آج کل

ساٹھ اور ستر کی دہائی کا لاہور کیسا تھا؟

لاہور میں ماشکی جب پانی کا چھڑکائو کیا کرتے تھے تو کبھی کبھار ان کے آگے ایک شخص گھنٹی بھی بجاتا تھا تاکہ لوگ خبردار ہو جائیں۔ لاہور غالباً برصغیر کا واحد شہر ہوگا جس کے بارے میں ہر شخص نے کوئی نہ کوئی خوبصورت بات ضرور کہی اور بے شمار کتابیں لاہور کے بارے میں لکھی گئی ہیں۔

ہمارے بچپن کے دور میں لاہوریوں کو فلم دیکھنے کا بڑا شوق تھا، لاہور میں اب صرف دو تین ہی قدیم ترین سنیما رہ گئے ہیں، ہمیں یاد ہے کہ نئی فلموں کی پبلسٹی کے لئے تانگہ بڑا موثر ذریعہ تھا۔ نئی فلم کے بڑے بڑے پوسٹرز تانگے کے پچھلی طرف لگا دیے جاتے تھے اور کبھی کبھی کوئی ڈھول اور گھنٹی والا بھی اس میں بیٹھ کر ڈھول اور گھنٹی بجایا کرتا تھا۔ پاکستان کی پہلی رنگین فلم نائلہ تھی جو ناز سینما میں لگی تھی۔ ناز اور نگینہ دونوں سینما ایک ہی احاطے میں تھے اور یہاں پر ایک تاریخی گنبد بھی ہے جس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ فلم نائلہ کئی ہفتے چلی، اس کے گانے بھی پسند کئے گئے۔ یہ غالباً 1966ء کی بات ہے۔

اس فلم میں شمیم آرا، درپن اور سنتوش کمار تھے اور گانے مالا بیگم نے گائے تھے۔ اسی طرح تاج اور کرائون بھی ایک ہی احاطے میں تھے۔ ایک ایسا دور بھی آیا کہ لاہور میں سینما کا کاروبار عروج پر تھا۔ پھر 1975ء کے بعد جب وی سی آر کا زمانہ شروع ہوا تو لاہور کے کئی سینما گھر پلازوں میں منتقل ہو گئے۔ لاہور کا اوریگا سینما گلبرگ ایلیٹ کلاس کیلئے تھا جبکہ الحمرا اور الفلاح بڑے خوبصورت سینما تھے۔ ارم، ریکس، نشاط اور رتن سینما اپنے دور کے مشہور سینما رہے ہیں۔ ہم نے لاہور کے ہر سینما گھر میں کوئی نہ کوئی فلم ضرور دیکھی ہے۔ کیا ماحول تھا۔ فیملیز سینما گھروں میں آتیں، امیر لوگ باکس اور گیلری میں بیٹھ کر فلم دیکھتے تھے۔ الحمرا سینما لاہور کا پہلا سینما گھر جس کی دو گیلریز تھیں۔ اپر گیلری خاصی اونچی تھی۔

لاہور میں پہلی کون مشین ریگل کے پاس لگائی گئی تھی جہاں آٹھ آنے کی کون ملا کرتی تھی جو لوگ بڑے شوق سے کھاتے تھے۔ لاہوریوں کی تفریح لاہور ایئر پورٹ (پرانا والا) اور ریلوے اسٹیشن کی سیر تھی۔ لاہور ایئر پورٹ پر بڑے بڑے گہرے گرین رنگ کے چمڑے والے صوفے ہوتے تھے اور پہلی مرتبہ ایک ایسی مشین لگائی گئی جس میں مختلف مشروب کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں، اس میں پچاس پیسے کا سکہ ڈال کر بوتل حاصل کی جاتی تھی اور بعض لوگ مشین میں کھوٹے سکے ڈال کر اس حرکت سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

لاہور میں بینڈ باجے اور گھوڑے کے بغیر بارات کو نامکمل سمجھا جاتا تھا۔ ہم نے ایسا لاہور بھی دیکھا جب لاہور کے تیرہ دروازوں میں شاید ہی کوئی ایسا دروازہ ہو جہاں پر بینڈ باجے والے کی دکان نہ ہو۔ کسی زمانے میں سوہنی کا بینڈ اور پٹیالہ بینڈ بڑا مشہور تھا۔ پٹیالہ بینڈ آج بھی بینڈ ماسٹر حاجی عبدالمجید پٹیالوی کے پوتے مختار احمد پٹیالوی چلا رہے ہیں۔ لاہور میں ایک مدت تک لوگ امرتسری، پٹیالوی، لدھیانوی، جالندھری، گورداسپوری، بمبئی اور آگروی اپنی دکانوں اور اپنے ناموں کے ساتھ لگاتے رہے۔ لاہور میں کئی سرکاری تقریبات میں پولیس اور فوج کا بینڈ آیا کرتا تھا۔ کسی زمانے میں شادیوں کی تقریبات میں بھی پولیس اور فوج کے بینڈ آتے تھے، پھر فوج کے بینڈ کو شادی کی تقریبات میں جانے سے منع کر دیا گیا۔ اب صرف پولیس کا بینڈ شادی کی تقریبات میں آتا ہے۔

شہر میں کبھی گولی والی بوتل بھی ملا کرتی تھی۔ جسے لوگ بڑے شوق سے پیتے تھے۔ بوتل بہت ہی موٹے شیشے کی ہوتی تھی، دکاندار اپنا انگوٹھا ایک خاص انداز میں اس میں ڈال کر گولی کو دباتا تھا اور وہ گولی جس کو بنٹا بھی کہتے تھے، وہ بوتل کے اندر چلا جاتا تھا اور لوگ بوتل کو منہ لگا کر پیا کرتے تھے۔ ہم نے کئی مرتبہ وہ بوتل پی تھی۔ کبھی بھاٹی گیٹ میں میٹھے اور گلابی دودھ والی بوتلیں بھی ملا کرتی تھیں، مجال ہے ان کو پینے کے بعد کبھی کوئی انسان بیمار ہوا ہو۔ لوگوں کی نیت اور خوراک دونوں خالص تھیں اور کئی دکاندار اپنے گاہک کو دعا بھی دیا کرتے تھے۔ اگر یہ شہر اسپین یا اٹلی میں ہوتا تو یقین کریں وہاں کے لوگ اور حکومت اس کو اس کی قدیم روایات کے ساتھ زندہ رکھتے۔ کاش اس شہر کی پرانی روایات اور کلچر کو کوئی دوبارہ زندہ کر دے۔ وہ لوگ، لوگ نہ رہے۔ وہ لاہور، لاہور نہ رہا۔

منٹو پارک اور آج کا اقبال پارک، اس میں لوگ پتنگیں اڑایا کرتے تھے۔ ایک طرف اکھاڑہ تھا جہاں پر نئے اور پرانے پہلوان کشتی کرتے تھے ایک طرف بیڈ منٹن کا کورٹ تھا جہاں مسلم ماڈل اسکول کے استاد نور محمد اور ہم کئی کئی گھنٹے بیڈ منٹن کھیلا کرتے تھے سب کچھ تو تباہ ہو گیا۔ کئی اسکولوں میں گتکا بازی سکھائی جاتی تھی۔ جمناسٹک اور پی ٹی تو تقریباً ہر بڑے اسکول میں ہوتی تھی۔ شہر کی فضا آج کے مقابلے میں کئی گنا صاف اور صحتمند تھی۔ میونسپل کارپوریشن کی صفائی والی گاڑیوں نے شہر کو آج کے مقابلے میں زیادہ صاف ستھرا کیا ہوا تھا۔ گلیوں میں چونا پھینکا جاتا تھا تاکہ بیماریاں نہ پھیلیں۔ پانی والا تالاب کے پاس آج بھی بلاقی شاہ کی حویلی ہے جس پر ہم نے خود بلاقی بینک کا نام دیکھا ہے۔ اس حویلی کو ابھی چند برس قبل میں نے اپنے کزن ڈاکٹر دانیال ناگی کے ساتھ دیکھا تھا۔ اس میں آج بھی 1940ء کا چھت کا پنکھا چل رہا ہے۔ بجلی کے قدیم سوئچ آج بھی کام کر رہے ہیں۔ ایچی سن کالج کے پرنسپل کے گھر میں جو بجلی کے قدیم سوئچ لگے ہوئے ہیں وہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *