آج کل

مومن کی صفات کیا ہیں؟

اللہ کس سے نفرت کرتا ہے… ؟

اگر کوئی کہتا ہے کہ اللہ بے پناہ محبت کرنے والا ہے تو بڑی نارمل سی بات لگتی ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں اللہ ہی ایک ایسی ذات ہے جو انسان سے بے پناہ محبت کرتا ہے لیکن اگر کوئی کہے کہ اللہ کس سے نفرت کرتا ہے تو یقینٙٙا سننے میں کچھ عجیب سا لگتا ہے کہ اللہ کس سے نفرت کرتا ہے کیونکہ اللہ تو اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔

ہم بچپن سے یہی سنتے آرہے ہیں کہ اللہ اپنے بندے سے ستر ماوں سے بڑھ کر محبت کرتا ہے ۔۔ پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ اللہ اپنے کسی ایک بندے سے نفرت بھی کرے ۔۔ وہ رب تعالی جو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے وہ اگر اپنے بندے سے نفرت کرے گا تو یقینٙٙا اس کی کوئی بڑی وجہ ہوگی۔
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا
” قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاق حسنہ سے بھاری کوِئی چیز نا ہو گی اور اللہ تعالی بے حیا اور بدزبان سے نفرت کرتا ہے ” جامع ترمذی
آج میں نے حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کی بڑی زبردست بات پڑھی وہ فرماتے ہیں کہ اللہ بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں، فرماتے ہیں کہ دو کاغذوں کو جب گوند سے جوڑا جاتا ہے تو ایک کاغذ دوسرے کاغذ کے قریب ہوجاتاہے لیکن ان کو جوڑنے والی گوند کاغذ اول کی بنسبت کاغذ ثانی سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔انسان کی شہ رگ انسان کے قریب ہے تو اللہ فرما رہے کہ میں انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوں۔

دو جڑے ہوئے کاغذوں میں سے ایک کاغذ دوسرے کے قریب ہے لیکن گوند دوسرے کاغذ کے زیادہ قریب ہے ،اسی طرح شہ رگ انسان کے قریب ہے لیکن اللہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اتنی محبت کرنے والا وہ عظیم رب تعالی جو بندے کے سینکڑوں گناہوں کے باوجود اسکی معافی کا انتظار کرتا ہے وہ محبت کرنا نہیں چھوڑتا لیکن کچھ برے کاموں کو شدید ناپسند کرتا ہے۔

وہ کہتا ہے وہ حقوق اللہ تو معاف کر دے گا مگر حقوق العباد معاف نہیں کرے گا کیونکہ تمام انسان اس کے لئے برابر ہیں ابھی چند دن پہلے ہی کی بات ہے میں ایک ایسی لڑکی سے ملی جو غریب والدین کی اکلوتی اولاد تھی ۔ باتوں باتوں میں کہنے لگی کیا اللہ اپنے کسی بندے سے نفرت بھی کر سکتا ہے؟ اس کے منہ سے یہ سن کر میں حیرت زدہ ہوئی اور پھر میں نے مسکرا کر کہا نہیں اللہ اپنے بندے سے نفرت کر ہی نہیں سکتا وہ تو صرف محبت کرنے والی ذات ہے ۔ میری یہ بات سن کر وہ کہنے لگی کہ کیا اللہ تعالی سب کچھ کر سکتا ہے ؟ میں نے کہا جی اللہ سب کرسکتا ہے آپ نے سنا نہیں اللہ تو خود فرماتا ہے کہ
” ان اللہ علی کل شیءِِ قدیر ”
بے شک اللہ ہر شے پر قادر ہے ۔
اب کی بار وہ نم آنکھوں کے ساتھ بولی اگر اللہ سب کرسکتا ہے وہ ہر شے پر قادر ہے اور محبت بھی اپنے سارے بندوں سے کرتا ہے تو اللہ نے لوگوں میں فرق کیوں رکھا ؟ پھر لمحہ بھر رک کر دوبارہ بولی فرق مطلب اللہ نے کائنات کے سارے لوگوں کو ایک سا کیوں نہیں بنایا ؟ کسی کو امیر کسی کو غریب کسی کو تندرست کسی کو توانا ۔۔۔۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں میں فرق کیوں رکھا؟

