‘پریس گیلری سے متعلق جو بھی فیصلہ ہوا تھا وہ (پی آر اے) کے ساتھ مل کر کیا تھا’

‘پریس گیلری سے متعلق جو بھی فیصلہ ہوا تھا وہ (پی آر اے) کے ساتھ مل کر کیا تھا’

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہےکہ پریس گیلری سے متعلق فیصلہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا۔

حکومت ترجیحی بنیادوں پر سرمایہ کاروں کے مسائل حل کررہی ہے، خالد منصور

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ پریس گیلری سے متعلق جو فیصلہ بھی ہوا تھا وہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے) کے ساتھ مل کر کیا تھا، اطلاعات تھیں کہ مشترکہ اجلاس میں میڈیا گیلری سے ہلڑ بازی ہوگی، نہیں چاہتا تھا وہاں ہلڑ بازی ہو اور میڈیا کے دوست آپس میں لڑ پڑیں، اس سے ہاؤس اور میڈیا دونوں کی توہین ہوتی۔

اسپیکر قومی اسمبلی کاکہنا تھا کہ پی آر اے ہاؤس کی نمائندہ تنظیم ہے اسے روایت کا خیال کرنا چاہیے، کسی بھی صورت میں کسی کو بدتہذیبی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جانب پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اطلاعات ملک سعید اعوان نے اسپیکر سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے اسپیکر سے ملاقات نہیں کی لہٰذا تحقیقات کرائی جائیں کہ اسپیکر نے کس وفد سے ملاقات کی۔

واضح رہےکہ صدر عارف علوی کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر حکومت نے صحافیوں پر پارلیمنٹ کے دروازے بند کردیے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پریس گیلری کو بند کردیا گیا اور صحافیوں کو کوریج کی اجازت نہیں دی گئی جس پر صحافیوں نے شدید احتجاج کیا۔

Leave a Reply