جمعہ کے دن غسل کرنا کیوں ضروری ہے ؟

جمعہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے ( جمعح ہونا ) ۔ جمع کے دن کی تمام آدم اولاد کو جمع کیا جائے گا ۔ اور اسی دن جضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ زمین پر ملے ۔ جمع کے دن کو ہفتے کے تمام دنوں پر فضیلت حاصل ہے ۔ اس دن کو سید الایام یعنی دنوں کا سردار ، خیر الایام یعنی بہترین دن ، افضل ایام یعنی فضیلت والا دن اور عید ایام یعنی مسلمانوں کی عید کہا جاتا ہے ۔

پرانے وقتوں میں جمعہ کے دن کو عروبہ بھی کہا جاتا تھا یعنی رحمت کا دن ۔

زندگی میں کچھ نیا کیسے سیکھا جائے ….؟

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد پاک ہے کہ

” اے ایمان والو جب جمعہ کے دن جمعے کی اذان دی جائے تو زکر الٰٰہی کی طرف لپکو اور خرید و فروخت ترک کر دو تمہارے لیئے یہی بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ”
( سورة جمعہ : 9 )

حدیث مبارکہ میں جمعہ کے دن کی برکت کے حوالے سے حضور پاکؐ نے فرمایا اس دن تمہارے باپ آدم پیدا ہوئے اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن لوگ قبروں سے اُٹھائے جائیں گے اور اسی دن سخت پکڑ ہوگی۔ (مسند احمد)
جمعہ کے دن کی پانچ خصوصیات سرفہرست ہیں ۔

(۱) جمعے کے دن اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا

(۲) اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر خلیفہ بناکراتارا (۳) اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی وفات ہوئی(۴) اسی دن میں ایک ایسی مقبول گھڑی ہے کہ بندہ اس گھڑی میں اللہ سے حلال پاکیزہ چیز مانگتا تو وہ اس کو ضرور عطا کردی جاتی ہے (۵) اسی دن قیامت آئے گی۔ خدا کے مقرب فرشتے آسمان و زمین، ہوا، پہاڑ، دریا کوئی چیز ایسی نہیں ہے کہ جمعہ کے دن سے لرزتی اور ڈرتی نہ ہو (ابن ماجہ)

حضور پاکؐ کا ارشاد پاک ہے کہ

” جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے عظمت والا دن جمعے کا دن ہے . یہ دن اللہ کے نزدیک عید الفطر اور عید الاضحی سے بھی بڑھ کر مرتبے والا ہے ۔ ”
( ابن ماجہ اور مسند احمد )

جمعہ کے دن کو بہت فضیلت عطا فرمائی گئی ہے ۔ اور جیسے کے بیان کیا گیا ہے کہ اس دن کو تمام دنوں کا سردار کہا گیا ہے ۔ اس لیئے اس دن تمام مسلمان غسل کرتے اور خوشبو لگا کر مساجد کا رخ کرتے ہیں اور نماز جمعہ ادا کرتے ہیں ۔ اور حضور پاکؐ کی سنت مبارکہ ہے کہ جمعہ کے دن غسل کیا جائے اور خوشبو لگائی جائے ۔ لیکن حضور پاکؐ نے جمعہ کے دن کو غسل کرنے کا حکم کیوں فرمایا ؟

پرانے وقتوں میں جب لوگ محنت مشقت کرتے تو وہ اون کا استعمال کرتے تھے یعنی اون زیب تن کیا کرتے تھے ۔ وہ اپنی پیٹھ پر مزدوریاں کرتے تھے ۔ ایک دن حضور پاکؐ جب جمعہ کے دن تشریف لائے اور تمام لوگوں کو اسی بدبو اور پسینے میں پایا تو پھر مسلمانوں کو حکم فرمایا کہ
” اے لوگو جب یہ دن ہوا کرے تو نہا لیا کرو ، اور چاہیئے کہ ہر ایک اپنا بہترین تیل اور خوشبو لگا لیا کرے ” ( ابوداود 160/1

(حدیث. 353)

(زونیرہ شبیر زونی )

(Visited 333 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں