناہ کا داعیہ پیدا ہو گا، اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کر لے گا۔ اور اسے یاد کر کے اپنے نفس کو اس گناہ سے بچا لے گا۔ اس کی ہی عبادت اور گناہ سے بچنا ہمارے یہاں قدر و قیمت رکھتا ہے۔ جس کے اجر و ثواب اور بدلہ دینے کے لئے ایسی جنت تیار کر رکھی ہے۔ جس کی صفت ’’عرضھا السموت و الارض‘‘ ہے۔یہ انسان اللہ کے خوف اور عظمت کے تصور سے اپنی آنکھ کو گناہ سے بچا لیتا ہے۔ گناہوں کی طرف اٹھتے ہوئے قدموں کو روک لیتا ہے۔ تو یہ عبادت ہے یہ عبادت فرشتوں کے بس میں نہیں تھی۔ اس عبادت کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو جو فتنہ، زلیخا کے مقابلے میں پیش آیا۔ کون مسلمان ایسا ہے جو اس کو نہیں جانتا۔ زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو گناہ کی دعوت دی۔ قرآن کریم یہ بتانا چاہتا ہے کہ گناہ کا خیال آ جانے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے خوف اور ان کی عظمت کے استحضار سے اس گناہ کے خیال پر عمل نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر لیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ یہ عبادت ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا‘‘۔(سورۃ یوسف: 24)

جب انسان کا مقصد تخلیق عبادت ہے تو اس کا تقاضاء یہ تھا کہ جب انسان دنیا میں آئے تو عبادت کرے، چنانچہ دوسری جگہ قرآن کریم نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے‘‘۔(سورۃ التوبہ:111)

اور اس کا انعام آخرت میں جنت کی صورت میں ملے گیا۔ ہماری جانیں ہماری نہیں ہیں۔ جب یہ جان اپنی نہیں ہے تو اس کاتقاضاء یہ تھا کہ اس جان اور جسم کو سوائے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے کسی دوسرے کام میں نہ لگایا جائے۔ لہٰذا اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ تمہیں صبح سے شام تک دوسرے کام کرنے کی اجازت نہیں۔

لیکن قربان جایئے ایسے خریدار پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جان و مال کو خرید بھی لیا، اور اس کی قیمت بھی پوری لگا دی یعنی جنت، پھر وہ جان و مال میں واپس بھی لوٹا دیا کہ یہجان و مال تم اپنے پاس رکھ لو۔ اور ہمیں اس بات کی اجازت دے دی کہ کھاؤ ، پیو، کماؤ، اور دنیا کے کاروبار کرو۔ بس پانچ وقت کی نماز پڑھ لیا کرو اور فلاں فلاں چیزوں سے پرہیز کرو۔ باقی جس طرح چاہو، کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت اور عنایت ہے۔

اس ماہ میں اصل مقصد کی طرف آجاؤ

اللہ تعالیٰ بھی جانتے تھے کہ جب یہ انسان دنیا کے کاروبار اور کام دھندوں میں لگے گا تو رفتہ رفتہ اس کے دل پر غفلت کے پردے پڑ جایا کریں گے۔ اور دنیا کے کاروبار اور دھندوں میں کھو جائے گا تو اس غفلت کو دور کرنے کے لئے فوقتاً فوقتاً کچھ اوقات مقرر فرما دیئے ہیں۔ ان میں سے ایک رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ اس لئے کہ سال کے گیارہ مہینے تو آپ تجارت میں، زراعت میں، مزدوری میں اور دنیا کے کاروبار اور دھندوں میں، کھانے کھانے اور ہنسنے بولنے میں لگے رہے اور اس کے نتیجہ میں دلوں پر غفلت کا پردہ پڑنے لگتا ہے۔ اس لئے ایک مہینہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے مقرر فرما دیا کہ اس مہینے میں تم اپنے اصل مقصد تخلیق یعنی عبادت کی طرف لوٹ کر آؤ۔ جس کے لئے تمہیں دنیا میں بھیجا گیا، اور جس کے لئے نہیں پیدا کیا گیا، اس ماہ میں اللہ کی عبادت میں لگو، اور گیارہ مہینے تک تم سے جو گناہ سرزد ہوئے ہیں، ان کو بخشواؤ، اور دل کی صلاحیتوں پر جو میل آچکا ہے اس کو چھلواؤ اور دل میں جو غفلت کے پردے پڑ چکے ہیں، ان کو اٹھواؤ۔ اس کام کے لئے ہم نے یہ مہینہ مقرر کیا ہے۔

اپنے گناہوں کو بخشوا لو

علماء نے فرمایا کہ اس ماہ کو ’’رمضان ‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے فضل و کرم سے بندوں کے گناہوں کو جھلسا دیتے ہیں اور جلا دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ مقرر فرمایا۔ گیارہ مہینے دنیاوی کاروبار، دنیاوی دھندوں میں لگے رہنے کے نتیجے میں غفلتیں دل پر چھا گئیں، اور اس عرصہ میں جن گناہوں اور خطاؤں کا ارتکاب ہوا، ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر انہیں بخشوا لو اور غفلت کے پردوں کو دل سے اٹھا دو، تا کہ زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو جائے۔ اس لئے قرآن کریم نے فرمایا کہ’’(یعنی) یہ روزے تم پر اس لئے فرض کئے گئے ہیں تا کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے‘‘۔(سورۃ البقرہ:183)

تو رمضان کے مہینے کا اصل مقصد یہ ہے کہ سال بھر کے گناہوں کو بخشوانا ، اور غفلت کے حجاب دل سے اٹھانا اور دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا۔ جیسے کسی مشین کو جب کچھ عرصہ استعمال کیا جائے تو اس کے بعد اس کی سروس کرانی پڑتی ہے۔ اس کی صفائی کرانی ہوتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی سروس اور اوور ہالنگ کے لئے یہ رمضان المبارک کا مہینہ مقرر فرمایا ہے۔ تاکہ اس مہینے میں اپنی صفائی کرالو، اور اپنی زندگی کو ایک نئی شکل دو۔

لہٰذا صرف روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کی حد تک بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اس مہینے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس مہینے میں دوسرے کاموں سے فارغ کر لے۔ اس لئے کہ گیارہ مہینے تک زندگی کے دوسرے کاموں میں لگے رہے۔ لیکن یہ مہینہ انسان کے لئے اس کی اصل مقصد تخلیق کی طرف لوٹنے کا مہینہ ہے۔ اس لئے اس مہینے کے تمام اوقات، ورنہ کم از کم اکثر اوقات یا جتنا زیادہ سے زیا دہ ہو سکے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں صرف کرے اور اس کے لئے انسان کو پہلے سے تیار ہونا چاہئے۔ اور اس کا پہلے سے پروگرام بنانا چاہئے۔