اپنے بچوں کو گورنمنٹ سکولوں میں کیوں بھیجا جائے ؟

والدین چاہتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کو بہتر اور اچھے سکولوں میں تعلیم دلوائیں تاکہ بچے کامیاب ہو سکیں اور زندگی میں آگے بڑھ سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں بھی ہر والدین یہی چاہتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اچھے سے اچھے سکولوں میں پڑھائیں اور ایسے میں وہ پرائیویٹ سکولوں کا انتخاب کرتے ہیں لیکن مہنگائی کے اس دور میں والدین یہ خواہش رکھتے ہوئے بھی ایسا نہیں کرسکتے

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے ہمارے ہاتھ میں یہ لکیریں کیوں ہوتی ہیں…؟

 اور پھر وہ اپنے بچوں کو گونمنٹ سکولوں میں بھیج دیتے ہیں کیونکہ گورنمنٹ سکولوں میں نا تو والدین کو اتنی فیس بھرنی پڑتی ہے اور نا ہی کوئی اضافی خرچہ جیسا کہ اکثر پرائیویٹ سکولوں میں ہوتا ہے ۔ والدین سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ سکولوں میں پڑھ لکھ کر ان کے بچے ترقی حاصل کر لیں گے اور ایسا ہوتا بھی ہے لیکن گورنمنٹ سکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچے بھی اگر محنت اور لگن سے کام کریں تو وہ بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔ بہت سارے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے گورنمنٹ سکوں سے تعلیم حاصل کی اور اب اچھی جابز پر فائز ہیں ۔ اور اپنا ، اپنے والدین کا اور وطن کا نام روشن کر رہے ہیں ۔

اسی لیئے کہا گیا کہ پرائیویٹ اور گورنمنٹ سکولوں کی تعلیم یکساں کی جائے تاکہ ہر بچہ اچھی تعلیم حاصل کر سکے اور کسی والدین کی دل آزاری نہ ہو ۔ کوئی والدین یہ نہ سوچیں کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم نہیں دلوا سکتے ۔
اس وقت پنجاب میں بہت سے گورنمنٹ اور پرائیویٹ سکولز جاری ہیں اور لاکھوں بچے بچیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔
پنجاب میں 52035 گورنمنٹ سکولوں میں 3 لاکھ 90 ہزار 782 ٹیچرز تعینات ہیں جبکہ 70 ہزقر سیٹیں ابھی بھی خالی ہیں ۔ ٹیچرز کی کمی کے باعث گورنمنٹ سکولوں کی تعلیم زوال پذیر ہے کیونکہ 28 فروری تک مزید 8 ہزار ٹیچرز ریٹائر ہو جائیں گے ۔
پنجاب میں کل 6674 سکولز ہیں ۔ جن میں 3189 لڑکیاں جبکہ لڑکوں کی تعداد 3485 ہے اور کل 133260 ٹیچرز ہیں ۔ جن میں 65914 خواتین اور 67346 مرد ٹیچرز ہیں ۔

صوبے پنجاب میں کل پرائمری سلوکز کی تعداد 36321 ہے جن میں17095 لڑکے اور 19226 لڑکیاں ہیں ۔ ان میں کل ٹیچرز کی تعداد 142151 ہے ۔ جن میں 58586 مرد اور 83565 خواتین ٹیچرز ہیں ۔ ان میں سے پچاس فیصد ٹیچرز کا محکمانہ کوٹہ اور اوپن میرٹ پر ترقیوں کا نظام بھی مفلوج ہے ۔ ہزاروں ٹیچرز جلد ہی ریٹائر پو جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ۔ پنجاب میں کل 353 اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں ، ایم فل ٹیچرز کی تعداد 29801 ہے ، ایم اے ایم ایس سی ٹیچرز کی تعداد 160700 ہے ، بی اے ٹیچرز کی تعداد 51115 جبکہ انٹرمیڈیٹ 13989 اور 22643 میٹرک پاس ٹیچرز ہیں ۔ میٹرک ٹیچرز پرائمری سکول میں تعینات ہیں میٹرک پاس ٹیچرز کی بڑی تعداد 2021 میں ریٹائر ہو جائے گی ۔
تمام بچوں کا حق ہے کہ وہ اچھی تعلیم حاصل کریں اور اچھی تعلیم حاصل کرنے کے لیئے ضروری تھا کہ وسائل اچھے ہوں کیونکہ پرائیویٹ سکولوں کی فیسیں بھرنا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے سرکاری و غیر سرکاری تمام سکولوں کا کورس ایک جیسا کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ پاکستان کا ہر بچہ تعلیم یافتہ ہو اور کامیابی و کامرانی اس کا مقدر بنے ۔ تعلیم ہمارے معاشرے ، ہمارے ملک کی کامیابی و ترقی کے لیئے اشد ضروری ہے ۔ اور ہمارے لیئے بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کریں ۔ کورس ایک کرنے کا مقصد صرف یہی ہےتاکہ غریب والدین کے بچے بھی اچھی اور معیاری تعلیم حاصل کر سکیں ۔

رپورٹ ؛ زونیرہ شبیر

(Visited 86 times, 2 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں