ریپ جیسے موضوعات پر اتنے زیادہ ڈرامے نہیں بنائے جانے چاہیے، نوین وقار

Loading...

اداکارہ نوین وقار کا خیال ہے کہ اس میں کوئی غلط بات نہیں کہ خواتین شادی کے بغیر زندگی گزاریں۔

ملک بھر میں ایک بڑے بریک ڈاؤن کے بعد بجلی کی مرحلہ وار بحالی شروع

کینیڈا میں مقامی پاکستانی صحافی حرا حیدر سے انسٹاگرام پر بات کرتے ہوئے نوین وقار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی بھی خاتون کے لیے زندگی کا سب سے اہم لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہ خود مختاری کے ساتھ اپنے خوابوں کو پورا کرتے ہوئے زندگی گزارے۔

اداکارہ نے واضح کیا کہ ان کے خیال میں شادی کیے بغیر بھی خواتین زندگی گزار سکتی ہیں اور لوگوں کو شادی سے متعلق صرف خواتین سے سوالات نہیں کرنے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خاتون ہونے کے ناطے ان سے ہر کوئی بار بار پوچھتا ہے کہ وہ شادی کب کر رہی ہیں؟ جب کہ ان کے ساتھ اگر 15 مرد بھی ہوتے ہیں تو بھی ان سے شادی سے متعلق نہیں پوچھا جاتا۔

انہوں نے تاحال شادی نہ کرنے والی خواتین کو پیغام دیا کہ وہ شادی کے معاملے پر زیادہ فکرمند نہ ہوں، جب شادی ہونی ہوگی، ہوجائے گی لیکن اگر نہیں ہو رہی تو بھی اس کے بغیر زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کسی بھی غلط شخص سے شادی کرنے سے اچھا ہے کہ تنہا زندگی گزاری جائے۔

طویل انٹرویو کے دوران نوین وقار نے اعتراف کیا کہ اب پاکستانی معاشرے میں والدین کے مزاج میں کچھ تبدیلی ہوئی ہے اور اب ماضی کے مقابلے لڑکیوں پر شادی کے حوالے سے کم دبائو رہتا ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کسی بھی غلط شخص سے شادی کرنے سے اچھا ہے کہ تنہا زندگی گزاری جائے۔

طویل انٹرویو کے دوران نوین وقار نے اعتراف کیا کہ اب پاکستانی معاشرے میں والدین کے مزاج میں کچھ تبدیلی ہوئی ہے اور اب ماضی کے مقابلے لڑکیوں پر شادی کے حوالے سے کم دبائو رہتا ہے۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے ڈراموں اور کیریئر پر بھی بات کی اور کہا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان میں بہت زیادہ ڈرامے ریپ کے موضوع پر بن رہے تھے اور ایک خاتون ہونے کے ناطے انہیں ایک ہی موضوع پر خوفناک ڈرامے دیکھ کر افسردگی بھی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ریپ جیسے موضوعات پر اتنے زیادہ ڈرامے نہیں بنائے جانے چاہیے اور اگر بنائے جائیں تو ان کے اختتام میں ملزمان کو ایسی عبرت ناک حالت میں دکھایا جائے کہ دیکھنے والے لوگ بھی ڈر جائیں۔

Loading...

نوین وقار کے مطابق ملک سے ریپ جیسے جرائم کا خاتمہ اس موضوع پر ڈرامے بنانے سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے بچپن سے ہی بچوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نوین وقار نے بتایا کہ سماج میں خواتین کے لباس کو ان کے کردار سے جوڑ دیا گیا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو جینز پینٹ پہنے گی وہ شریف خاتون نہیں ہوں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ لباس کا کسی بھی خاتون کے کردار سے کوئی تعلق نہیں، کوئی بدکردار خاتون بھی شلوار قمیض جب کہ شریف خاتون پینٹ شرٹ یا مغربی لباس پہن سکتی ہے اور انہیں ان کے لباس پر ٹوکنا غلط ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جب وہ شوبز انڈسٹری میں داخل ہوئیں تو ان سے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ جینز پہنتی ہیں اور وہ بہت ہی تیز لڑکی ہیں۔

نوین وقار نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ یہ سمجھنا بھی غلط ہے کہ چادر پہننے والی خاتون ہی شریف ہوں گی۔

انٹرویو میں انہوں نے خواتین کی خودمختاری اور تعلیم سمیت شوبز انڈسٹری پر بھی کھل کر بات کی، تاہم انہوں نے دوسری شادی یا اپنے تعلقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔

نوین وقار نے 2012 میں ڈراما ساز و اداکار اظفر علی سے شادی کی تھی، تاہم 3 سال بعد نومبر 2015 میں دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی تھی۔

اظفر علی نے نومبر 2015 میں تصدیق کی تھی کہ ان کے اور نوین کے درمیان طلاق ہوچکی اور ساتھ ہی بتایا تھا کہ وہ طلاق سے قبل ہی علیحدہ ہوگئے تھے۔

اپنی طلاقوں اور شادیوں پر اظفر علی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہیں کوئی افسوس نہیں کہ ان کی دو شادیاں ناکام ہوئیں۔

اظفر علی نے انٹرویو میں سلمیٰ حسن اور نوین وقار کے لیے کوئی بھی غلط بات کیے بغیر کہا تھا کہ اب طلاقیں ہوجانے کے بعد وہ آزاد اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔

(Visited 13 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں