محرم الحرام اللہ تعالٰی کا محترم مہینہ ۔۔۔

محرم الحرام اللہ تعالٰی کا محترم مہینہ ۔۔۔

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے یعنی محرم سے ہجری سال کا آغاز اور ذی الحجہ پر ہجری سال کا اختتام ہوتا ہے، نیز محرم الحرام ان 4 مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیئے ہیں۔ اس ماہ کو حضور اکرم نے اللہ تعالیٰ کا مہینہ قرار دیا ہے۔

یوں تو سارے ہی دن اور مہینے اللہ تعالیٰ کے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے سے اس کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے ۔ ماہ محرم کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس مہینے کا روزہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم نے فرمایا : ’’ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ تعالیٰ کے مہینہ محرم کا روزہ ہے ۔ ‘‘(ترمذی) ۔ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا : ’’ماہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے ماہ محرم الحرام کے روزے ہیں ۔ ‘‘(صحیح مسلم)۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور اکرم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک صاحب نے آکر پوچھا یا رسول اللہ ! رمضان کے مہینہ کے بعد کس مہینے کے روزے رکھنے کا آپ مجھے حکم دیتے ہیں تو حضور اکرم نے فرمایا : ’’ اگر رمضان کے مہینہ کے بعد تم کو روزہ رکھنا ہو تو محرم کا روزہ رکھو اس لئے کہ یہ اللہ کا مہینہ ہے ،اس میں ایک دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی اور دوسرے لوگوں کی توبہ بھی قبول فرمائیں گے۔‘‘(ترمذی)۔ جس قوم کی توبہ قبول ہوئی وہ قوم بنی اسرائیل ہے جیساکہ اس کی وضاحت حدیث میں ہے کہ عاشورہ کے دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی تھی۔

عاشورہ کا روزہ : محرم الحرام کی10ویں تاریخ کو عاشورہ کہا جاتا ہے جس کے معنیٰ ہیں دسواں دن۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت اور برکت کا حامل ہے۔ اس دن حضور اکرم نے روزہ رکھا تھا اور مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔ پہلے تو یہ روزہ واجب تھا پھر جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو مسلمانوں کو اختیار دے دیاگیا کہ چاہیں یہ روزہ رکھیں یا نہ رکھیں البتہ اس کی فضیلت بیان کردی گئی کہ جو روزہ رکھے گا اس کے سال گزشتہ کے چھوٹے گناہ معاف کردیئے جائیں گے

پہلے یہ روزہ ایک دن رکھا جاتا تھا لیکن یہودیوں کی مخالفت کے لئے حضور اکرم نے فرمایا : ’’ اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو انشاء اللہ نویں محرم کو بھی روزہ رکھوں گا ۔‘‘ لیکن اس خواہش پر عمل کرنے سے قبل ہی آپ کا وصال ہوگیا۔ عاشورہ کے روزہ سے متعلق احادیث : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے لوگ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور عاشورہ کے دن بیت اللہ کو غلاف پہنایا جاتا تھا۔جب رمضان فرض ہوا تو حضور اکرم نے فرمایا : ’’ جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ ‘‘( بخاری)۔
دوسری روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ قریش جاہلیت میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور حضور اکرم بھی اس وقت یہ روزہ رکھتے تھے۔

جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں بھی روزہ رکھا اور اس روزہ کا بھی حکم دیا ۔ جب رمضان فرض ہوا تو عاشورہ (کے روزے کا حکم) چھوڑ دیا گیا کہ جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے ۔‘‘ ( بخاری)۔ حضرت رُبیع بنت مُعوِذ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم نے عاشورہ کی صبح انصار کے گاؤں میں اعلان کروایا کہ: ’’جس نے صبح کو کھاپی لیا ہو وہ بقیہ دن پورا کرے (یعنی رکا رہے )اور جس نے ابھی تک کھایا پیا نہیں ہے وہ روزہ رکھے ۔ ‘‘ سیدہ ربیع ؓفرماتی ہیں کہ وہ بھی یہ روزہ رکھتی تھیں اور اپنے بچوں کو بھی روزہ رکھواتی تھیں اور ان کے لئے اون کا کھلونا بناتی تھیں ،جب کو ئی بچہ کھانے لئے روتا تویہ کھلونا اس کو دے دیتیں یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوتا ( بخاری و مسلم)۔

حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم نے عاشورہ کے دن ایک آدمی کو بھیجا جو لوگوں میں یہ اعلان کررہا تھا کہ جس نے کھالیاوہ پورا کرے یا فرمایا بقیہ دن کھانے پینے سے رکا رہے اور جس نے نہیں کھایا وہ نہ کھائے ( یعنی روزہ رکھے ) (بخاری ) ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دیکھا کہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں ۔ آپ نے دریافت فرمایا: ’’ یہ کیا ہے ؟ ۔‘‘

