آج کل

سی پیک ،خواب سے تعبیر تک

چین اور پاکستان بے مثال برادرانہ تعلقات کے 70 برسوں کا اہم سنگ میل عبور کر چکے ہیں۔ روایتی مضبوط دوستی کو گزرتے وقت کے ساتھ مزید عروج حاصل ہو رہا ہے ۔

دونوں ممالک نہ صرف عالمی اور علاقائی پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کے مضبوط حامی ہیں بلکہ ایک دوسرے کی مضبوط اقتصادی سماجی ترقی کے خواہاں بھی ہیں۔اکتوبر دو ہزار انیس میں چینی صدر شی جن پھنگ نے وزیر اعظم عمران خان سے بیجنگ میں ملاقات کے موقع پر کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان چاروں موسموں کے اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کے تعلقات قائم ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ہمیشہ سے چین کی سفارت کاری میں ترجیح حاصل رہی ہے ، چین پاکستان کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات سے متعلق امور پر پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

چین پاکستان کے ساتھ مل کر اسٹریٹجک رابطہ سازی اور عملی تعاون کو مستحکم کرنے اور نئے عہد میں چین۔ پاک مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کے قیام کے لئے بھر پور کوشش کر رہا ہے ۔

معاشی روابط کی بات کی جائے تو حالیہ عرصے میں چین۔ پاک اقتصادی راہداری کو دونوں ممالک کے مابین مستحکم معاشی تعلقات کی ایک مضبوط بنیاد کا درجہ حاصل ہو چکا ہے جسے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔طویل مدتی تناظر میں سی پیک کا مقصد نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی ترقی ہے، اسی باعث اس منصوبے کو چین کے “دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا جاتا ہے۔

تاحال چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں 25.4 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے ، 46 منصوبے یا تو مکمل کر لیے گئے ہیں یاپھر تکمیل کے مرحلے میں ہیں ، جس سے پاکستان کو 5200 میگا واٹ بجلی فراہم کی گئی ہے ، 886 کلو میٹر طویل نیشنل کور ٹرانسمیشن گرڈ قائم ہو چکی ہے اور 510 کلومیٹر لمبائی کی شاہراہیں تعمیر ہو چکی ہے۔

سی پیک کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کے بعد یہ اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جس میں چین اور پاکستان کے درمیان صنعتی اور زرعی شعبے سمیت دیگر شعبہ جات میں تعاون کو کلیدی اہمیت حاصل ہو گی اورسرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔زراعت دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا اہم میدان بن چکی ہے۔ دونوں ممالک کے مابین بیجوں کی صنعت، زرعی مشینری، زرعی پیداوار کی پروسیسنگ، کولڈ چین اسٹوریج ، گوشت جیسی مصنوعات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی وسیع گنجائش ہے۔

پاکستان میں کورونا کے وار جاری، 57 افراد دم توڑ گئے

پاکستان میں چینی سفارت خانےنے زرعی تعاون کے حوالے سے ایک انفارمیشن پلیٹ فارم بھی قائم کیا ہے ۔ اس طرح کے انفارمیشن پلیٹ فارم کے ذریعے باہمی معلومات کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے، تاکہ دونوں ممالک کی تعاون میں دلچسپی لینے والی کمپنیاں اپنے اپنے شراکت دار تلاش کرسکیں۔

چین صوبہ پنجاب کے ساتھ بیج کی صنعت میں تعاون کر رہا ہے کیونکہ کاشت کاری اس صوبے کے لیے نہایت اہم ہے۔ بلوچستان کے ساتھ مویشی بانی اور ماہی گیری میں تعاون کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح آئندہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ شہد ، زیتون کے تیل اور دیگر مصنوعات کی پیداوار میں تعاون کیا جائے گا۔

