آج کل

ہرنیا کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے…؟

ہرنیا کیا ہے؟ اگر کوئی شخص پیٹ میں گانٹھ محسوس کرتا ہے تو یہ ہرنیا ہو سکتا ہے۔ گانٹھ شروع میں نرم چھوٹا اور بغیر کسی درد کے ہو سکتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد اس کو تھوڑی تکلیف اور سوجن بھی ہو سکتی ہے۔

ہرنیا کیوں اور کیسے ہوتا ہے؟ ہرنیا اس وقت ہوتا ہے جب پیٹ کے اعضا کا ایک حصہ جیسے آنت، آنتوں یا مثانے یا پیٹ میں موجود فیٹی ٹشوز کمزور جگہ کے ذریعے دھکے کھاتے ہیں یا پیٹ کے پٹھوں میں آنسو ہوتے ہیں۔ گانٹھ یا بلچ کا مواد آنت یا فیٹی ٹشو ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھی پیٹ کی دیوار میں اس گانٹھ کو آؤٹ باٹوپنگ کہا جاتا ہے۔

ہرنیا عام طور پر پیٹ کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پیٹ کی دیوار کمزور یا پتلی ہوتی ہے یا تو اسی وجہ سے کہ جگہ پہلے سے کمزور ہے یا کسی خرابی کے عمل کی وجہ سے یہ جگہ کمزور ہو جاتی ہے۔ اور پیٹ کی دیواریں پتلی ہو جاتی ہیں۔ اور پیٹ کے اندر دباؤ بڑھ جاتا ہے جیسے کھانسی آنے سے پیٹ پر دباؤ پڑتا ہے یا کوئی وزن اٹھانے سے تو ہرنیا ظاہر ہو سکتا ہے۔

یہ مواد عام طور پر آنتوں کی نالی یا پیٹ کا حصہ تشکیل adipose ٹشو کی ایک اندرونی سطح پرت ایک پتلی جھلی جس کا بنیادی مقصد کی طرف سے احاطہ ہرنیا کسی بھی علامت کے بغیر اظہار کرسکتے ہیں اور کبھی کبھار ناقابل برداشت درد کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ تقریباً ہر معاملے میں ہرنیا دوران خون کے مسائل کا ایک حصہ ہے جہاں خون کے مسائل کی خلاف ورزی شروع ہو جاتی ہے کہ کسی خون کی سپلائی کم کہیں زیادہ یا خون کی کوئی اور پرابلم پیدا ہو جاتی ہے وہاں پر ہرنیا کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

جب ہرنیا کمزور حصے سے نکل کر باہر آجاتا ہے اس سوراخ کے ذریعے یہ ان کی مکمل کلیمنگ کے نئے کافی طاقت کے ساتھ خون کی وریدیں سکیڑنے لگتا ہے خون کی خرابی کی شکایت ہرنیا کے مسئلے کے ساتھ ساتھ حل کیا جاتا ہے۔ ہمارے جسم کو آکسیجن کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا درد اچانک اٹھتا ہے اور اس میں آکسیجن کی کمی پیدا کرسکتا ہے۔ اگر فوری طور پر آکسیجن دستیاب نہ ہو تو مریض کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے کہ دیگر پیچیدگیوں کے باعث مریض مر سکتے ہیں اس میں تاخیر بالکل نہیں کرنی چاہیے اور جتنی جلدی ممکن ہو، ہرنیا کا علاج شروع کردینا چاہیے۔

ہرنیا کیسے شکار بناتا ہے…؟

ہرنیا ایک ایسا مرض ہے جو زیادہ تر مردوں میں عام ہوتا ہے لیکن خواتین بھی اس کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اس مرض میں پیٹ کے کمزور حصے سے آنتیں یا دیگر اعضا پیٹ کے باہر خارج ہو کر جلد کے نیچے ایک تھیلی کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ عام طور پر ہرنیا شکم میں ہوتا ہے مگر یہ ناف، ران کے اوپری حصے اور gorim کا حصہ بھی ہو سکتا ہے یہ پیدائشی بھی ہو سکتا ہے تاہم زیادہ تر یہ عمر کے 30 یا 40 کے بعد سامنے آتا ہے۔

پانی پیئے بغیر انسان کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟

ہرنیا کی وجوہات

ہرنیا اس وقت کسی کو شکار بنا سکتا ہے جب کمزور مسلز یا مسلز میں کمزوری جسم کے اندر ٹشوز کے ٹوٹنے اور مرمت کے قدرتی طریقے میں مداخلت کا باعث بن جائے۔ عمر میں اضافہ، دائمی کھانسی اور سرجری کی وجہ سے مسلز کا کمزور ہو جانا۔ بہت زیادہ بوجھ اٹھانا۔ زیادہ تر قبض کا رہنا۔ معدے میں سیال کا اجتماع یا اس حصے کی سرجری سے بھی یہ خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ہرنیا کی علامات

اس مرض کی سب سے عام علامت متاثرہ حصے میں ایک گلٹی ابھرنا ہے۔ علامت نہ ہونے والے شخص کی ڈاکٹر علاج کے دوران کمر یا پیٹ میں گانٹھ کا پتا لگا سکتے ہیں۔ عام طور پر ہرنیا والے افراد دباؤ سے اور زیادہ جھکنے سے کھانسی سے کسی قسم کے تناؤ سے درد محسوس کرتے ہیں جب مریض کھڑا ہوتا ہے تو اس گانٹھ کو صاف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہرنیا جب معمولی ہوتا ہے جب کی علامت ہے اس وقت اس کو پیٹ میں دھکیل دیا جاسکتا ہے جب کوئی شخص کھڑا ہوتا ہے تو کشش ثقل کی کھینچنے کی وجہ سے گانٹھ خاص طور پر چیک کی جاسکتی ہے اس وقت یہ بہت نمایاں ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ سرجری میں کوئی بھی غلطی ہو جائے اور مکمل شفا نہ ہو، سرجری میں چیرا جتنا زیادہ بڑا لگایا جاتا ہے ہرنیا کے امکانات اتنے زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ بعض کے خاندان کی ہسٹری میں ہرنیا ہوتا ہے بعض بچوں کی قبل از پیدائش بھی ہرنیا کا سبب بن سکتی ہے۔ جن لوگوں کو پیٹ کے ایک طرف ہرنیا ہوتا ہے ان کے دوسری طرف بھی ہرنیا ہو سکتا ہے۔

ہرنیا کو اندر نہیں دھکیلا جاسکتا ہے اور ہرنیا کو کم بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگر اللہ نہ کرے ٹشو آنتوں میں پھنس جائے اور خون کی فراہمی منقطع ہو جائے، اگر ایسا ہو تو درد کا بہت بڑھ جانا، متلی، الٹی کا ہونا اس شخص کو بخار بھی ہو سکتا ہے، یہ ایک طبی ایمرجنسی مرض ہے اس قسم کے ہرنیے کے لیے فوری طور پر آپریشن کرنا پڑتا ہے۔

ہرنیا کی اقسام

Inguinal or groin hernia یہ سب سے عام قسم ہے جو امریکا میں 2 فی صد مردوں میں پائی جاتی ہے۔

باالواسطہ ہرنیا

جو قبل ازپیدائش خصیص کی نشوونما کے دوران پایا جاتا ہے اور پیٹ سے خراش میں آتا ہے۔ یہ راستہ عام طور پر پیدائش سے پہلے ہی بند ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ inguinal اسٹروٹم میں پھیل سکتا ہے۔ یہ کسی بھی عمر کے لوگوں کو ہو سکتا ہے۔

