آج کل

اینگزائٹی میں کمی کرنے والی غذائیں

ہماری غذائی تبدیلیوں کے باعث ملک میں اینگزائٹی کا مرض بہت ہی عام ہو گیا ہے۔ کوئی کم اور کوئی فرد زیادہ، اس میں مبتلا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں خوف اور ذہنی تناؤ بھی شامل ہیں۔ روزمرہ کے کام کا دباؤ، چڑچڑا پن، ارتکاز توجہ کی کمی، کام کا تناؤ اور مسائل، دل کی دھڑکن، پٹھوں کے امراض اور سینے کی جکڑن بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔

اکثر مریضوں کو علاج کی مکمل سہولت بھی دستیاب نہیں لیکن ہم اپنی غذامیں تبدیلی کے ذریعے اس مرض پر کسی حد تک قابو پا سکتے ہیں۔ کچھ پھلوں، سبزیوں، اجناس، دالیں اور ہلکی لحمیات (protein Lean ) کو خوراک میں شامل کر کے اینگزائٹی سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی خوراک میں چند تبدیلیاں لے آئیں تو پریشانی ہی نہ اٹھانا پڑے۔

سیلینیم والی غذائیں

یہ کیمیکل موڈ کو بہتر بناتا ہے لہٰذا جن غذائوں میں سیلینیم پایا جاتا ہے وہ غذائیں اینگزائٹی میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ موڈ کو بہتربنا کر سوزش میں بھی کمی لاتا ہے۔سیلینیم انٹی آکسیڈنٹ بھی ہے جو خلیوں کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ کیمیکل سرطان کو بڑھنے سے بھی روکتا ہے لیکن خیال رہے کہ اس کیمیکل کی مقدار ہرگز بڑھنے نہ پائے،کیونکہ مقدار میں اضافہ کئی خرابیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ ہر بالٖغ مرد کیلئے 400مائیکرو گرام سے زیادہ سیلینیم کی تجویز نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا اس کے سپلیمنٹ ڈاکٹروں کے مشورے سے ہی استعمال کیجئے۔

موسم گرما میں پیٹ کے امراض سے کیسے بچا جائے ؟

میوہ جات

میوہ جات حیاتین ای کا اچھا سورس ہیں۔حیاتین ای آکسیڈنٹ ہونے کی وجہ سے اینگزائٹی کے علاج میں بھی مفید ہے۔تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ حیاتین ای کی کمی کچھ افراد میں اینگزائٹی کا باعث بن سکتی ہے۔

فیٹی فش (ٹونا مچھلی یا اومیگا مچھلی)

ٹرائوٹ، سامن ،اسقمری (Mackerel) اور ہیرنگ مچھلی بھی اومیگا تھری اور فور کی ماخذ ہیں۔ان کا بھی ذہنی صحت سے تعلق ہے۔تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ بہت زیادہ اومیگا سکس استعمال کرنے والے بھی اگر اومیگا تھری نہ کھائیں تو اینگزائٹی کا شکار ہو سکتے ہیں۔اومیگا تھری غذائوں میں پایاجانے والا خاص قسم کا تیزاب الفا لینو لینک تیزاب ALA)) دو مزید اہم تیزابی مادے پیدا کرتا ہے،جنہیں EPA‘‘ اور DHA‘‘کہا جاتا ہے،یہ دونوں تیزابی مادے نیورو ٹرانسمیٹرز کے افعال کو درست بنا تے ہیں اور سوزش میں کمی لاتے ہیں،ان دونوں تیزابی مادوں کو دماغی صحت کیلئے لازمی جزسمجھا جاتا ہے۔اگرچہ مقدار مزید تحقیق کی جا رہی ہے لیکن اب تک کی تحقیق کے مطابق ہفتے میں تین بار فیٹی فش کافی رہے گی۔

حیاتین ڈی والی غذائیں

سالمن اور سارڈین مچھلیاں حیاتین ڈی کا بھی خزانہ ہیں ۔محققین نے حیاتین ڈی کا تعلق بھی موڈ، ڈپریشن اور اینگزائٹی سے جوڑا ہے۔حیاتین ڈی سردیوں میں پیدا ہونے والے سیزنل ڈس آرڈر ‘‘ (SAD) پر قابو پانے میں بھی مدد دیتی ہے۔

انڈے

انڈے حیاتین ڈی اورپروٹین کاخزانہ ہے۔ اس میں مکمل پروٹین پائی جاتی ہے یعنی امائنو ایسڈز۔ جو جسمانی نشو و نما کیلئے ناگزیرہیں۔انڈوں میں پائی جانے والی ٹرپٹو فین، سیروٹونین کی تیاری میں بھی مدد دیتی ہیں۔ سیروٹونین بھی موڈ، یاد داشت، نیند اور طرز عمل کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔اس سے ذہنی سکون ملتا ہے۔

کدو اور کیلے کے بیج

کیلے اور کدو کے بیج پوٹاشیم کا خزا نہ ہیں، جو سٹریس اور اینگزائٹی کی علامات میں کمی لا سکتے ہیں۔یہ خون کے دبائو اور الیکٹرولائٹس میں بھی توازن قائم رکھتے ہیں۔کدو کے بیجوں میں زنک کی موجودگی بھی موڈ کیلئے اچھی ہے۔کیونکہ زنک بھی دماغ اور اعصابی نظام کی کی نشو و نما کیلئے ضروری ہے۔زنک دماغ میں جذبات سے متعلق حصے میں بھی پائی جاتی ہے۔

ہلدی

اس مصالحے کاہمارے ہاں عام استعمال کیاجاتا ہے۔ کرکومین‘‘(Curcumin) ا سکا ایک اہم جزو ہے۔یہ بھی سوزش میں کمی کے ذریعے اینگزائٹی پر قابو پانے میں معاون بنتا ہے۔یہ بالغ اور موٹے افراد میں بھی اینگزائٹی کو کم کرسکتاہے۔یہ خاص قسم کے تیزاب DHAکی پیداوار میں بھی اضافے کا سبب بن کر اینگزائٹی کو کم کرتا ہے۔ہرفرد کو 500 سے 1000ملی گرام یومیہ کرکومین کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ چائے کے ایک چمچے میں دو سو ملی گرام کرکومین ہوتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *