کابل کیلئے کمرشل پروازیں شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، ترجمان پی آئی اے

کابل کیلئے کمرشل پروازیں شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، ترجمان پی آئی اے

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن(پی آئی اے) نے پاکستان سے کابل کے لیے کمرشل فلائٹس چلانے کی رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کے لیے پروازیں شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت ہے۔

ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ نے پی آئی اے کے کابل آپریشن سے متعلق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کابل کے لیے کمرشل پروازیں شروع کرنے کی خبر درست نہیں، پی ائی اے کابل کی عمومی پروازیں شروع کرنے کا خواہش مند ہے مگر ابھی اس میں کچھ وقت ہے اور فی الحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کابل میں موجود چند اداروں نے پی آئی اے سے چارٹر پروازیں چلانے کے لیے رابطہ کیا ہے اور ہم نے اس کے لیے اجازت نامے طلب بھی کر لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پروازوں کی حتمی روانگی کے لیے کچھ انتظامات کی ضرورت ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ہیں۔

ترجمان پی آئی اے نے مزید کہا کہ پروازوں کی روانگی سے قبل اس بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں گی اور چارٹر پروازوں کے حصول کے لیے پی آئی اے کے کابل یا اسلام آباد دفتر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

دنیا کی اجتماعی کوششوں سے ہی افغانستان میں استحکام لا سکتے ہیں: فواد چودھری

اس سے قبل افغان سول ایوی ایشن نے پی آئی اے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‏پی آئی اے کی پہلی تجارتی پرواز 13 ستمبر کو کابل پہنچے گی اور افغان ایوی ایشن اتھارٹی نے لینڈنگ کے لیے این او سی جاری کر دیا۔

بعدازاں خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے کہا تھا کہ انہیں کابل کے لیے فلائٹ پریشن کے سلسلے میں تمام تکنیکی کلیئرنس مل چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی کمرشل فلائٹ 13 ستمبر کو اسلام آباد سے کابل روانہ ہو گی اور سروس کی فراہمی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امدادی ایجنسیوں اور صحافیوں سے 73 درخواستیں موصول ہوئی تھیں جو بہت حوصلہ افزا ہیں۔

گزشتہ دو دنوں کے دوران قطرایئرویز نے کابل سے دو چارٹرڈ فلائٹس چلائیں تھیں جن میں زیادہ وہ غیرملکی یا افغان باشندے شامل تھے جنہیں انخلا کے عمل کے دوران فلائٹس نہیں مل سکی تھیں جبکہ افغان ایئرلائن نے بھی گزشتہ ہفتے سے پروازیں شروع کردی تھیں۔

یاد رہے کہ پی آئی نے افغانستان میں غیریقینی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر 16 اگست کو وہاں کے لیے پروازوں کا سلسلہ روک دیا تھا۔

Leave a Reply