براہ راست ہرنیا

براہ راست ہرنیا بالواسطہ ہرنیا کے سائیڈ کے اندر سے تھوڑا سا ہوتا ہے اس جگہ جہاں پیٹ کی دیوار قدرتی طور پر قدرے پتلی ہوتی ہے یہ شاذ و نادر ہی اسکاچ میں پھیل پاتا ہے۔ یہ ہرنیا ہمیشہ درمیانی عمر کے بوڑھے لوگوں میں ہوتا ہے کیونکہ پیٹ کی دیواریں عمر کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ہرنیا کی اور بھی متعدد اقسام ہیں۔

چیراسی ہرنیا

اگر پیٹ کی سرجری ہو اس کے بعد ہرنیا ہو جائے تو اس کو چیراسی ہرنیا کہتے ہیں۔ ان علامات میں درد، معدے کی مستقل کچھ نہ کچھ پرابلم، پیٹ کی تکمیل کا مسلسل احساس عام طور پر اس ہرنیا کی سرجری ہوتی ہے۔

ہیٹل ہرنیا

جب پیٹ کے اوپری حصے کا ایک حصہ ڈایا فرام کے ذریعے جاتا ہے۔ عام طور پر ڈایا فرام معدے کو مضبوطی سے اپنی جگہ پر رکھتا ہے لیکن اگر کسی بھی قسم کا نقص پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے پیٹ اوپر کی طرف بڑھ جائے۔ اس کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ ہرنیا کی یہ اقسام اکثر معدے کی بیماری کا سبب بنتی ہیں اس میں بھی آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے کیونکہ ڈایا فرام کے ذریعے آنتوں یا پیٹ کا ایک بڑا حصہ جا رہا ہوتا ہے۔ اگر ہرنیا اتنا نہ بڑھا ہو کہ آپریشن کی ضرورت پڑے تو آپ احتیاط کریں۔

فیموریل ہرنیا

یہ شرونی کے نچلے حصے میں اندرونی ران کے قریب اور تمام طور پر جسم کے دائیں جانب ہوتا ہے۔ یہ قسم غیر معمولی ہے۔ ہرنیا کی تمام اقسام میں سے یہ 3 فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔ اس قسم کا ہرنیا مردوں کے مقابلے میں خواتین کو زیادہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کمر میں درد محسوس کرتے ہیں جہاں عام طور پر فیمورل ہرنیا ہوتا ہے تو اس کا علاج کروائیں۔ یہ کم ہوتا ہے لیکن اس سے موت واقع ہو سکتی ہے۔

اپیگیسٹرک ہرنیا

یہ شرٹ کا جو بٹن پیٹ پر آتا ہے اس سے تھوڑا اوپر پسلیوں کا جو پنجرہ ایسا بنا ہوتا ہے اس کے نیچے ہوتا ہے۔ یہ ہرنیا زیادہ جگہوں پر پایا جاتا ہے بچوں اور بڑوں سب میں ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ علامات کا سبب نہیں بنتا کبھی علامات ملتی ہیں اور کبھی بالکل نہیں ملتیں۔ کبھی یہ بہت کم جگہ پر چھوٹا سا ٹکڑا محسوس ہوتا ہے اور کبھی بہت بڑی جگہ پر ہوتا اور بہت بڑا ٹکڑا محسوس ہوتا ہے اس کا واحد علاج سرجری ہے۔

نال ہرنیا

یہ حالت بچوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔ عموماً 4 سال کی عمر سے بڑے بچوں میں۔ یہ عام طور پر آنتوں کی حرکت کے دوران، کھانسی یا تناؤ یا زیادہ دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے اگر اچانک شدید درد اور قے کی علامات ہوں تو فوراً ڈاکٹر کے پاس جائیں۔

ہرنیا سے متعلق درد یا متلی جیسی علامات کو نظرانداز نہ کریں یہ علامات اشارہ کرتی ہیں کہ آپ کے ٹشوز میں خون کا بہاؤ نہیں ہو رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *