May 9, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ سیاسی نہیں کرونا اعداد و شمار ہیں، برطانیہ

اسلام آباد: برطانیہ نے پاکستان میں کرونا کیسز میں اضافے پر 3 اپریل کو اسے سفری پابندیوں کی سرخ فہرست میں ڈالنے کا فیصلہ کیا.

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے ٹوئٹر پر استفسار کیا کہ کیا یہ فیصلہ سائنس یا خارجہ پالیسی کی بنیاد پر کیا گیا؟ حتی کہ مسلمان برطانوی ارکان پارلیمینٹ نے قرار دیا کہ فیصلہ امتیازی ہے نہ کہ اعدادوشمار پر مبنی۔ تنقید کی وجہ بھارت ( جسے اب سرخ فہرست میں ڈالا گیا ہے) اور چند دیگر یورپی ممالک بنے جہاں کرونا کیسز کی شرح پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔

پابندی کے دو ہفتوں بعد برطانوی ہائی کمشنر کرسچیئن ٹرنر نے ایکسپریس ٹربیون کو انٹرویو میں بتایا کہ یہ سیاسی فیصلہ نہیں تھا ،اس کی بنیاد پاکستان میں نہیں بلکہ برطانیہ میں موجود اعداد و شمار اور شواہد ہیں۔ انھوں نے وضاحت کی کہ ہم تمام ممالک سے آنے والی پروازوں کے ٹیسٹ کر رہے ہیں ،جس کے ہر دوسرے اور آٹھویں روز ہمیں اعدادوشمار میسر آتے ہیں۔

عمان کیجانب سے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش پر سفری پابندیاں عائد

انھوں نے پاکستان کو سرخ فہرست میں ڈالنے کی تین وجوہات بتائیں۔ پہلی یہ کہ برطانیہ میں مارچ کے دوران سب سے زیادہ پروازیں پاکستان سے آئیںِ، دوسری یہ کہ ان میں کرونا کیسز کی شرح انتہائی زیادہ تھی جبکہ پاکستان اورجنوبی افریقہ سے آنے والوں کا متغیر وائرس زیادہ باعث فکر ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر نے زور دیا کہ کسی ملک کو کرونا صورتحال کے باعث سرخ فہرست میں نہیں ڈالا جاتا ’’میں صومالیہ ، بھارت اور پاکستان میں کیسز کی تعداد دیکھ سکتاہوں تاہم سوال برطانیہ آنے والے مسافروں پر ہے۔ انھوں نے یہ تاثر رد کردیا کہ فیصلے کا مقصد پاکستان کو سزا دینا ہے۔

انھوں نے یقین دلایا کہ اس کا مطلب پاک ،برطانوی دوستی اور محبت گھٹانا نہیں بلکہ ہم نے کرونا سے جنگ کیلئے پاکستان کیلئے 20ملین پاونڈ مختص کیے ہیں۔