صنعتکاری کے فروغ کے لیے سی پیک کے تحت پاکستان بھر میں خصوصی اقتصادی زونز تعمیر کیے جا رہے ہیں جن سے یقینی طور پر جہاں پاکستانی برآمدات میں اضافہ ممکن ہو گا وہاں روزگار کے وسیع مواقع بھی میسر آئیں گے۔ سی پیک کی بدولت چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا جا سکے گا جس سے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ویلیو ایڈیشن میں مدد ملے گی۔

سی پیک کی تعمیر کو آگے بڑھاتے ہوئے چین اور پاکستان نے ہمیشہ مشترکہ مشاورت کے اصول کا احترام کیا ہے ، مشترکہ تعمیر کے اصول پر عمل پیرا رہتے ہوئے مشترکہ مفاد کے اصول کو ترجیح دی گئی ہے۔

آج سی پیک منصوبے کے ثمرات پاکستان میں ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں اور ملک بھر میں تعمیراتی منصوبے انتہائی تیزی سے پھل پھول رہے ہیں۔ سی پیک کی بدولت پاکستان ریلوے” کے نظام میں جدت لائی گئی ہے اور چین کی مدد سے تعمیر کیے جانے والے منصوبے”اورنج لائن میٹرو” کی بدولت پاکستان میٹرو ریلوے کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

اس منصوبے سے اب لاہور کے شہریوں کو عالمی معیار کی سفری سہولیات میسر آئی ہیں۔ٹھوس بنیادی ڈھانچے سے لے کر علاقائی تجارت کی ترقی تک ، چین اور پاکستان ایک نئے عزم اور عمدہ لچکدار رویوں کے ساتھ اعلی معیار کے سی پیک تعاون کو آگے بڑھا رہے ہیں۔سی پیک کے تحت مغربی روٹ کی بدولت پاکستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں ترقی اب محض خواب نہیں بلکہ حقیقت بن چکی ہے۔

چین گوادر بندرگاہ کی تعمیر میں بھی پاکستان کو مدد فراہم کر رہا ہے ،گوادربندرگاہ قدرتی طور پر گہرے پانی کی بندرگاہ ہے جو اسے قریب میں واقع دیگر بندرگاہوں سے ممتاز کرتی ہے ۔ بندرگاہوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی میں چین کا تجربہ یقیناً پاکستان کے کام آ رہا ہے

اس وقت سی پیک کی تعمیر اعلیٰ معیاری ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ، جس سے پاکستان میں صنعتوں کے فروغ سمیت معاشی و معاشرتی ترقی کو بھی فروغ مل رہا ہے۔

یہ بات قابل زکر ہے کہعالمی معاشی کساد بازاری کے باوجود سی پیک سمیت ” دی بیلٹ اینڈ روڈ” کے دیگر منصوبوں میں چین کی مجموعی سرمایہ کاری میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ، بلکہ مزید فروغ ملا ہے۔ دی بیلٹ اینڈ روڈ” کے ایک اہم آزمائشی منصوبے کے طور پر دو ہزار تیرہ میں سی پیک کی شروعات کے بعد مسلسل مثبت پیش رفت جاری ہے ۔

کووڈ-۱۹ وبا کے بعد سی پیک کے تحت تمام منصوبہ جات ملازمین کو روزگار کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور متعدد اہم منصوبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے ۔اس طرح پاکستان میں انسداد وبا اور اقتصادی استحکام کے لیے مضبوط سہارا میسر آیا ہے۔سی پیک کو آگے بڑھانے کے لیے چین اور پاکستان کے عزائم پختہ ہیں اور سی پیک کا مستقبل روشن ہے۔

امیر مقام نے وزیراعظم بارے ایسی بات کہہ دی کہ کپتان کے کھلاڑی آگ بگولہ ہو جائیں
سی پیک چین اور پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کی ترقی و خوشحالی کے لیے نئے امکانات لائے گی اور چین نے جس طرح ایک ترقی پزیر ملک کی حیثیت سے کرشماتی ترقی کی ہے پاکستان سمیت دیگر ممالک بھی چین کے تجربے سے مستفید ہوتے ہوئے پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *