مانگنا ہے تو خدا سے مانگو۔۔۔

مانگنا ہے تو خدا سے مانگو۔۔۔

انسان کی خواہشات اور ضروریات لامحدود ہیں ۔ جو کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتی ہی جاتی ہیں ۔ خواہشات کا ہونا بہت ضروری ہے ، یہ بہتر زندگی گزارنے کے لئے اشد ضروری ہیں ۔ میری ایک ٹیچر کہا کرتی تھیں ” جب ایک خواہش پوری ہو جائے تو اپنے اندر مزید خواہشات کو پیدا کر لیا کریں ” کیونکہ جب خواہشات ختم ہو جائہں گی تو مقصد ختم ہو جائے گا اور جب مقصد ہی ختم ہو جائے گا تو جینے کا مزہ بھی ختم ہو جائے گا ۔

خواہشات کو پورا کرنے والی عظیم ذات صرف اللہ تبارک و تعالی کی ذات ہے ۔ دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ مانگا اسی سے جائے جس کے دینے کی امید ہو . اور امید تو صرف اللہ سے ہی ہو سکتی ہے . .
قدیم دور کی بات ہے کہ ایک بادشاہ راستہ بھٹک گیا اور چلتے چلتے کسی ویران اور سنسان جگہ میں پہنچ گیا وہاں بادشاہ نے ایک جھونپڑی دیکھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی وہ شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ بادشاہ ہے بلکہ وہ بادشاہ کو عام مسافر سمجھ کر اس کی خدمت کر رہا تھا بادشاہ اس آدمی سے بہت متاثر ہوا اور بہت خوش بھی۔ جب بادشاہ وہاں سے جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ میں کون ہوں پھر بتایا کہ میں بادشاہ ہوں ۔

یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو جب کبھی کوئی چیز ضروت ہو ہمارے محل میں آجانا دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرادے گا یہ کہ کر بادشاہ وہاں سے چلا گیا ۔
کچھ دن کے بعد اس شخص کو کوئی ضرورت پیش آئی تو وہ شخص محل کے دروازے پر پہنچے اور کہا کہ بادشاہ سے ملنا ہے۔ دربان نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی ۔ اور پھر کہنے لگا آپ نہیں مل سکتے۔

اس شخص نے پھر دربان کو وہ انگوٹھی دکھائی، دربان نے جب دیکھا تو وہ بہت حیران ہوا اور کہا یہ بادشاہ کی مہر لگانے والی انگوٹھی آپ کے پاس ؟بادشاہ کا حکم تھا کہ یہ انگوٹھی جولے کر آئے گا ہم جس حالت میں ہو اُسے ہمارے پاس پہنچادیا جائے، چنانچہ دربان اسے ساتھ لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک گیا، دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے، اب یہ جو شخص وہاں چل کر آیا تھا، اس کی نظر پڑی کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے، پھر اس نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے،اس کی نظر پڑی تو وہ وہیں سے واپس ہوگیا اور محل کے باہر جانے لگا، دربان نےکہا مل تو لو کہا اب نہیں ملنا ہے، کام ہوگیا ۔ اب واپس جاناہے ۔۔ وہ شخص چلا گیا ۔

جب بادشاہ فارغ ہوگیا دربان نے بتایا کہ ایسا آدمی آیا تھا یہاں تک آیا پھر واپس جانے لگا بادشاہ نے کہا فوراً لے کر آو وہ ہمارا محسن ہے، واپس لایا گیا بادشاہ نے کہا ملے بغیر کیوں چلے گئے ؟

رمضان اللہ کی رحمت…!

اس نےکہا کہ بادشاہ سلامت اصل بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ کوئی ضرورت پیش آئے تو آجانا ہم ضرورت پوری کردیں گے۔مجھے ضرورت پیش آئی تھی میں آیا اور آکر دیکھا کہ آپ بھی کسی ( اللہ تبارک و تعالی )سے مانگ رہے ہیں ، تو میرے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ جس سے مانگ رہا ہے کیوں نہ میں بھی اسی سے مانگ لوں۔

پرانی کہاوت ہے کہ کسی انسان کے دیئے سے کچھ نہیں بنتا ۔ کوئی شخص اگر آپ کی وقتی کسی ضرورت کو پورا کر بھی دے گا تو وہ احسان کہلائے گا ۔ آپ خود کو اس کی نظر میں کم تر سمجھنے لگو گے ۔ اس لئے مانگو صرف خدا سے ۔ جو مانگنے پر خوش ہوتا ہے اور عطا فرماتا ہے ۔ جو دے کر کبھی احسان نہیں جتاتا اور نا ہی لوگوں کی طرح واپس مانگتا ہے ۔ بلکہ اگر اس سے مانگا جائے تو وہ دوگناہ عطا فرما دیتا ہے ۔
زونیرہ عامر

Leave a Reply