یہودیوں نے کہا یہ اچھا دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو غلبہ اور کامیابی عطا فرمائی، ہم اس دن کی تعظیم کے لئے روزہ رکھتے ہیں۔ حضور اکرم نے فرمایا: ’’ ہم تم سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام )کے قریب ہیں۔‘‘ پھر آپ نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا(بخاری ) ۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ یہودی عاشورہ کی تعظیم کررہے ہیں اور اس دن روزہ رکھتے ہیں، اس کو عید بنارہے ہیں۔

امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

آپ نے فرمایا : ’’ہم اس روزہ کے زیادہ حقدار ہیں۔ ‘‘ پھر آپ نے مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا (بخاری)۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم کو کسی دن کے روزہ کا اہتمام اور قصد کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے عاشورہ کا روزہ اور رمضان کے مہینے کا (بخاری)۔ یعنی ان روزوں کا آپ بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لئے تشریف لائے تو حضور اکرم کے منبر پر عاشورہ کے دن (کھڑے ہوکر) فرمایا: ’’اے اہل مدینہ کہاں ہیں تمہارے علماء! میں نے حضور اکرم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کا روزہ فرض نہیں کیا ، میں روزے سے ہوں، جو چاہے روزہ رکھے جوچاہے روزہ نہ رکھے۔‘‘ (بخاری)۔ عاشورہ کے روزہ کا ثواب : رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : ’’مجھے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ جو شخص عاشورہ کے دن کا روزہ رکھے گا تو اس کے پچھلے ایک سال کے گناہ کا کفارہ ہوجائیگا۔‘‘ (بخاری)۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا :’’ عاشورہ کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ سال گزشتہ کے گناہ معاف فرمادیں گے۔‘‘ (ترمذی )۔

ان احادیث میں گناہ سے صغائر گناہ مراد ہے، کبائر گناہ کے لئے توبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ عاشورہ کا روزہ رکھنے کا طریقہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اکرم نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور لوگوں کو اس کا حکم دیا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہودونصاریٰ اس دن کی تعظیم کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا:’’ اگر آئندہ سال زندہ رہا تو ان شاء اللہ نویں کو (بھی) روزہ رکھوں گا ۔‘‘لیکن آئندہ سال آپ کا وصال ہوگیا (مسلم )۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا : ’’ عاشورہ کا روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کرو،ایک دن پہلے روزہ رکھو یا ایک دن بعد۔ ‘‘(مسند احمد ) ۔

یہ حدیث بعض نسخوں میں’’ اَو‘‘ کی جگہ پر’’وَ‘‘کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ اگر’’وَ‘‘ (یعنی اور) کے ساتھ روایت ثابت مان لی جائے تو پھر3 روزہ رکھنا ثابت ہوگا۔ اس طرح عاشورہ کے روزے رکھنے کی 4 شکلیں بنتی ہیں یعنی10,9 اور11، تینوں دن روزے رکھ لیں یا 9 اور10 دو دن روزہ رکھ لیں یا 10 اور11دو دن روزہ رکھ لیں۔ اگر کسی وجہ سے 2روزے نہیں رکھ سکتے تو صرف ایک روزہ عاشورہ کے دن رکھ لیں۔

خلاصۂ کلام : حضور اکرم کی حیاتِ طیبہ میں جب بھی عاشورہ کا دن آتا، آپ روزہ رکھتے تھے لیکن وفات سے پہلے جو عاشورہ کا دن آیا تو آپ نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ10محرم کو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں اور یہودی بھی روزہ رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے اُن کے ساتھ ہلکی سے مشابہت پیدا ہوجاتی ہے اِس لئے اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو صرف عاشورہ کا روزہ نہیں رکھوں گا بلکہ اس کے ساتھ ایک اور روزہ 9 یا 11محرم الحرام کو رکھوں گا تاکہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت ختم ہوجائے لیکن اگلے سال عاشورہ کا دن آنے سے پہلے ہی حضور اکرم کا وصال ہوگیا اور آپ کو اس پر عمل کرنے کا موقع نہیں ملا۔

حضور اکرم کے اس ارشاد کی روشنی میں صحابۂ کرام نے عاشورہ کے روزہ کے ساتھ9 یا 11محرم الحرام کا ایک روزہ ملاکر رکھنے کا اہتمام فرمایا اور اسی کو مستحب قرار دیا اور صرف عاشورہ کا روزہ رکھنا خلافِ اولیٰ قرار دیا یعنی اگر کوئی شخص صرف عاشورہ کا روزہ رکھ لے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا بلکہ اس کو عاشورہ کا ثواب ملے گا لیکن چونکہ آپ کی خواہش2 روزے رکھنے کی تھی اس لئے اس خواہش کے تکمیل میں بہتر یہی ہے کہ ایک روزہ اور ملاکر2 روزے رکھے جائیں۔

Leave a Reply