میں نے کہا اللہ اپنے سارے بندوں سے یکساں محبت کرتا ہے ہاں اس نے لوگوں میں فرق رکھا تاکہ لوگ اسے بھول نا جائیں ۔۔۔ پھر میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا دیکھو اگر کائنات کے سارے لوگ ایک ہی جیسے امیر اور تندرست ہوتے تو کیا وہ اللہ کو یاد رکھتے ؟ آپ اندازہ لگاو ہم عام سے انسان ہیں لیکن کچھ لوگ ہمارے دل کے بہت قریب ہوتے ہیں جیسے کہ ہماری فیملی دوست احباب عزیز و اقارب وغیرہ لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی اگر ہمیں اگنور کرتا ہے تو ہمیں کتنا برا محسوس ہوتا ہے اور کوئی کتنا بھی قریبی کیوں نا ہو جب ہم اسے یا وہ ہمیں وقت نہیں دے گا تو دل بدل جاتے ہیں ایسے رشتوں سے دور ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا ۔ اللہ تبارک و تعالی کی وہ پاک ذات بھی اپنے بندوں کا وقت چاہتی ہے ۔

محبت میں سب سے نایاب اور قیمتی شے وقت اور عزت ہے ۔ اللہ تعالی محبت تو سبھی انسانوں سے کرتا ہے ہاں لیکن کچھ لوگ اللہ کے بہت قریب ہوتے ہیں کیونکہ وہ عبادت گزار اور فرمانبردار ہوتے ہیں اس لیئے اللہ ان سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اللہ اپنے باقی بندوں سے نفرت کرتا ہے ۔۔ اللہ تو نام ہی محبت ہے ۔ اللہ کے علاوہ بھی کیا کوئی محبت کر سکتا ہے ؟
وہ لڑکی اب بالکل خاموشی سے تسلی سے اور نہایت اطمینان سے اور پوری توجہ سے میری ساری بات سن رہی تھی۔

پھر میں نے اس سے پوچھا اچھا ایک بات بتاو تمہارے زہن میں ایسا خیال کیوں آیا کہ اللہ جسے زیادہ دولت سے نوازتا ہے یا جسے زیادہ صحت و تندرستی عطا کرتا ہے وہ اس سے زیادہ محبت کرتا ہے؟ تو کہنے لگی میں ایک بہت غریب سی لڑکی ہوں میری ماں بہت بڑے گھر میں کام کرتی ہے باپ بیمار ہے میرے چار بہن بھائی ہیں میں جب اپنی فیملی کو دیکھتی ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے تو مجھے لگتا ہے اللہ ہم سے ناراض ہے وہ ہم سے محبت نہیں کرتا کیونکہ اگر وہ ہم سے محبت کرتا تو یقینٙٙا وہ ہمیں اتنی تکلیف سے نا گزارتا ۔ پھر کہنے لگی ہم تو انسان ہیں لیکن پھر بھی ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسے تکلیف نہیں دیتے۔

پھر میں نے اسے پانی کی بوتل تھماتے ہوئے کہا دیکھو اللہ سبھی لوگوں کو نہیں آرماتا بلکہ وہ اپنے چند نہایت خاص لوگوں کو آزماتا ہے اور جب وہ اس کی آزمائش پر پورے اتر جاتے ہیں تو وہ اللہ کے پسندیدہ بندے بن جاتے ہیں یقینٙٙا اللہ آپ سب کو آزما رہا ہے تو اس حساب سے آپ کی فیملی اللہ کے زیادہ قریب ہے۔

آپ نے بتایا کہ آپ کے والد محترم بیمار ہیں کیا آپ کو معلوم ہے اللہ جب کسی کو دنیا میں تکلیف سے دوچار کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اس کی تکالیف کو دور کر دیتا ہے۔ کیا یہ اچھی بات نہیں کہ آخرت میں آپ کی فیملی جنت کے حسین ترین باغوں کی سیر کر رہی ہو گی۔ میری اس بات پر وہ مسکرا دی۔ اور پھر اسکی چھوٹی بہن اسے آوازیں دینے لگی اور وہ واپس چلی گئی

زندگی بدلتی رہتی ہے حالات واقعات بدلتے رہتے ہیں بعض اوقات ہم مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ مایوسی گناہ ہے لیکن ہم مایوس ہو جاتے ہیں ۔ اللہ پر ہمارا ایمان کامل ہونا چاہیئے کہ وہ جو کرتا ہے جس حال میں اپنے بندے کو رکھتا ہے وہ بہترین ہے وقتی طور پر ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہوتا لیکن اللہ کا ہر فیصلہ ہمارے آج اور ہمارے کل کے لیئے بہترین ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے اور اپنے بچوں کے اندر پوزیٹیویٹی لانی ہو گی ۔ہمیں اپنے اندر خواب پیدا کرنے ہوں گے اور اپنے بچوں کے اندر بھی خواب پیدا کرنے ہوں گے مگر یاد رہے حقیقت پر مبنی ۔۔۔۔۔

زونیرہ عامر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *