حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت

حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم 17رمضان المبارک سن 40 ہجری کو جب بیدار ہوتے ہیں تو اپنے شہزادہ گرامی سیدالاصفاء راکب دوش مصطفی جناب حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کو اپنا خواب سناتے ہیں۔

آج رات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے عرض کیا ہے کہ لوگوں کے نامناسب رویے سے سخت نزع کی صورت پیدا ہو چکی ہے۔ جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی (رضی اللہ عنہ) تم اللہ عزوجل سے دعا کرو، لہٰذا میں نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا مانگی۔ اے اللہ! مجھے ان سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے۔ اس طرح گفتگو ہو رہی تھی کہ کوفہ کی جامع مسجد کے موذن نے صدائے مدینہ لگاتے ہوئے صلوٰۃ صلوٰۃ کی آواز لگائی تو مولیٰ مشکل کشاء علی المرتضیٰ شیر خدا وجہہ الکریم جانب مسجد روانہ ہوئے‘ اتنے میں سامنے سے ابن منجم آ گیا‘ اس نے اچانک آپ پر تلوار سے بھرپور وار کیا۔ آپ کا سراقدس پیشانی سے کن پٹی تک کٹ گیا اور تلوار دماغ تک جا پہنچی۔

لوگ جمع ہوگئے اور قاتل کو پکڑ لیا گیا، زخم اگرچہ بہت گہرا تھا، مگر آپ مزید دو تین دن دنیا میں تشریف فرما رہے۔ اکیسویں شب آپ کی شہادت عمل میں آئی۔ ابن منجم کو لوگوں نے پکڑ لیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اسے آگ میں جلا دیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کوفہ کی جامع مسجد کے اندر آپ پر حملہ ہوا تھا لیکن تاریخ الخلفاء میں طبقات ابن سعاد کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ حملہ نماز میں لوگوں کو جگاتے ہوئے ہوا تھا۔ ان دنوں حالات ناگفتہ بہ تھے، سخت نزع اور اختلافات اور خوارج نے جو بغاوت مچا رکھی تھی لیکن ان نامساعد حالات میں بھی مولی مشکل کشاء کرم اللہ وجہہ الکریم فجر کی نماز میں جگانے کیلئے تشریف لے گئے۔

قربان جائیے میرے آقا غیب جاننے والے حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی غیب دانی پر، علامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحمتہ اللہ علیہ مسند امام احمد اور حاکم سے اس صحیح سند کے ساتھ حضرت سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، علی (کرم اللہ وجہہ الکریم) دو قسم کے لوگ انتہائی بدبخت ہیں، ایک تو آل ثمود ہیں جنہوں نے اللہ کے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں، دوسرے وہ جو تمہاری سر پر تلوار مار کو تمہاری داڑھی کو خون آلود کر دے گا۔ تو میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مولا مشکل کشاء کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تمہارے سر پر تلوار ماری جائیگی اور تمہاری داڑھی خون سے رنگین ہو جائیگی اور وہی ہوا۔

آپ کی شہادت کیوں عمل میں آئی، ابن منجم جو آپ کا قاتل تھا، وہ ایک عورت پر عاشق تھا، وہ عورت خوارج سے تعلق رکھتی تھی، اسکا نام حسطام تھا، اس نے اپنے عاشق سے کہا کہ میرا مہر سن لو، اگر وہ لا سکتے ہو تو میں شادی کروں گی۔ کہا تین ہزار درہم اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا سر۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ شہوت بادشاہوں کو غلام بنا دیتی ہے، واقعی شہوت آدمی کو اندھا کر دیتی ہے.

امُ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ ….!

عورت کے عشق میں گرفتار ہو کر، اس نے اتنا گھناؤنا فعل کیا۔ قتل کی واردات اور ایسے عظیم الشان انسان کو قتل کیا کہ اس وقت روئے زمین پر صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے کوئی بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے افضل زندہ نہیں تھا، ان کو اس ظالم نے ایک عورت کے عشق میں گرفتار ہو کر شہید کر دیا، اپنے انجام کو بھی نہیں سوچا۔

حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے مزار پرانور کے بارے میں مورخین کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول کے مطابق خارجیوں کی طرف سے قبر مبارک کی بے حرمتی کے خدشے کے پیش نظر آپ کی قبر کو ظاہر نہیں کیا گیا، چھپ کر آپ کو دفن کیا گیا تھا۔

ایک قول یہ ہے کہ مولی مشکل کشاء علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے جسم مبارک کو آپ کے شہزادہ گرامی سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے کوفے سے مدینہ منورہ منتقل کر دیا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مدینہ منورہ لے جانے کیلئے آپ کے جسم اقدس کو اونٹ پر سوار کیاگیا اور اس کو لے جانے لگے تو رات کے وقت وہ اونٹ مبارک لاش لیکر فرار ہو گیا، پھر کچھ بھی معلوم نہ ہوا کہ وہ کہاں گیا۔

اہل عراق کا عقیدہ ہے کہ آپ بادلوں میں پوشیدہ ہیں۔ یہ بھی قول ملتا ہے کہ تلاش بسیار کے بعد اونٹ سرزمین بنو طے میں مل گیا، آپ کے جسم اطہر کو وہیں دفن کیا گیا، یعنی وہی مزار ہے، کوفے میں بھی عالیشان مزار ہے۔

Leave a Reply