زندگی گزارنے اور زندگی جینے میں کیا فرق ہے…؟

زندگی گزارنے اور زندگی جینے میں کیا فرق ہے…؟

آجکل ہر دوسرا بندہ ڈپریشن کا شکار ہے۔ جسے دیکھو سر پکڑ کر بیٹھا ہے۔ ہر شخص کی زندگی دوسرے سے مختلف ہے اور الگ پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے۔

کسی کو کاروبار کی ٹینشن تو کسی کو رشتے بنانے کی ٹینشن تو کسی کو رشتے نبھانے کی ٹینشن۔ کسی کو پڑھائی کی ٹینشن تو کسی کو کچھ ہر بندہ پریشان حال دکھائی دیتا ہے۔ خوشیاں جیسے کھو سی گئی ہیں یا ہم انسان جینا بھول گئے ہیں۔ زندگی اس قدر مصروف ہو چکی ہے کہ آپ کے پاس اپنے لیئے بھی وقت نہیں۔

نفسیاتی بیماریوں میں بے پناہ اضافہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ صرف یہی ہے۔ ” اپنے عزیزوں پیاروں کو وقت نہ دینا یا اپنے عزیزوں پیاروں سے وقت نہ ملنا ہے ” زندگی گزارنے کے لیئے یہ سب کافی ہے لیکن زندگی جینے کے لیے نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی گزارنے اور زندگی جینے میں آخر فرق ہی کتنا ہے۔ زندگی جیئو یا گزارو ایک ہی تو بات ہے۔ لیکن میرے نظریے کے مطابق یہ ایک بات نہیں ہے۔ بلکہ ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔

زندگی گزر تو رہی ہی ہے اور گزر پی جاتی ہے چاہے اچھی ہو یا بری آسان ہو یا کٹھن۔ لیکن زندگی جینے کا مطلب ہے کہ زندگی کو اپنی شرطوں پر گزارنا۔ اپنی مرضی سے جینا آزادی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی کا ہر پل کھل کر جینا۔

زندگی کو جینے کے لیے زنسگی میں اپنوں کا ہونا محبت کا ہونا احساس کا ہونا اور عزت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمارے اردگرد ” اپنے ” ہوتے ہیں اور ان اپنوں میں کچھ بہت ہی قریبی اپنے ہوتے ہیں یا کوئی ایک شخص بہت ہی اپنا بہت ہی خاص ہوتا ہے اور اسی ایک شخص کے ساتھ پوری لائف کھل کر جیئا جا سکتا ہے۔

جب کوئی شخص آپ کو دکھ دیتا ہے تو آپ برداشت کر جاتے ہیں لیکن جب کوئی بہت قریبی جان سے پیارا شخص آپ کو دکھ دیتا ہے تو آپ کی برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔ رشتوں میں محبت کے ساتھ ساتھ دوستی کا ہونا نہایت اہم امر ہے۔ کم محبت کے ساتھ تو جیا جا سکتا ہے لیکن ڈر کے، سسک کے، بغیر عزت و دوستی کے زندگی گزاری تو جا سکتی ہے لیکن زندگی کو جیا نہیں جا سکتا۔

اس لیے کوشش کریں کہ تعلقات کو بیلنس رکھیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کے اردگرد موجود آپ کا ہر رشتہ آپ کے ساتھ سنسیئر ہو۔ ضروری نہیں کہ ہر شخص آپ سے محبت کرنے والا ہو ۔ اور ضروری تو یہ بھی نہیں کہ آپ جس سے محبت کرتے ہیں اس کے دل میں بھی آپ کے لئے اتنی ہی محبت پائی جاتی ہو۔
شکوے تو ہر رشتے میں ہوتے ہیں ، ہم خو  مکمل نہیں ہوتے لیکن ہم رشتے مکمل چاہتے ہیں.

رشتوں کی قدر صرف اس وقت آتی ہے جب وہ رشتے دور ہو جاتے ہیں ۔۔ آپ کی پہنچ سے کوسوں دور بہت ہی دور اور ضروری نہیں کہ آپ سے محبت کرنے والا شخص ہمیشہ ہی آپ کی محبت میں گرفتار رہے گا۔

لوگوں کو بدلتے ہوئے آخر وقت ہی کتنا لگتا ہے ۔ اپنے ہر رشتے کو وقت دیجیئے ، عزت کیجیئے ، قدر کیجیئے ۔ اپنی میں سے باہر نکلیں محبت کرنے والے بنیں محبت بانٹنے والے بنیں اور زندگی کے ہر پل کو خوشی سے جینا سیکھیں۔ ایک بات یاد رکھیں سب کچھ ہمیشہ آپ کی مرضی سے نہیں ہو گا نا ہو سکتا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ دنیا ایسی ہی رہے گی کچھ لوگوں کا تو کام ہی دل دکھانا ہونا ہے ایسے لوگوں کو جب آپ جان لیں تو انہیں ان کے حال پہ چھوڑ دیں کیونکہ کچھ لوگوں کو مر کے بھی آپ اپنا نہیں بنا سکتے۔

سب کی فکر کیجیئے لیکن سب کی فکر کرتے کرتے آپ اپنی فکر چھوڑ دیں تو یہ بھلا کہاں کی عقل مندی ہے۔ بحث و مباحثے سے دور رہیئے اور اپنی اس مختصر سی زندگی کو مطمئن ہو کر خوشی کے ساتھ گزاریں ۔ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اور اپنے بھی ان کی قدر کیجیئے۔

زونیرہ عامر

Leave a Reply